جدید انسانی ذہن کے مذہبی رحجانات


naseem kausarسائنس کی عمارت عقل، منطق، استدلال اور تجرباتی شہادت پر استوار ہے. ہر وہ نظریہ جسے عقلی بنیادوں پر پرکھا نہ جا سکے اور جس کے حق میں حواسِ خمسہ کے ذریعے کوئی شہادت نہ پیدا کی جا سکے جدید انسانی ذہن اسے رد کرنے کا رحجان رکھتا ہے۔ اس قسم کے رحجانات کی بنیاد اسے سائنس نے فراہم کی ہے. چند سو برس پہلے جو فلسفہ جات اور نظریات انسانی تہذیب و افکار کا محور تھے۔ آج سائنسی علوم کی یلغار کے سامنے متزلزل ہیں. یہ نظریات دقیانوسیت کا لبادہ اوڑھے منظر سے غائب ہو رہے ہیں۔ ہزار ہا سال سے انسانی ذہن پر راج کرتے عقائد اب منطق اور تجرباتی شہادت کے محتاج ہیں کیونکہ دن رات علت و معلول ((Cause & Effectسے نبرد آزما انسانی شعور اب دیومالائی کہانیوں کی طرف متوجہ ہونے سے قاصر ہے کیونکہ انہیں تجرباتی شہادت کے ذریعے پرکھا نہیں جا سکتا۔ یوں یہ کہانیاں قصہ پارینہ پن کر تاریخ کی کتابوں کے پچھلے صفحات میں گم ہوتی جا رہی ہیں. .

مذہب ان عقائد میں سر فہرست ہے جو جدید انسانی ذہن( جسے سائنسی ذہن کہنا زیادہ مناسب ہے) کے تیکھے سوالوں اور عقلی تقاضوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔ ماضی کا یہ مختار کل فلسفہ آج سائنس کے دامن میں پناہ ڈھونڈ رہا ہے. سائنسی استدلال کی یلغار کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ صحائف کی روایات کی سند کے لئے اب سائنسی حوالے تلاش کئے جا رہے ر ہیں۔ ” یہ بات سائنسی تحقیق سے بھی ثابت ہوتی ہے“۔ کیا آپ نے سوچا ہے کہ مذہبی پیشوا اب یہ جملہ کہنے پر مجبور کیوں ہیں؟ کیونکہ سائنسی منطق اپنائے بنا ان کی بات پر اب کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں. مثال کے طور اگر کوئی مذہبی پیشوا یہ دعویٰ کرے کہ فلاں مذہبی روایت کے مطابق کوہ ہمالیہ کی پہاڑیوں پر سبز پانی کے چشمے ہیں تو امکان ہے کہ سائنٹیفک دماغ اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھے. البتہ اگر کسی تحقیقی مقالے میں یہ دعویٰ سامنے آئے کہ ناسا کی طرف سے بھیجی ہوئی زمین کی تازہ تصاویر میں کوہ ہمالیہ کی چوٹیوں پر پانے کے ایسے ذخائر دیکھے گئے ہیں جن کا رنگ سبز ہے اور یہ رنگ ممکنہ طور پر سبز کائی کی کثرت کی وجہ سے ہو سکتا ہے تو امکان ہے کہ سننے والا فوراً یقین کر لے۔ کیوں ؟ کیونکہ اس دعوے کے ساتھ ایک منطق اور شہادت جڑی ہے جسے تجربے سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ منطق اور تجرباتی شہادت پر اکتفا کرنا انسانی ذہن کے مثبت ارتقا کی طرف پیش رفت ہے۔

سائنس اور مذہب دو ایسی تلواریں ہیں جو ایک میان میں نہیں رہ سکتیں. سائنس قبولنے والا ذہن ہمیں مذہب بےزار دکھائی دیتا ہے لیکن یہ انکاری ذہن اپنی ترکیب میں بے قصور ہے کیونکہ اسے دلیل اور عقیدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ گلیلیو، چارلس ڈارون، رچرڈ ڈاکنز، ایلن ٹورنگ، تھامسن ایڈیسن, کارل ساگاں اور آئن سٹائن جیسے فطین سائنس دان عقیدے کے لحاظ سے غیر مذہبی تھے؟ شاید جیسے جیسے کائناتی راز آشکار ہوئے ویسے ویسے وہ عقیدے سے حقیقت اور یقین سے شک کی طرف جھکتے چلے گئے۔ اس وقت بھی چونکہ دلیل کا پلڑا یقین سے کس قدر بھاری ہے لہذا مذہب سائنس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہے. اس کی تازہ ترین شہادت مندر، چرچ، کلیسا اور مسجد کا مفاہمتی رویہ ہے. حالیہ خبریں بتاتی ہیں کہ دو صدیوں کی کشمکش کے بعد آخر سائنس نے پوپ کو مجبور کر دیا کہ وہ آدم اور حوا کی رومانوی کہانی سے دستبردار ہو کر نظریہ ارتقا کی توثیق کر دے۔

گزشتہ نظریات کے اجزائے ترکیبی اعتقادات، رومانوی خواہشات اور دیومالائی کہانیاں تھیں جن کا شاذونادر ہی منطق سے کوئی تعلق ہوا کرتا تھا لہٰذا جدید انسانی ذہن ان عقائد کے ساتھ حالت جنگ میں دکھائی دیتا ہے. اس ذہنی کشمکش کو کرہ ارض پر جاری روحانی بحران کی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ شعور کی آنکھ کو خیرہ کر دینے والے ٹیکنالوجی کے قمقموں کی جگ مگ میں گھرے ہونے کے باوجود بسا اوقات انسانی ذہن ضعیف العتقادی کے اندھیروں میں پناہ ڈھونڈتا ہے. بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے طلبا کا داعش جیسی تنظیم کی طرف حالیہ رحجان کو اس استدلال پر پرکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح موجودہ انسانی شعور اندھے اعتقاد اور ٹھوس حقیقت کی دو دھاری تلوار پر بیک وقت چلتے ہوئے انتشار کا شکار ہو رہا ہے۔ مستقبل کی نئی جہتوں میں قدم رکھتے ہوئے ماضی کے اثرات سے نجات حاصل کرنے کے لیے اگرچہ وقت درکار ہوگا مگر امید کی جا سکتی ہے کہ یہ بحران وقتی ہے اور جلد یا بدیر جیت منطق اور شہادت کی ہو گی۔

سائنس کو باطل قرار دے کر اسے رد کرنے والوں کی نمایاں اور موثر ترین دلیل یہ ہے کہ انسانی حواس بہت محدود ہیں اس لیے یہ کائناتی سچائیوں کا احاطہ نہیں کر سکتے. ان عقائد کو رد کرنا جسے انسانی ذہن نے ہزار ہا سال کی سوچ بچار کے بعد دریافت( تخلیق) کیا عقل مندی کی روش نہیں۔ لیکن یہ لوگ ان عقائد کی محبت میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ایسے دعوے جنہیں صدیوں کی تکرار نے اب تک اکلوتے سچ بنا کر پیش کیا، ایسے غیر مستند بیانات کے سراب کا پیچھا کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے ناقص اور محدود حواس کے دائرے میں آنے والی سچائیوں پر اکتفا کرتے ہوئے حقیقت کا تعاقب کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

نسیم کوثر

نسیم کوثر سائنس کی استاد ہیں۔ وہ زیادہ تر سماجی و سائنسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ افسانہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں۔ انہیں شاعری، موسیقی اور فکشن سے لگاؤ ہے۔ موصوفہ کو گھڑ سواری اور نشانے بازی کا بھی شوق ہے۔

naseem has 8 posts and counting.See all posts by naseem

7 thoughts on “جدید انسانی ذہن کے مذہبی رحجانات

  • 14-01-2016 at 4:14 am
    Permalink

    1. “Everyone who is seriously involved in the pursuit of science becomes convinced that a spirit is manifest in the laws of the universe – a spirit vastly superior to that of man, and one in the face of which we with our modest powers must feel humble. In this way the pursuit of science leads to a religious feeling of a special sort, which is indeed quite different from the religiosity of someone more naive.” –Albert Einstein….. German physicist, created theory of general relativity.

    2. “Science is…a powerful way, indeed – to study the natural world. Science is not particularly effective…in making commentary about the supernatural world. Both worlds, for me, are quite real and quite important. They are investigated in different ways. They coexist. They illuminate each other.” –Francis Collins… American physician-geneticist and director of the National Human Genome Research Institute

    3. “Science is not only compatible with spirituality; it is a profound source of spirituality. When we recognize our place in an immensity of light-years and in the passage of ages, when we grasp the intricacy, beauty, and subtlety of life, then that soaring feeling, that sense of elation and humility combined, is surely spiritual…The notion that science and spirituality are somehow mutually exclusive does a disservice to both.” Carl Sagan –American astrophysicist

    4. the impossibility of conceiving that this grand and wondrous universe, with our conscious selves, arose through chance, seems to me the chief argument for the existence of God; but whether this is an argument of real value, I have never been able to decide.” Charles Darwin

    5. “It was not by accident that the greatest thinkers of all ages were deeply religious souls.” Max Planck –German physicist, noted for work on quantum theory

    6.
    “I am very astonished that the scientific picture of the real world around me is very deficient. It gives a lot of factual information, puts all our experiences in a magnificently consistent order, but is ghastly silent about all and sundry that is really near to our heart, that really matters to us. It cannot tell us a word about red and blue, bitter and sweet, physical pain and physical delight; it knows nothing of beautiful and ugly, good or bad, god and eternity.” Erwin Schroedinger –Austrian physicist, awarded Nobel prize in 1933

    7. “From religion comes a man’s purpose; from science, his power to achieve it. Sometimes people ask if religion and science are not opposed to one another. They are: in the sense that the thumb and fingers of my hands are opposed to one another. It is an opposition by means of which anything can be grasped.” William Bragg–British physicist, chemist, and mathematician. Awarded Nobel Prize in 1915

    8. “I find it as difficult to understand a scientist who does not acknowledge the presence of a superior rationality behind the existence of the universe as it is to comprehend a theologian who would deny the advances of science.” Wehrner Von Braun–German-American rocket scientist

    9. “Science can have a purifying effect on religion, freeing it from beliefs of a pre-scientific age and helping us to a truer conception of God. At the same time, I am far from believing that science will ever give us the answers to all our questions” Nevill Mott–English physicist, awarded Nobel Prize in 1977

    10. “I am very much a scientist, and so I naturally have thought about religion also through the eyes of a scientist. When I do that, I see religion not denominationally, but in a more, let us say, deistic sense. I have been influence in my thinking by the writing of Einstein who has made remarks to the effect that when he contemplated the world he sensed an underlying Force much greater than any human force. I feel very much the same. There is a sense of awe, a sense of reverence, and a sense of great mystery.” Walter Kohn –American theoretical physicist, awarded Nobel Prize in 1998

  • 14-01-2016 at 12:33 pm
    Permalink

    جس موقف کو اب یہاں پیش کیا جا رہا ہے میرا خیال ہے انسانی ذہن اس مخمصہ سے کافی آگے جا کے سوچ رہا ہے۔ ایمپریکل ذہن “کیسے” کا فطری تجسس رکھتا ہے اور اسی وجہ سے وہ سائنس (جیسے ناسا کی مثال ہے) پر ان معنوں میں ایمان رکھتا ہے کہ وہ کیسے کا جواب دے گی۔ مسئلہ “کیوں” کا آجاتا ہے تو واپس خدا، مذہب، روحنیات و مابعد الطبعیات وغیرہ وغیرہ کیطرف لپکتا ہے۔
    کارل ساگاں کے ہی الفاظ ہیں “میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ ان معاملات میں انسان کو ذرا عاجزی کا مظاہرہ ہی کرنا چاہئے کیوں کہ ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیئے کہ ہم اصولی طور پر کچھ ایسے پیچیدہ معاملات کے بارے میں رائے قائم کرنا چاہ رہے ہیں جو انسانی تجربے سے سب سے زیادہ فاصلے پر ہیں۔ اور شاید ہم ان پراسرار رازوں کی جانب ذرا سا رینگنے کے قابل ہی ہو پائیں ہیں”

  • 14-01-2016 at 4:16 pm
    Permalink

    تحریر اپنا مدعا خوبصورتی سے پیش کرتی دکھائی دیتی ہے. مگر سوال وہی ہے جو محترم عامر صاحب نے اٹھایا کہ یہ سب کیسے ہے پر نہیں, “کیوں” پر بنیاد رکھتا ہے.
    سائنس و مذہب کبھی ایک دوسرے کے مخالف نہیں صاحبہِ تحریر کا یہ خیال غیرحقیقی ہے.
    ہم یہاں کیسے ہیں یہ سائنس,ہے مگر ہم یہاں کیوں ہیں؟؟ یہ مذہب اور فلسفے کا سوال ہے

  • 15-01-2016 at 6:13 pm
    Permalink

    You think very opposite. About religion your are partially right. Because other religions like Christianity refused science and intellect in past as we see in case of Galileo scientist who was killed by church. ……..But ….. Islam is the only religion that opens the doors for it. There are thousands of theories which have been proved by science after 1400 years. many scientists accepted Islam when they found that their modern theories were prescribed 1400 years back by Quran. Initially great scientists were produced in Islamic Schools like Ibn al-Hatham, Ibn seena, etc …. Your calim that science and religion are two separate things, but you are wrong bcz both cooperate each others in a way that science tells about the actions and deeds how they happen? but cannot tell who did it? why did it happen? all such questions are answered by Religion Islam. So it is old rejected idea that religion is opposite to science. many years before such ideas were rejected by different scholars like Haroon Ahmad Yahyaa 1000 times…. you repeated old rejected idea. Your claim is also without any prove which make it void

  • 15-01-2016 at 6:37 pm
    Permalink

    سائنٹالوجی بھی اب ایک مذھب کا درچہ اختیار کرتا جارہا ہے جس کے تحت چرچ کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے 🙂

  • 19-01-2016 at 10:45 pm
    Permalink

    محترمه نے علم کے ذرائع میں در آنے والے اختلاف کو کلی طور پر مذهب اور سائنس کے اختلاف پر محمول کر لیا هے.
    آج کی سائنس اور ۱۹۵۰ سے پهلے کی سائنس میں جوهری فرق پیدا هو چکا هے.
    هائزن برگ کے “ان سرٹینٹی پرنسپل” سے لے کر “ویو _ پارٹیکل ڈوئلٹی” اور “سٹرنگز تهیوری” نے مادے کی اصالت کے نظریه کو تهه و بالا کر دیا هے.
    سائنس کا ۱۹۵۰ سے پهلے والا تحکمانه رویه کب کا ختم هو چکا.
    ذرا “سرن لیباریٹری” میں دریافت هونے والے “هگز بوسون” المعروف “گاڈ پارٹیکل” کو زیر_ مطالعه لائیں؛ “لیگو” میں کشف هونے والی “گریویٹیشنل ویوز” پر غور کریں، سائنس تو سر جهکائے کهڑی هے؛ تاهم مذهبیوں کو ذیاده خوش نهیں هونا چاهیئے سائنس کی کمزوری کسی صورت مذهب کی تقویت کا باعث نهیں. مذهبوں کو ابهی اپنے مذاهب کی صداقت کا ثبوت فراهم کرنا باقی هے.
    تاهم اگر روزمره زندگیوں میں سائنسی رویه اپنا لیا جائے’ تو کیا حرج هے..!!

  • 15-03-2016 at 5:58 pm
    Permalink

    محترمہ آپ کو پورا آرٹیکل سٹرا مین اور لاجیکل فیلیسیز سے بھرا ہوا ہے۔
    آپ نے مذہب اور سایئنس کو دو مخلاف تلواریں قرار دیا۔ سیریسلی؟ سایئنس کا کام اس انتہائی پیچیدہ کایئنات کو سمجھنا ہے اور مذہب کا انسان کی زندگی گزارنے کا طریقہ اور کایئنات کے خالق سے تعلق بنانے کا نام ہے۔ آپ نے آئن سٹائن کو بھی ملحدوں کی فہرست میں ڈال دیا لیکن حقیقت میں وہ اپنے ملحد نہ ہونے کا اقرار کر کے پینتھسٹ ہونے کا اقرار کر چکا تھا۔آپ نے ملحد سایئنسدانوں کی فہرست تو پیش کی لیکن نیوٹن ، کیپلر ، کیلون ، رابرٹ بوائل ، اور مینڈل سمیت سینکڑوں مذہبی سایئنسدانوں کو آپ نے بلکل نظر آنداز کر دیا۔ محترمہ سایئنس اور مذہب دو مختلف میدان ہین اور انکو ایک دوسرے سے ٹکرانا میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
    خوش رہو 🙂

Comments are closed.