عورتوں میں جنسی خواہش کم ہونے کی وجوہات


عدنان کاکڑ کے مضامین پڑھ کر میرا یہ تجزیہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں‌ دو انتہائیں قریب سے دیکھی ہیں اور ان کو اچھی طرح‌ سے سمجھ بھی لیا ہے۔ ایک بالکل تنگ نظر، علاقائی اور کم علم سوچ اور دوسری طرف وسیع تر دنیا کی معلومات اور کھلا ذہن جس کا نتیجہ پاگل ہونے کے بجائے اسی طرح‌ نکل سکتا تھا کہ اس پر مذاق کرکے ہنس لیا جائے۔ ہیومر سائیکالوجی میں ایک میچیور ڈیفنس میکنزم ہے۔

پچھلا مضمون لکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ یوٹیوب والے ڈاکٹر صاحب نے ذیابیطس کو چھوڑ کر ڈانٹ ڈپٹ اور لعن طعن کیوں‌ شروع کی؟ ہو سکتا ہے کہ انہیں‌ ذیابیطس کے بارے میں‌ کچھ زیادہ معلومات نہ ہوں اور وہ مذہب کا سہارا لے رہے‌ہوں۔ مشکل مریضوں‌ پر ریسرچ کرکے ہلکان ہونے سے یہ کتنا آسان ہے کہ ” جوزف، میری اور جیسس !” یا “کالی ماتا کی جے!” چلا کر ان کو بھگا دوں۔

عدنان کاکڑ کے مضامین سے یہ پتا چلا کہ بیویوں‌ کی درست طریقے سے پٹائی پر پاکستان میں‌ قانون سازی ہو رہی ہے۔ پہلے مذاق سمجھا۔ پھر اس کی تفصیلات پڑھیں تو پتا چلا کہ آج 2017 میں‌ تیسری دنیا میں‌ جہاں بڑے بڑے سنجیدہ مسائل موجود ہیں، یہ لوگ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ سونے پر مجبور کرنے کے لئیے مار پیٹ کی لوجسٹکس طے کرنے کے لئیے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ کون سا شریف آدمی ایسا کرے گا؟ ایک نارمل انسان یہ سوچے گا کہ میں‌ خود کو کس طرح‌ خوبصورت، خوب سیرت اور خوش لباس بناؤں‌ کہ لوگ مجھے پسند کریں۔ رانجھے نے ہیر اور رومیو نے جولیٹ کا دل جیتنے کے لئے کتنے تھپڑ مارے تھے؟ صورت انسان لے کر پیدا ہوتے ہیں، کم از کم سیرت ہی ٹھیک کرلی جائے۔

نارمل انسان یہ سوچیں‌ گے کہ ان کی بیوی کو کیا پرابلم ہے؟ جنسی تعلقات میں‌ دلچسپی نہ ہونا ایک عام کنڈیشن ہے جو کہ کسی بھی انسان کو ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری بھی ہو سکتی ہے اور نارمل بھی۔ اس کنڈیشن کو “لیک آف لیبیڈو” کہتے ہیں۔ کوئی 5 فیصد افراد دنیا میں‌ اے سیکچؤل ہیں یعنی کہ ان کو جنسی تعلقات میں‌ کوئی دلچسپی نہیں۔ قریب 5 فیصد ہم جنس پسند ہیں۔ بلاوجہ ہر کسی کی شادی کرانا بند کرنا ہوگا۔ لیک آف لیبیڈو کی وجوہات خاص طور پر خواتین میں‌ کافی ساری ہیں اور اس پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی۔ جیسا کہ ایک اور مضمون میں‌ بھی ذکر کیا تھا، زیادہ تر تحقیق اور کتابیں‌ تاریخ میں‌ مردوں نے لکھی ہیں‌ اور خود کو مرکز بنا کر ہی لکھی ہیں۔ جیسا کہ دل کی بیماری پر جو بھی پرانی ریسرچ تھی، اس کو کرنے والے خود بھی مرد تھے اور ان کے مریض‌ بھی مرد تھے اس لئیے انہوں‌ نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ خواتین میں‌ دل کی بیماری نہیں ہوتی اور پھر اسی لحاظ سے ٹیسٹوں‌، دواؤں اور اداروں‌ میں‌ انویسٹ کیا گیا۔ یہ سلیکشن بایس یا چناؤ کے تعصب کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح‌ مردوں‌ میں‌ لیک آف لیبیڈو کے بارے میں‌ بہت لٹریچر بھی موجود ہے اور اس کے اشتہار بھی ٹی وی، ریڈیو، اخبار اور انٹرنیٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ خواتین میں‌ لیک آف لیبیڈو کی دوا ابھی ایک ہی نکلی ہے۔ جیسا کہ میں‌ نے اس سے پہلے بھی ایک مضمون میں‌ لکھا تھا، جب لوگ اپنی تعلیم میں‌ اضافہ نہیں‌ کرتے اور مسائل کی وجوہات جاننے کی کوشش نہیں‌ کرتے تو الٹے سیدھے طریقے سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ مسائل مزید گھمبیر ہوجاتے ہیں۔ ڈریم کیچر برے خواب نہیں پھنساتا، رین ڈانس سے بارش نہیں‌ ہوتی اور مار پیٹ سے کسی کی بیوی میں‌ لیک آف لیبیڈو ٹھیک نہیں ہوگا۔ ہاں‌ یقیناً وہ پہلے سے زیادہ اپنے شوہروں سے نفرت کرنے لگیں‌ گی۔

اگر خواتین کسی بھی وجہ سے بیمار ہوں جیسا کہ ان کو ذیابیطس، دل کی بیماری، کینسر، ہائی بلڈ پریشر، آرتھرائٹس ہو تو ان کو لیک آف لیبیڈو کی شکایت ہوگی۔ کچھ دواؤں‌ کا یہ سائڈ افیکٹ بھی ہے جن میں‌ ڈپریشن کے اور دوروں‌ کے علاج کی دوائیں قابل ذکر ہیں اگر ان کو کسی بھی وجہ سے تکلیف محسوس ہو جس میں ویجسنسمس ایک عام وجہ ہے۔ اگر خواتین کام اور بچوں‌ کی نگہداش میں‌ انتہائی مصروف ہوں جس کی وجہ سے وہ شدید تھکن کا شکار ہوں تو بھی ان کو لیک آف لیبیڈو کی شکایت ہوگی۔ حمل، بچے کی پیدائش کے بعد، بچوں‌ کو دودھ پلانے اور مینوپاز کے دوران ہارمونز میں‌ تبدیلی کے باعث بھی ان میں‌ یہ شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔

ذہنی مسائل جیسا کہ ڈپریشن، بے چینی، معاشی حالات یا کام کا اسٹریس، جسم کے بے ڈول ہونے کا احساس، ماضی میں‌ جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار، عزت نفس کی کمی، گھریلو لڑائیاں، بے وفائی، بھروسہ اٹھ جانا اور اپنے پارٹنر کے ساتھ برے تعلقات بھی لیک آف لیبیڈو پیدا کرتے ہیں۔ خواتین کے لئیے جذباتی تعلق اہم ہے اور اس جذباتی تعلق کے بگڑنے سے ان کے لیبیڈو پر منفی اثر ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں‌ تو صاف ظاہر ہے کہ مار کٹائی سے “مرض بڑھتا گیا جوں جوں‌ دوا کی” والی سچؤیشن پیدا ہوگی۔

خواتین میں‌ لیک آف لیبیڈو ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ نارمل معاشرہ ان وجوہات سے خود کو آگاہ رکھنے کی کوشش کرے گا اور ان کے حل تلاش کرنے کی کوشش بھی کرے گا۔ ایک بیمار اور کم علم معاشرہ ہی تھپڑبازی سے ہر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ شریف آدمی پھول لائے گا، اپنی بیوی کا سر دبائے گا، پھر رحمت ہوئی تو ہوئی ورنہ پھر کبھی قسمت آزمائی۔

اینڈوکرائن کلینک میں‌ خواتین میں‌ لیک آف لیبیڈو کی مندرجہ ذیل دوائیں‌ استعمال ہوتی ہیں۔ ایک ہلکی طاقت والی ٹیسٹواسٹیرون کریم اور دوسری جو نئی دوا نکلی ہے اس کا نام ہے فلیبانسرین یا ایڈی جو اسپراؤٹ فارماسوٹیکل کمپنی نے بنائی ہے۔ اس کے بارے میں‌ ابھی مجھے خود بھی اور سیکھنا ہے۔ انسانی معلومات کبھی مکمل نہیں‌ ہوتیں۔ روز کچھ نیا نکلتا ہے اور سیکھنا ہوتا ہے۔

اس وقت دنیا میں‌ سب سے زیادہ تیزی سے جہاں‌ آبادی بڑھ رہی ہے وہ پاکستان ہے۔ پاکستان میں‌ بچے کی پیدائش کے دوران ماؤں‌ میں‌ مرنے کی شرح‌ دنیا میں‌ سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت پیدائش کے وقت بچوں‌ میں‌ موت کی شرح‌ میں‌ بھی پاکستان سب سے آگے ہے۔ یہاں‌ خواتین اور بچے مر رہے ہیں اور ان آدمیوں‌ کو ان کو مار پیٹ کر ان کے ساتھ سونے کی فکر پڑی ہوئی ہے۔ آپ کے ملک میں‌ پڑھے لکھے لوگ کہاں‌ ہیں؟ خواتین قانون دان کدھر ہیں؟ ان بغیر کوالیفیکیشن کے لوگوں کو نوکری سے نکالیں اور ٹھیک طریقے سے اپنا ملک چلانے کی کوشش کریں۔ ایسے اوٹ پٹانگ قانون کی تو صرف ان لوگوں‌ کو ضرورت پڑ سکتی ہے جن کے ساتھ مار کھائے بغیر کوئی سونے پر تیار نہ ہوسکے۔ ایسی صورت میں‌ ان افراد کو ملک کے قوانین پر نہیں بلکہ خود پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ​


اسی بارے میں

پختونخوا میں ”تشددِ نسواں“ کا جماعت اسلامی بل تیار ہو گیا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔