معرکہ لاہور کا سبق


لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا منفرد معرکہ تھا۔ یہ بظاہر حکمران جماعت یعنی مسلم لیگ(ن)اور اپوزیشن کے مابین برپا تھا لیکن حکمران بڑی حد تک بے بس تھے جبکہ اصل حکمران اپوزیشن کے لئے متحرک نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی بجائے میاں نوازشریف اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کے غائب کئے جانے کی فریاد کر رہے تھے۔ چیخ وپکار کل بھی پی ٹی آئی کی زیادہ تھی اور آئندہ بھی زیادہ ہوگی لیکن ٹی وی چینلوں پر پی ٹی آئی نہیں بلکہ مسلم لیگ(ن) کے ووٹر یہ دہائی دیتے ہوئے نظر آئے کہ ووٹ ڈالتے وقت ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ بات بات پر احتجاج کی کال دینے اور مذکورہ انتخاب میں سب سے کم ووٹ لینے والی جماعت اسلامی نے بھی دھاندلی کی شکایت نہیں کی بلکہ لیاقت بلوچ صاحب نے میرے ٹی وی پروگرام میں شریفانہ طریقے سے اپنی شکست تسلیم کر کے مسلم لیگ (ن) کو مبارک باد دے دی۔ اس سب کچھ کے باوجود کلثوم نواز صاحبہ کی جیت نے ہر پیمانے پر یہ ثابت کردیا کہ مسلم لیگ (ن) آج بھی پنجاب کی سب سے بڑی اور شاید ناقابل شکست سیاسی قوت ہے۔ ایک انسان کی رائے ہونے کے ناطے میری اس رائے میں غلطی کا امکان موجودہے لیکن میں نے یہ رائے پوری دیانتداری کے ساتھ، انتخابات کا دن لاہور میں گزارنے اور پھر درجنوں متعلقہ لوگوں اور چوٹی کے صحافیوں سے تبادلہ خیال کے بعد قائم کی ہے۔ بظاہر تو مسلم لیگ(ن) کی امیدوار کو گزشتہ انتخابات کی بنسبت کم ووٹ ملے ہیں اور پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے ووٹوں کی شرح کو برقرار رکھا ہے لیکن جن حالات میں یہ انتخابات ہوئے ہیں ان کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو اس رائے تک پہنچے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا کہ میاں نوازشریف نے پنجاب میں نہ صرف اپنی مقبولیت کو برقرار رکھا ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا ہے۔ ان عوامل اور حالات کی خصوصیت کی تفصیل یوں ہے۔

(۱) یہ منفرد انتخابات تھے کہ جس میں امیدوار (کلثوم نوازصاحبہ) ایک دن کے لئے بھی اپنے ووٹرز کے سامنے نہیں آئیں اور پارٹی لیڈر میاں نوازشریف بھی خود انتخابی مہم نہ چلا سکے۔ اس کے برعکس عمران خان اور سراج الحق وغیرہ اپنے امیدواروں کے حق میں مہم چلانے یا پھر نگرانی کرنے کے لئے خود میدان میں موجود تھے۔

(2)مسلم لیگ (ن) کا اصل المیہ اس وقت شریف خاندان کا اندرونی اختلا ف ہے جو ان انتخابات میں کھل کر سامنے آگیا۔ خاندانی تقسیم کے مطابق پنجاب میاں شہبازشریف اور ان کے بچوں کے سپرد ہے۔ اس حلقے کو بھی پچھلے برسوں میں حمزہ شہباز شریف دیکھ رہے تھے۔ یہاں کی پارٹی تنظیم اور تھانہ کچہری کے معاملات ان کے ہاتھ میں تھے۔ خود مریم نوازصاحبہ نے خاندانی تنائو کی وجہ سے شہباز شریف صاحب اور ان کے بچوں کو اس انتخابی مہم سے پرے کر دیا جس کے بعد حمزہ بیرون ملک جا کر بیٹھ گئے اور شہباز شریف کے تمام خاص بندے بھی اس عمل سے دور ہو گئے۔ حتیٰ کہ انتخابات کے دن بھی شہباز شریف کیمپ کا کوئی خاص بندہ متحرک نظر نہیں آیا۔ اس اندرونی اختلاف کی وجہ سے یہا ں پر موجود مسلم لیگ (ن) کے تمام ووٹرز اور سپورٹرز پوری طرح متحرک نہیں ہوئے جبکہ حمزہ کیمپ اور مریم کیمپ کی تقسیم کی وجہ سے نہ تو انتخابی مہم کا روایتی ٹیمپو بن سکا اور نہ مسلم لیگ(ن) کا پورا ووٹر باہر آیا۔ اگر ماضی کے انتخابات کی طرح شریف خاندان ایک پیج پر ہوتا تو مسلم لیگ (ن) کے حق میں نتائج اور بھی بہت بہتر ہوسکتے تھے۔

(3)پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد لاہور کے تمام پارٹی امیدواروں میں مناسب ترین امیدوار تھیں اور ہیں۔ یہاں ان کا ذاتی اور خاندانی ووٹ بھی کافی ہے۔ ان کی ذات اور کردار پر بھی کوئی انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ وہ انتہائی محنتی اور قابل خاتون ہیں اور جس جوانمردی کے ساتھ انہوں نے اپنی انتخابی مہم چلائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ گزشتہ چار برس کے دوران بھی آرام سے نہیں بیٹھی تھیں اور مسلسل اپنے حلقے میں مہم چلارہی تھیں۔ ضمنی انتخابات کے اعلان کے بعد تو انہوں نے دن رات ایک کیا ہوا تھا اور گھر گھر جا کر ووٹ مانگنے کی روایت کو شاندار انداز میں زندہ کیا۔ اسی طرح جہاں مسلم لیگ (ن) حمزہ اور مریم کیمپ میں تقسیم نظر آئی، وہاں دوسری طرف پی ٹی آئی نے پنجاب بھر سے اپنی مالی اور افرادی قوت کو اس حلقے میں جمع کیا تھا۔ ابتدا میں علیم خان کیمپ کی طرف سے کچھ مزاحمت ہوئی تھی لیکن بعد میں عمران خان صاحب نے اس کیمپ کی مالی اور افرادی قوت کو بھی یاسمین صاحبہ کی جھولی میں ڈال دیا تھا۔

(4) اب کی بار میں اس ایک حلقے کے انتخاب میں تین درجن امیدواروں کو میدان میں اتارا گیا تھا اور ان کا اصل ہدف مسلم لیگ(ن) کا ووٹ کاٹنا تھا۔ روایتی طور پر لاہور کا دینی ووٹ مسلم لیگ (ن) کو پڑتا ہے لیکن ملی مسلم لیگ، تحریک یا لبیک رسول اللہ ﷺ وغیرہ کو اس مقصد کے لئے میدان میں اتارا گیا اور حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے مسلم لیگ(ن) ہی کے ووٹ کو متاثر کیا۔ ان دونوں جماعتوں نے پورے پاکستان کی اور جماعت اسلامی نے پورے لاہور کی قوت کو یہاں جمع کیا تھا۔ یہ تین درجن امیدوار آپس میں تو اختلاف رکھتے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کی مخالفت پر ان کا اتفاق تھا اور سب کے سب امیدوار انتخابی مہم میں خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنارہے تھے۔

(5) وہ قوتیں جن کا نام ہم تو کیا میاں نواز شریف بھی نہیں لے سکتے اور جو ان دنوں ان کی مخالف سمجھی جاتی ہیں، بھرپور منصوبہ بندی اور پوری قوت کے ساتھ اس حلقے میں حملہ آور تھیں۔ جتنا ہو سکتا تھا انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے خلاف پولیٹکل مینجمنٹ کی۔ شاید مسلم لیگ (ن) کے الزامات میں مبالغہ بھی ہو لیکن لاہور کے آزاد اور باخبر صحافی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنااللہ جو الزامات لگاتے رہے ان میں وزن بھی ہے۔

مذکورہ پانچ اور اسی نوع کے کئی دیگر عوامل کے ہوتے ہوئے بھی کلثوم نواز صاحبہ کی جیت نے ثابت کردیا کہ چار سالہ اقتدار، سپریم کورٹ سے نااہلی اور مزاحمت کی سیاست کے فیصلے کے باوجود آج بھی پنجاب میں میاں نوازشریف ناقابل شکست ہیں۔ تعصبات اور خواہشات کا حصار نہ ہو تو ہر ذہن اسی نتیجے تک پہنچے گا کہ عدالت سے نااہلی کےبعد ہمدردی کے عنصر نے اس غیظ و غضب کو کم کردیا ہے جو میاں نوازشریف کے خلاف ان کے طرز حکمرانی کی وجہ سے جنم لے چکا تھا۔ میں کل بھی یہ سمجھتا تھا اور آج بھی سمجھتا ہوں کہ پاکستان، مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کے لئے تصادم کا نہیں بلکہ وہ راستہ بہتر ہے جو میاں شہباز شریف تجویز کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود جی ٹی روڈ کے سفر اور اب حلقہ 120 کے انتخابات نے ثابت کردیا کہ ووٹ اور سپورٹ میاں نوازشریف ہی کی ہے اور سیاسی میدان میں مریم نوازشریف ہی میاں صاحب کی جانشین بنیں گی۔ چنانچہ اب میاں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے پاس دو راستے بچے ہیں۔ یا یہ کہ وہ میاں نوازشریف اور مریم نوازشریف کے راستے پر چل کر ان آزمائشوں کے لئے کمربستہ ہوجائیں جو میاں صاحب اور ان کی بیٹی نے اپنا مقدر کی ہوئی ہیں یا پھر راستے الگ کر لیں۔ راستے الگ کرنے کی صورت میں وہ شاید آزمائشوں سے بچ جائیں لیکن سیاسی طور پر مر جائیں گے۔

یوں ان کے لئے اور چوہدری نثار علی خان کے لئے بہتر راستہ یہ ہوگا کہ وہ میاں نوازشریف اور مریم صاحبہ کے تابعدار بن کر ان کو راستہ بدلنے پر مجبور کریں۔ چیلنج کر کے وہ نہ تو میاں صاحب اور مریم صاحبہ کو راستہ بدلنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور نہ عوامی حمایت حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن بڑے میاں صاحب اور مریم نوازصاحبہ کو بھی یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اگر اس کے بعد بھی انہوں نے جارحانہ رویہ برقرار رکھا تو پھر مخالف قوتیں بھی پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہوں گی اور پہلا قدم مسلم لیگ(ن) کی تقسیم کی صورت میں سامنے آئے گا۔

تاہم جی ٹی روڈ مظاہرے کے بعد اب این اے 120 کے نتائج نے آئندہ انتخابات کے بروقت انعقاد کو مشکوک بنا دیا ہے جبکہ میاں صاحب اور مریم صاحبہ کے تصادم کے ارادوں سے ان کا انعقاد مزید مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس اندازے اور تجزیے کی بنیاد کیا ہے، زندگی رہی تو اس کی تفصیل پھر کبھی۔

بشکریہ روز نامہ جنگ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔