سیاسی دھارے کے نئے کھلاڑی


سب جانتے تھے کہ حلقہ این اے ایک سو بیس کا ضمنی انتخاب ہار جیت سے زیادہ یہ بتائے گا کہ پانامہ کیس کے نتیجے میں استعفی دینے والے نواز شریف کی مقبولیت بڑھی ہے کہ کم ہوئی۔ عمران خان سمیت کسی کو بھی کسی بڑے انتخابی اپ سیٹ کی امید نہیں تھی۔ کہنے کو امیدوار چوالیس تھے مگر انتخابی معرکہ سب جانتے تھے کہ مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف کے ہی درمیان ہے۔ پر ایک بات کوئی نہیں جانتا تھا کہ ووٹ حاصل کرنے کے اعتبار سے اس حلقے میں تیسرے اور چوتھے نمبر پر کون آئے گا۔

لہذا کلثوم نواز کے جیتنے سے بھی زیادہ اہم خبر یہ نکلی کہ جس حلقے سے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی جیسی وفاقی پارٹیاں بھی قسمت آزما تھیں۔ وہاں تیسرے نمبر پر ممتاز قادری کی پھانسی سے جنم لینے والی علامہ خادم حسین رضوی کی لبیک یا رسول اللہ پارٹی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شیخ اظہر کو سات ہزار ایک سو تیس اور چوتھے نمبر پر حافظ محمد سعید کی جماعتِ الدعوہ کے بطن سے ڈیڑھ ماہ قبل پیدا ہونے والی ملی مسلم لیگ کے حمائیت یافتہ امیدوار شیخ یعقوب کو پانچ ہزار آٹھ سو بیاسی ووٹ ملے۔ چوتھے نمبر پر بھٹو غریب کی وارث پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر کو چار ہزار چار سو چودہ اور پانچویں نمبر پر جماعتِ اسلامی کے امیدوار ضیا الدین انصاری کو پانچ سو بانوے ووٹ ملے۔ یعنی اگر پیپلز پارٹی اور جماعتِ اسلامی کے مجموعی ووٹ ملا بھی لیے جائیں تب بھی اکیلی ملی مسلم لیگ کو پڑنے والے ووٹوں سے کم ہیں۔

نوزائیدہ و نووارد لبیک پارٹی اور ملی مسلم لیگ کے حمائیت یافتہ امیدواروں کو حلقہ ایک سو بیس میں مجموعی طور پر تیرہ ہزار بارہ ووٹ پڑے حالانکہ ابھی یہ دونوں پارٹیاں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے کس کا ووٹ بینک کاٹا ؟ بادی النظر میں شاید مسلم لیگ نون کا۔ کیونکہ لبیک پارٹی ممتاز قادری کی پھانسی کا ذمے دار سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں نواز شریف حکومت کو سمجھتی ہے۔ جب کہ ملی مسلم لیگ کی ریلیوں میں لگنے والے ’’بھارت کا جو یار ہے غدار ہے اور پاک فوج زندہ باد‘‘ جیسے نعروں کا بظاہر انتخابی ضرورت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بلکہ بلاواسطہ طور پر یہ جتانا تھا کہ نواز شریف کے دل میں بھارت کے لیے نرم گوشہ ہے۔

لبیک پارٹی ایک شخص کی پھانسی کے ردِعمل کا نتیجہ ہے۔ مگر ملی مسلم لیگ ایک کٹر جہادی ڈھانچے کو سیاست کے قومی دھارے میں لانے کی کوشش ہے۔ یہ کوئی نیا تجربہ نہیں۔ دنیا میں کئی بار ہو چکا ہے۔

مثلاً پڑوس میں ہی دیکھ لیجیے۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد کرنے والی متعدد سرکردہ مجاہدین تنظیمیں سوویت انخلا کے بعد قومی سیاسی دھارے کا حصہ بنیں۔ ان میں قابل ِذکر شیعہ حزبِ وحدت ، برہان الدین ربانی کی تاجک جمیعتِ اسلامی اور تازہ ترین گلبدین حکمت یار کی حزبِ اسلامی۔ جنہوں نے ہتھیار کا راستہ ترک کر کے سیاست کا راستہ اپنا لیا۔

نیپال میں ماؤ نواز کیمونسٹ ء1990 تا 2006ء مسلح جدوجہد پر یقین رکھتے رہے اور اس دوران کشت و خون میں تیرہ ہزار سے زائد مسلح و غیر مسلح نیپالی ہلاک ہوئے۔ مگر جنگ بندی کے بعد ایک قومی سمجھوتے کے تحت ماؤ نوازوں نے ہتھیار کے بدلے پرامن سیاست کا راستہ اپنا لیا اور اس وقت پونے چھ سو نشستوں کی پارلیمان میں ماؤ نوازوں کے پاس اسی نشستیں ہیں۔

برصغیر سے باہر افریقی ملک انگولا کی بھی مثال ہے جہاں 1975ء میں پرتگال سے آزادی حاصل کرنے کے بعد دائیں اور بائیں بازو کی متحارب ملیشیاؤں میں خانہ جنگی چھڑ گئی۔ بائیں بازو کی ایم پی ایل اے حکومت کی سب سے بڑی مسلح حریف ہوانا سوامبی کی مسلح ملیشیا یونیٹا تھی۔ 2002ء میں سوامبی کے مرنے کے بعد یونیٹا نے مسلح جدوجہد کی بجائے سیاسی دھارے کا انتخاب کیا اور آج بحیثیت سیاسی جماعت یونیٹا کی دو سو بیس رکنی انگولائی پارلیمان میں اکیاون نشستیں ہیں۔

شمالی آئرلینڈ میں کیتھولک شن فین کو برطانوی قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونے کی شرط پر اپنی مسلح شاخ آئی آر اے کو غیر مسلح کرنا پڑا۔ اس کے عوض مسلح پروٹسٹنٹ جماعت السٹر یونین کو بھی ہتھیار حوالے کرنے پڑے۔

جماعتِ الدعوہ کے سیاسی دھارے میں شامل ہونے کی کوششوں کی کہانی مذکورہ بالا تنظیموں کی کہانی سے کچھ الگ ہے۔ 1989ء میں جب مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادی ایک بار پھر بھڑک اٹھی تو پاکستان میں لشکرِ طیبہ کا قیام عمل میں آیا اور پھر مقبوضہ کشمیر سے لشکر کی کارروائیوں کی اطلاعات تواتر سے آنے لگیں۔ نائن الیون کے بعد جب مشرف اسٹیبلشمنٹ پر افغان طالبان ، لشکرِ طیبہ و جیش محمد سمیت دیگر جہادی تنطیموں کو ایک حد میں رکھنے کے لیے پہلے امریکا اور پھر اقوامِ متحدہ کی جانب سے دباؤ پڑنا شروع ہوا تو 2002 میں لشکرِ طیبہ اور جیش محمد کی سرگرمیوں پر بھی مشرف حکومت نے بظاہر پابندی لگا دی۔ جہادی قیادت بادی النظر میں یا تو کم سرگرم نظر آنے لگی یا وقتی طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی۔ کنارہ کش ہونے والوں میں کالعدم حرکت المجاہدین کے فضل الرحمان خلیل بھی شامل تھے جو ان دنوں انصار الامہ کے سربراہ ہیں (انھوں نے بھی مستقبلِ قریب میں سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے)۔

لشکرِ طیبہ پر پابندی لگی تو حافظ محمد سعید کی قیادت میں جماعت الدعوہ کا ظہور ہوا۔ جب اقوامِ متحدہ اور امریکا اس کے پیچھے پڑے تو فلاحِ انسانیت کے نام سے ایک ویلفئیر تنظیم کا ظہور ہوا۔ مگر 2008ء کے ممبئی حملوں کے سبب حافظ سعید کا نام ایک بار پھر بین الاقوامی ریڈار پر چمکا۔ تب سے اب تک کبھی انھیں رہا کر دیا جاتا ہے کبھی نظربند کردیا جاتا ہے (ان دنوں وہ جنوری سے گھر میں نظربند ہیں)۔

کچھ ایسا ہی حساب کتاب جیشِ محمد کا بھی ہے۔ بھارتی طیارہ ہائی جیک کرنے اور 2002ء میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد سے وہ بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے۔ گذشتہ برس پٹھانکوٹ کی چھاؤنی پر حملے میں بھی اسے موردِ الزام ٹھرایا گیا۔ تب سے اب تک اس تنظیم کے سربراہ مولانا محمد اظہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حفاظتی نظربندی میں ہیں۔ بظاہر جیشِ محمد پر پابندی ہے مگر اقوامِ متحدہ کی جانب سے ان پر بین الاقوامی پابندیوں کی کوششوں پر چین کی جانب سے ٹیکنیکل اعتراض بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

پاکستان میں اس وقت دو طرح کے جہادی نیٹ ورک ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے علاقائی مسلح کارروائیاں تو کی ہیں مگر پاکستان کے اندر مسلح کارروائیوں میں ان کا نام نہیں آیا۔ جیشِ محمد اور کالعدم لشکرِ طیبہ اسی کی مثالیں ہیں۔ دوسری قسم ان شدت پسند تنظیموں کی ہے جنہوں نے علاقائی ممالک کے ساتھ ساتھ خود پاکستانی ریاست اور اداروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا۔ ان میں کالعدم تحریک ِ طالبان پاکستان، جماعت الااحرار، کالعدم لشکرِ جھنگوی یا پھر داعش سے منسلک نام بدل بدل کے کارروائیاں کرنے والے گروہ یا پھر انصار الشریعہ جیسے بظاہر اپنے طور پر متحرک گروہ ہیں۔

یہ گروہ جدید قومی ریاست یا اس کے آئین کو نہیں مانتے اور مسلح جدوجہد کے ذریعے اپنا عالمِ اسلام بنانا چاہتے ہیں۔ کچھ گروہ مسلک کی شدت پسندانہ تشریح کی بنا پر متحرک ہیں جیسے کالعدم سپاہِ صحابہ جس کی جگہ اہلِ سنت والجماعت نے لے لی۔ اور اب یہ جماعت بھی بظاہر اپنی کالعدم پیشرو کی طرح قومی سیاسی دھارے کا حصہ ہے۔

جماعتِ الدعوہ کو قومی دھارے کا حصہ بنانے کی کوششیں نئی نہیں۔ یہ تنظیم مذہبی تنظیموں کے اتحاد ملی یکجہتی کونسل اور پھر دفاعِ پاکستان کونسل جیسے پلیٹ فارمز سے پہلے ہی متحرک ہے۔ مگر پاکستان پر حالیہ چند ماہ کے دوران چہار جانب سے جس طرح شدت پسندی کے ڈھانچے کو بے اثر بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے وہ ان تنظیموں کے بنیادی مستقبل پر موٹا سوالیہ نشان ہوتا جا رہا ہے۔

اگرچہ حکومت ان تنظیموں کی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے کیونکہ ان کی مسلح کارروائیاں اگر ہیں بھی تو پاکستان کے باہر ہیں۔ مگر بیرونی دنیا کو بالکل اسی وجہ سے یہ تنظیمیں کھٹکتی ہیں۔ اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ان کو غیر مسلح کر کے بیرونی مسلح سرگرمیوں پر بھی سختی سے روک لگا دی جائے اور اندرونِ ملک انھیں صرف انتخابی جمہوری دائرے میں کھیلنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن طویل عرصے کی ٹال مٹول اور آنا کانی کے سبب بیرونی دنیا اس پر بھی یقین کرنے کو تیار نہیں کہ کچھ جہادی تنظیمیں واقعی اچھے اور برے جہادی کی فہرست سے نکل کر قومی سیاسی دھارے میں قانونی طور پر شامل ہونا چاہتی ہیں۔

ویسے تو کسی بھی مسلح گروہ کا قومی سیاست میں شمولیت کا خیرمقدم کرنا بنتا ہے مگر جن جن ممالک میں یہ کام ہوا، وہاں سب سے پہلی شرط یہی منوائی گئی کہ یہ تنظیمیں آیندہ ہتھیار کی زبان میں نہیں بلکہ سیاسی زبان میں بات کریں گی اور ریاست یا اس کے آئین کو چیلنج نہیں کریں گی۔ لیکن اگر قومی دھارے میں شمولیت کے بعد بھی ان تنظیموں کا سیاسی نظریہ وہی رہتا ہے جو اب تک ہے تو پھر اس شمولیت سے قومی سیاسی دھارے میں شدت پسند نفاق زیادہ بڑھے گا یا اعتدال پسندی کو فروغ ملے گا؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگر اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے تو اسے سامنے لانا چاہیے۔ ورنہ اسٹیبلشمنٹ کی نیک نیتی کو کوئی نہیں سمجھے گا۔ الٹا یہ سمجھا جائے گا کہ دراصل یہ شیر کو گائے کی کھال پہنا کے گائے ثابت کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کے زوال کے اسباب تو نابینا بھی دیکھ سکتا ہے۔ مگر این اے 120 کے نتائج کی روشنی میں جماعتِ اسلامی جیسی خود کو اعتدال پسند، وفاق پرست، آئینی دائرے میں کھیلنے والی تجربہ کار اور پرانی تنظیم گرداننے والی قیادت کو بھی سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ صرف ڈیڑھ ماہ قبل جنم لینے والی دو نئی پارٹیوں نے جماعت کو اور پیچھے دھکیل دیا۔ آیا یہ کوئی سیاسی نقص ہے یا ووٹر ہی بدل گیا ہے یا نظریاتی کھیل بھی اب مارکیٹنگ اور ریٹنگ کا رہ گیا ہے یا پھر ایسا ہے کہ جماعت کا مذہبی نظریہ تیز مصالحوں والے مذہبی نظریات کا توڑ کرنے میں روز بروز ناکام ہے؟

(بشکریہ روز نامہ ایکسپریس)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔