این اے 120 کا ضمنی انتخاب: اب کیا ہو گا؟


سابق وزیر اعظم نواز شریف کی علیل اہلیہ کلثوم نواز نے لاہور کے حلقہ 120 سے قومی اسمبلی کا انتخاب جیت لیا ہے۔ یہ نشست ان کے شوہر کو سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ کلثوم نواز کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے فوری بعد لندن چلی گئی تھیں جہاں گلے کے کینسر کی تشخیص کے بعد ان کا علاج ہو رہا ہے اور فیملی ذرائع کے مطابق وہ تیزی سے رو بصحت ہورہی ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں ان کی بیٹی مریم نواز نے ان کی انتخابی مہم چلائی تھی۔ فوج اور ادراوں کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان بھی دوری کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہے کہ نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف یا ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی بجائے اپنی بیٹی کو ہی اپنا سیاسی وارث بنانا چاہتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ انتخاب مریم نواز کے لئے بھی کڑے امتحان کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کامیابی سے عملی سیاست میں مریم کے آگے بڑھنے کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

حلقہ 120 کے انتخاب کو ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور سپریم کورٹ کے مقابلے میں نواز شریف کی عوامی مقبولیت کا امتحان سمجھا جا رہا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس انتخاب کو نواز شریف بمقابلہ سپریم کورٹ کے طور پر لڑنے کی کوشش کی تھی۔ حلقہ کے ووٹروں کو عمران خان کی طرف سے ایک ذاتی پیغام میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے سپریم وکرٹ کی بالادستی کو مستحکم کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے نواز شریف اور ان کے خاندان کی طرف سے 28 جولائی کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیلوں پر عجلت میں کارروائی کرتے ہوئے جمعہ کے روز ان اپیلوں کو مسترد کرکے نواز شریف کی نااہلی پر مہر تصدیق ثبت کردی تھی۔ اس طرح سپریم کورٹ نے خود بھی یہ تاثر قوی کردیا تھا کہ لاہور کا ضمنی انتخاب سپریم کورٹ کے خلاف نواز شریف کی مہم پر ووٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لئے آج ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کی کامیابی کے بعد مریم نواز نے ووٹروں اور اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مسترد کردیا ہے۔ اس طرح ایک بار پھر ان اندیشوں کی تصدیق ہو گئی ہے کہ اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سیاسی امور میں مداخلت ضروری سمجھے گی تو اس ادارے کو سیاسی بیان بازی اور رسہ کشی کا حصہ بھی بنایا جائے گا۔

اس بات میں شبہ نہیں ہے کہ لاہور کے ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کی کامیابی سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ نہ تو نواز شریف سیاست چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ پاکستانی سیاست میں غیر متعلق ہوئے ہیں۔ انہیں کم از کم پنجاب کی حد تک قابل قدر تعداد میں ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اداروں کی مخالفت اور رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود عوام کی حمایت سے یہ معرکہ سر کیا ہے۔ اس جیت کے بعد مسلم لیگ (ن) میں اس دھڑے کے حوصلے بلند ہوں گے جو اب ملک کی بالادست قوتوں کے ساتھ مفاہمت کی بجائے اپنے ایجنڈے پر سیاست کرنے پر زور دیتا ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ کیا مسلم لیگ (ن) واقعی ایک ایسی پارٹی کے طور پر آئیندہ انتخابات میں اترے گی جو اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرے گی اور یہ واضح سیاسی پروگرام دے گی کہ اگر وہ ایک بار پھر برسر اقتدار آگئی تو وہ سیاست پر فوج کا اثر و نفوذ کم کرنے اور سپریم کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنانے کے لئے کام کرے گی۔ کیوں کہ مسلم لیگ اب بھی مرکز کے علاوہ پنجاب، بلوچستان ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں برسر قتدار ہے۔ پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہ راست ٹکر لینے والی کسی پارٹی کا انتخاب جیتنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے ایک ایسے سیاسی ماحول میں جب کہ پیپلز پارٹی جیسی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی بھی اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی چاہتی ہو، مسلم لیگ (ن) جیسی پارٹی جو عام طور سے بادشاہ گر حلقوں کی چہیتی کہی جاتی ہے، کس طرح کھل کر ان عناصر کو چیلنج کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

نواز شریف نے معزول ہونے کے بعد جارحانہ بیانات ضرور دیئے ہیں لیکن وہ بھی براہ راست فوج یا سپریم کورٹ کو چیلنج کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ اسی لئے 28 جولائی کے فیصلہ کے بعد اس پر نظر ثانی کی اپیلیں بھی دائر کی گئی تھیں تاکہ سپریم کورٹ اور نظام پر یقین کا اظہار کیا جا سکے۔ اگرچہ نواز شریف ابھی تک سپریم کورٹ سے کسی قسم کا ریلیف لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور ان کے خلاف سامنے آنے والے ریفرنسز ایک نیا پنڈورا باکس کھول سکتے ہیں۔ تاہم لاہور کا ضمنی انتخاب جیتنے کے بعد انہوں نے پاکستان کے طاقتور حلقوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو ایک واضح پیغام ضرور دیاہے۔ اس طرح اب اس بات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ نواز شریف اور ملک کی دیگر اہم سیاسی جماعتوں کے درمیان دوری کم ہو سکے اور فوج بھی کسی حد تک یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے کہ پنجاب کے عوام میں مقبول سیاسی لیڈر کو دیوار سے لگانا اور سیاست سے باہر کرنے کی کوششوں کو کامیاب کروانا آسان نہیں ہو گا۔ اس طرح ایک ایسا تصادم پیدا ہو سکتا ہے جس سے سب فریق نقصان میں رہیں گے۔

اس کامیابی کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے آصف علی زرداری جو نااہلی کے بعد سے نواز شریف سے بات کرنے یا ملاقات سے گریز کرتے رہے ہیں ، کسی نہ کسی قسم کی سیاسی مفاہمت پر راضی ہو جائیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی اپنے ’اسکرپٹ میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہو جائے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر بھی ہو گا کہ نواز شریف کس حد تک پارٹی کو متحد رکھ سکتے ہیں اور 2018 کے انتخاب مقرہ وقت پر کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ملک میں اس بارے میں شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ آئیندہ انتخابات سے پہلے ہی کوئی غیر منتخب قومی حکومت معرض وجود میں لائی جا سکتی ہے۔ تاہم فی الحال لندن میں فروکش نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے اس اعلان پر خوش ہو سکتے ہیں کہ ’میاں صاحب، لاہور لوز یو ‘ ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 669 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali