قلمکار کی تصویر اور ملک کی تقدیر


 نکتہ داں طبیعتیں نکتے اٹھاتی ہیں۔ وجاہت مسعود نے سوشل میڈیا پر ایک فکر انگیز تحریر میں قلمکاروں کے متعلق اٹھائے گئے اس نکتے پر سیر حاصل بحث کی ہے کہ وہ اپنی تصویر بار بار کیوں تبدیل کرتے ہیں؟

آپ نے لکھاریوں کی اس جبلت کے پیچھے کارفرما عوامل پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب لکھنے والے سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ اپنی اچھی خاصی تصویر کو کیوں بدلنا چاہتے ہیں؟ تو اس کے جواب میں بتایا جاتا ہے کہ مجھے تو تصویر میں چنداں دلچسپی نہیں، تمہاری بھابھی کہتی ہیں کہ یہ والی تصویر زیادہ اچھی ہے۔ کچھ وضع دار یہ بھی کہتے ہیں کہ تمہاری بھابھی کو یہ بات ان کی پڑوسن نے بتائی ہے۔ انہوں نے کالم نگاروں کی آنکھیں کھولنے کی غرض سے انکشاف کیا ہے کہ خواتین دو سبب سے لکھنے والے کی تصویر تبدیل کرانے کی خواہش رکھتی ہیں۔

ایک تو یہ کہ آپ کی تصویر اس قدر مدہم، دھندلی اور خراب رہے کہ محترمہ متعلقہ کو غیرضروری اقدامات کی زحمت سے نجات ملے۔ گراں مایہ مشورہ یہ دیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں تصویر بدلنے کے مطالبے پر صاحبِ تحریر کو وہی کہنا چاہیے کہ جو بیگم وقارالنساء نون کے مشوروں پر فیروز خان نون خالص سرگودھا کے لہجے میں فرمایا کرتے تھے (شریفانہ سا ترجمہ یوں ہے کہ بکتی رہو) حسنِ زن رکھتے ہوئے مطالبہ ہذا کا جو دوسرا امکان ظاہر کیا گیا ہے، وہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ فرمایا گیا، ہو سکتا ہے کہ خاتونِ خانہ (یا محترمہ متعلقہ) واقعتا چاہتی ہوں کہ آپ کا روئے انور چاند کو شرمائے۔ ایسی صورت میں دست بستہ گزارش کرنی چاہیے کہ جیسی اس نمک خوار کی تصویر آپ نے اپنے دل کے نہاں خانے میں سجا رکھی ہے، اب اس سے بہتر تصویر کوئی کیمرہ کیا اتارے گا۔ تو کیوں نہ پرانی تصویر پر اکتفا کریں؟ اس اہم مسئلے پر صحافت کے اساتذہ کے خیالات سے استفادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پڑھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد لکھنے والوں کی تصویر پہچان کر رکتی اور عنوان دیکھتی ہے۔ اہل قلم کو خبردار کیا گیا ہے کہ آپ کی تصویر آپ کی پیشہ ورانہ سرمایہ کاری بھی ہے۔ اسے بار بار بدلیے گا تو خسارہ رہے گا۔

اس فکر انگیز تحریر کے بعدہم نے اہل قلم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ جو بوجہ بار بار اپنی تصویر بدلنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اہل خانہ اور احباب کے پُرزور اصرار کے باوجود اس حرکت سے باز رہتے ہیں۔ ضمناً عرض ہے کہ ہم طبقہ دوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت آپ کے دستِ مبارک کے لمس سے سرفراز ہماری تصویر کے بارے میں دو قسم کی آرا پائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر منزہ احتشام گوندل کہتی ہیں کہ یہ تیس سال پرانی ہے جبکہ برادرم یاسر پیرزادہ کے خیال میں دو ماہ پہلے کی ہے۔ اگرچہ محترمہ منزہ کے افسانے اور نظم سے نصف صدی کی سیاحت جیسا گہرا مشاہدہ جھلکتا ہے‘ تاہم ثانی الذکر خانوادے سے ہماری عقیدت اور بے کراں محبت کا تقاضا ہے کہ ان کی بات کو ہی حرف آخر کا درجہ دیا جائے۔ خانوادہ ہٰذا بھی ایسا لجپال واقع ہوا ہے کہ اگرچہ برادرم نے یہ دعویٰ تین سال قبل کیا تھا لیکن ہمیں یقین کامل ہے کہ آج بھی پیر گھرانے کے اس چشم و چراغ سے ہماری تصویر ہذا پر لب کشائی کی درخواست کی جائے تو وہ اپنی زبان کا پہرہ دیں گے اور اسے دو ماہ پرانی ہی بتائیں گے۔

کالم میں اپنی تصویر تبدیل نہ کرنے کی ہمارے پاس دو عدد ٹھوس وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ خوش قسمتی سے ”گھر والوں‘‘ کی طرف سے ہم پر اس تبدیلی کے لیے کوئی دبائو نہیں۔ ماضی میں دیہات کے اندر تعلیم کی وافر سہولتوں کا شاخسانہ ہے کہ خاتون متعلقہ کو ہمارے کالم پڑھنے یا تصویر کے مضمرات پر سر کھپانے سے غرض نہیں۔ آپ کی دعا سے ہماری ازدواجی زندگی ان جوڑوں کی طرح مثالی ہے جو بسلسلہ ملازمت الگ الگ شہروں میں مقیم ہیں اور کبھی کبھار ہی ملتے ہیں، لہٰذا خوش و خرم رہتے ہیں۔ ہمیں یہ سہولت غریب خانے کے اندر ہی میسر ہے۔ ہم ایک پسماندہ گائوں کے باسی ہیں، جہاں ہمارے قیمتی وقت کا غالب حصہ گھر سے باہر مردانہ مہمان خانے میں گزرتا ہے۔ اس پُرسکون ماحول میں ہمارے اکثر دن چارپائی پر تکیے سے ٹیک لگائے لکھنے پڑھنے اور راتیں اسی کنڈیشن میں رشتہ داروں سے گپ شپ میں گزرتی ہیں۔ یہ کھلی فضا جہاں ہمارے دل و دماغ کو تروتازگی بخشتی ہے، وہاں ہماری خوشگوار گھریلو زندگی کی ضامن بھی ہے۔ ایک کرم فرما کہتے ہیں کہ آپ نے گھر کو ہمیشہ تھانہ ہی سمجھا ہے۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، وہ تو جنت ہے۔ تصویر نہ بدلنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم اساتذہ کے سبق کی روشنی میں اپنی پیشہ ورانہ سرمایہ کاری میں خسارے سے بچنا چاہتے ہیں۔ ہم اس حقیقت سے خوب آگاہ ہیں کہ کالم کے ساتھ چھپی تصویر کالم نگار کی پہچان بن جاتی ہے۔ ہمارے ایک سرجن دوست جب بھی ملتے ہیں تو والہانہ انداز میں کہتے ہیں کہ میں نے اخبار میں بھائی کی تصویر دیکھی تھی، دل خوش ہو گیا۔ البتہ کالم پر ان کی رائے مانگی جائے تو دوٹوک انداز میں فرماتے ہیں”میں کبھی کوئی کالم نہیں پڑھتا‘‘ اب آپ ہی بتائیے کہ جب ہمیں اپنے کالم کی ستائش سے زیادہ تصویر کے مداح میسر ہیں اور گھر کی طرف سے بھی ایسا ویسا کوئی دبائو نہیں تو پھر یہ دو ماہ پرانی تصویر تبدیل کرنا چہ معنی دارد؟

ہم استاذی کے مصرعے پر گرہ لگانے کی جسارت کرتے ہوئے عرض کریں گے کہ نکتہ داں طبیعتیں جہاں کالم کاروں کی طرف سے تصویر بدلنے پر نکتے اٹھاتی ہیں، وہاں اہل جنوں کے بار بار ملک کی تقدیر بدلنے کے عزائم پر بھی انگلیاں اٹھاتی ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ لکھاری کی طرح ملک کی تصویر بھی اس کی پہچان ہوتی ہے۔ اکیسویں صدی میں مہذب دنیا ریاستوں کی سب سے معتبر تصویر جمہوریت کی تصویر قرار دیتی ہے۔ اسے تقدیر بدلنے کی آڑ میں بار بار بدلا جائے گا اور پارلیمانی، صدارتی، مارشل لاء یا ٹیکنوکریٹس حکومت کے تجربات کیے جائیں گے تو ملک کا تشخص مجروح ہوگا اور اس کی خوبصورت تصویر دھندلا جائے گی۔ جب ہمارے ملک کے بانی نے اس کی ایک واضح تصویر بنا کر ہماری سمت متعین کر دی تھی تو ہمیں چاہیے تھا کہ اسی تصویر میں رنگ بھرتے جاتے مگر بار بار کی تبدیلی نے کالم نگار کے قارئین کی طرح دنیا کے لیے اس ملک کی پہچان مشکل بنا دی۔ ہمارے خیال میں اگر ملک کی تصویر میں تبدیلی ضروری بھی ہے تو اس کا حق صرف اور صرف اس کے ”گھر والوں‘‘ کے پاس ہونا چاہیے۔ اس کارِ خیر کی خاطر ان کا مکمل بااختیار ہونا بھی ضروری ہے تاکہ جب کوئی ” ُپڑوسن‘‘ انہیں اپنے گھر کی مدہم، دھندلی اور خراب تصویر بنانے کا مشورہ دے تو وہ اسے خالص سرگودھا کی زبان میں فیروز خان نون والا جواب دے سکیں۔

بخدا ہمیں این اے 120میں کلثوم نواز کی کامیابی یا ڈاکٹر یاسمین راشد کی ناکامی پر کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحبہ تو ویسے بھی ہماری پڑوسن ہیں کہ چکوال میں ان کا اور ہمارا گائوں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ اگر وہ جیت جاتیں تو اس مناسبت سے ہمیں ضرور مسرت ہوتی تاہم عوامی عدالت کے فیصلے پر بھی سر تسلیم خم کرنا چاہیے یا نہیں؟ ضمنی انتخابی نتائج چغلی کھا رہے ہیں کہ جیسے بھی ہیں، گھر کے مالک کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔ ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر فیصلے شریف فیملی کے خلاف آتے ہیں اور وہ عوامی نمائندگی کے لیے ناموزوں قرار پاتے ہیں، تب بھی ملک کی پرانی پارلیمانی جمہوریت کی تصویر ہی میں رنگ بھرے جائیں اور کسی بگاڑ یا جگاڑ کی کوشش نہ کی جائے۔

پس صاحبو! ہمارا مدعا فقط یہ ہے کہ وطن کا روئے انور چاند کو بھی شرمائے۔ اس کے نمک خواروں نے اس کی جو تصویر اپنے دل کے نہاں خانوں میں سجا رکھی ہے، اس سے بہتر تصویر کوئی کیمرہ، کوئی خود ساختہ مسیحا یا کوئی طالع آزما کیا اتارے گا بھلا؟ تو کیوں نہ اس کے نمک خواروں کی خواہش کے احترام میں پرانی تصویر پر ہی اکتفا کریں؟ غیر متعلقہ لوگوں کی خواہش پر اسے بار بار بدلیے گا تو خسارہ رہے گا۔

بشکریہ: روز نامہ دنیا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔