ایک دوسرے کی تہذیب، زبان اور پہچان کا احترام کرنا چاہیے


پاکستان کے ہر علاقے کا اپنا منفرد تہذیب و تمدن اور زبانیں ہیں جن کی نشوونما ہزاروں برس میں ہوئی ہے اور ان کو رحمان بابا، سلطان باہو، بابا بلھے شاہ اور شاہ لطیف بھٹائی جیسے بزرگوں نے محبت کے پیغام سے مزید سنوارا ہے۔ ہمار ی زبان اور علاقائی تہذیب و تمدن ہماری پہچان کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ جس جگہ ہمارا بچپن گزرتا ہے وہ ہماری ذات کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہر کلچر اور زبان کی کچھ باریکیاں ایسی ہوتی ہیں جو باہر سے آنے والے کو مشکل سے ہی سمجھ آتی ہیں۔

میری امی کا تعلق اٹک کے علاقے چچھ سے تھا۔ مگر وہ خیبر پختون خواہ میں پلی بڑھیں۔ میری نانی خیبر پختون خواہ سے تھیں اور میرے نانا نے دیر اور مردان میں نوکری کی تھی اور ریٹائرمنٹ کے بعد ہی اپنے گائوں واپس آئے تھے۔ ہمارے گھر میں ایک خاص قسم کی پنجابی بولی جاتی تھی جو ہندکو، پوٹھوہاری اور اردو کے لفظوں کا ملغوبہ تھی۔ میری نانی کو گائوں کے لوگوں نے بہت محبت دی اور اُن کو بھی اُس گائوں سے بہت محبت تھی مگر اُنہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو باہر کا ہی سمجھا۔ اپنی اس مشکل کو وہ کبھی کبھار یوں بیان کرتیں ’’چچھ ہزارہ تے مشکل اے گذارا‘‘۔ میری امی اپنی شادی کے بعد کچھ سال لاہور رہیں۔ وہ وہاں کی زبان سے اپنی اجنبیت کے بہت سے قصے سناتی تھیں۔ بتاتی تھیں کہ شروع کے دنوں میں محلے کی ایک خاتون ہمارے گھر آئیں اور امی کو بتایا کہ اُن کے بیٹے کے گھر ’’مُنڈا ‘‘پیدا ہوا ہے۔ میری امی نے بہت افسوس کا اظہار کیا اور پوچھا کہ ایک ٹانگ سے مُنڈا ہے یا دونوں سے۔ وہ عورت بہت ناراض ہوئی اور بولی ’’کاکے دیاں دوویں لتاں ٹھیک نیں‘‘۔ اٹک کے لوگ مُنڈا لنگڑے کو کہتے ہیں۔ لڑکے کیلئے ہندکو لفظ ’’نڈا‘‘ہے اور اٹک میں ’’جاتک‘‘لفظ استعمال ہوتا ہے۔ میری امی کو پشتو سے بہت لگائو تھا۔ جب وہ میرے پاس امریکہ آئیں تو میں اکثر اُن کو انکی افغان دوست کے ہاں لے جاتی جہاں وہ گھنٹوں پشتو میں باتیں کر کے خوش ہوتیں۔ افسوس کہ میں نے اُن سے پشتو نہ سیکھی۔

میری دادی کا تعلق سرگودھا اور بھیرہ سے تھا۔ وہ ہمیشہ آساں جاساں، کھاسی، جاسی بولتیں اور میری امی بھی اسی طرح بولتیں۔ لاہوری اُن کے ان الفاظ سے بہت محفوظ ہوتے۔ میں چونکہ بچی تھی اس لیے میں نے لاہور کی پنجابی بہت جلدی اپنا لی۔ جب ہم دو تین سال کی بعد اٹک پہنچے تو مجھے اٹک کی پنجابی اپنانے میں کوئی دیر نہ لگی۔ دو سال پہلے میں اٹک شہر کے بازار میں شاپنگ کے لیے گئی تو مجھے احساس ہوا کہ میری پنجابی کے جواب میں ہر دوکاندار اردو بول رہا تھا۔ مجھے بہت مایوسی ہوئی اور مجھے لگا کہ پنجابی کو ترک کرنے کی وبا یہاں بھی پھیل گئی ہے۔ میں نے تنگ آکر ایک دکاندار سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ میری پنجابی کا جواب اردو میں دے رہا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ میری پنجابی اُس کی پنجابی سے بہت مختلف ہے۔ مجھے اُس وقت اندازہ ہوا کہ پچھلے 28-29 برس میں گھر میں اپنے اٹک کے شوہر اور بیٹی سے پنجابی بولنے کے باوجود میری پنجابی ہندکو، پوٹھواری اور اردو کا ملغوبہ ہوگئی ہے اور میں بچپن میں گھر میں بولی زبان کی طرف لوٹ آئی ہوں اور اساں تُساں کی بجائے تنوں منوں کہہ رہی ہوں۔ میری بیٹی کئی سال پہلے لاہور ریسرچ کے ایک پروجیکٹ کے لیے گئی جس میں اسے لوگوں سے انٹرویو لینے تھے۔ اُس نے مجھے وہاں سے کال کیا اور جھنجھلا کے پوچھا کہ ہم کون سی پنجابی بولتے ہیں کہ یہاں تو کسی کو اس کی زبان کی سمجھ ہی نہیں آ رہی۔

 بہت سال پہلے ہم پاکستان گئے تو میں اپنی بیٹی کو وہاں کے تاریخی مقامات کی سیر کروانے لے گئی۔ ٹیکسلا میں ہڑپہ کی تہذیب اور وہاں کی تین ہزار سالہ پرانی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے کھنڈرات دیکھنے کی بعد ہم حسن ابدال میں واقع گوردوارہ پنجہ صاحب بھی گئے۔ وہاں پر ہمیں سوات سے آئے پٹھان مرد اور عورتیں نظر آئے۔ میری امی نے پشتو میں اُن سے پوچھا کہ وہ لوگ پاکستان بننے کی بعد بھارت کیوں نہیں چلے گئے۔ وہ کہنے لگے کہ سوات ان کے آبائو اجداد کا وطن ہے۔ بھارت کے لوگوں سے اُن کی زبان اور تہذیب و تمدن ہی نہیں ملتا تو وہ ایک اجنبی دیس اور اجنبی لوگوں میں کیوں جا کر رہیں۔

اسی کی دہائی میں میری ملاقات ایک پاکستانی کرسچن عورت سے ہوئی۔ اُسے اپنے بھائی اور اُس کی فیملی جو پاکستان میں رہتے تھے کی فکر تھی۔ ایک تو اُن کی مالی حالت اچھی نہیں تھی دوسرے اُس کو اپنی بھتیجیوں کے تحفظ کے بہت فکر رہتی تھی۔ اُس کو جونہی امریکہ کی شہریت ملی اُس نے فوراًاپنے بھائی کے ویزے کیلئے اپلائی کیا۔ وہ سخت گرمی میں پاکستان گئی تاکہ مزید اس کام میں تاخیر نہ ہو۔ اُس کی دوڑ دھوپ کام آئی اور اُس کے بھائی، بھابی کو ویزا مل گیا۔ اُنہیں امریکہ آئے صرف تین ہفتے ہوئے تھے کہ اُنہوں نے وطن واپسی کی رٹ لگا دی۔ اُنہیں اس غیر دیس میں جہاں اُن کے ہم زبان اور ہم وطن نہیں تھے، مستقل رہنے سے وحشت ہو رہی تھی۔ اُن کی بہن نے اُنہیں بہتیرا سمجھایا مگر اُنہوں نے پاکستان واپس جا کر دم لیا۔

ہمارے ایک کرسچن دوست جو میرے ساتھ ڈاکٹر ہیں، اپنے بیٹوں کی شادیاں پاکستانی لڑکیوں سے کی ہیں۔ جب وہ رشتہ ڈھونڈ رہے تھے تو میں نے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بیٹوں کا رشتہ انڈین کرسچن لڑکیوں سے کریں گے؟ وہ کہنے لگے انڈین کرسچن سے اُن کا کلچر فرق ہے۔ اُن کے رہنے سہنے کا طریقہ اور کھانا پینا فرق ہے۔ وہ عموماًاپنی دعوتیں پاکستانی ریسٹونٹس میں کرتے ہیں کہ انڈین کھانوں کا ذائقہ ہم لوگوں کے کھانوں کے ذائقے کے مطابق نہیں ہوتا۔ ان کی بیگم کو بھی جب موقع ملتا ہے وہ پاکستان کے چکر لگاتی ہیں حالانکہ وہ 35-40 سال سے امریکہ مقیم ہیں۔

پاکستان بننے کے وقت یہاں کرسچن تنظیموں نے قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ مل کر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ ا سی طرح سندھ کے ہندوئوں اور خیبر پختون خواہ کے سکھوں نے بھارت نہ جانے کا فیصلہ کیا کہ وہ اُن کے لئے ایک اجنبی سرزمین ہے۔ یہ اسی مٹی اور کلچر کا اعجاز ہے کہ جس نے کرسچن، ہندو، سکھ اور مسلمان کو پاکستان سے محبت کے رشتے میں پرو دیا ہے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں تو اپنے عقیدوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں مگر اس سے ان کی اپنے کلچر، زبان اور دھرتی کی محبت میں کوئی کمی نہیں آتی۔

بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد یہاں علاقائی تہذیب و تمدن کے خلاف ایک جنگ چھیڑ دی گئی۔ ہم اس جنگ میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہم نے اس کلچر کو اسلام کے خلاف قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ اسلام کلچر کی نفی نہیں کرتا اور انسان کے گروہوں میں تقسیم ہونے کے خلاف نہیں ہے۔ اب ہمیں اس جنگ کے خلاف سیز فائر کا اعلان کر دینا چاہیے کہ کلچر کے خلاف اس جنگ نے ہمیں متحد کرنے کی بجائے تقسیم کردیا ہے۔ اس کا حل ہمیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی 11اگست 1947 کی تقریر میں دیا تھا۔ اُنہوں نے سب پاکستانی شہریوں سے یہ وعدہ کیا

’’ تم کسی بھی مذہب، ذات اور مسلک کے ہو، پاکستان کی ریاست کے معاملے میں اس کو دخل نہیں ہوگا۔ ‘‘

پاکستان کو عالمی برادری میں باعزت مقام دلانے اور اس کو اندرونی طور پر مضبوط کرنے کیلئے مزید وقت ضائع کیے بغیر اس وعدے کا پورا کرنا لازمی ہے۔ تاکہ پاکستا ن کا ہر شہری چاہے وہ کرسچن، سکھ، ہندو اور مسلمان کیوں نہ ہو، اپنے وطن پر فخر کر سکے اور پاکستان اپنے علاقے کے ملکوں کیلئے ایک مثالی ریاست ثابت ہو اور دنیا ہمارے اس خوبصورت اور منفرد تہذیب و تمدن جس کی نشوونما ہزاروں سالوں میں ہوئی ہے اور جس کو ہمارے بزرگوں نے اپنے محبت کے پیغام سے سنوارا ہے، سے اُسی طرح استفادہ کرے جس طرح تین ہزار سال پہلے ٹیکسلا کی یونیورسٹی میں پوری دنیا سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ پاکستان کی عظمت کو بحال کرنے کیلئے ہمارے پاس یہی ایک راستہ رہ گیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔