ثبات جیسا ہے اور جتنا ہے، مثبت لوگوں سے ہے


 ammar masoodٹی وی پر خبر نامہ چل رہا تھا۔ خطے میں صورت حال پھر خراب ہو رہی تھی۔اس دفعہ کرکٹ وجہ تنازع بن گئی تھی۔دونوں اطراف سے شعلہ بیاں مقرر آگ برسا رہے تھے اور پھر اس آگ پر پٹرول چھڑکا جا رہا تھا۔مظاہرے ہو رہے تھے۔ نفرت کا کھلے عام اظہار ہو رہا تھا۔ گڑے مردے اکھاڑے جا رہے تھے۔جلوس نکالے جا رہے تھے۔ یہ خبر ختم ہوئی تو آپس کی رنجشیں سامنے آ گئی۔ حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات زیر بحث آنے لگے۔ الزامات کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ ایک دوسرے کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا عزم دہرایا جانے لگا۔ معاملات کرپشن اور بدعنوانی سے شروع ہو کر ذاتی حملوں تک پہنچ گئے۔ ابھی حکومت اور اپوزیشن کے معاملات سے سنبھلے نہیں تھے کہ جرائم کے قصے شروع ہونے لگے۔ شقی القلب لوگوں کی کہانیاں منظر عام پر آنے لگیں۔ ہتھکڑیوں ، جیل کی سلاخوں ، گریہ کرتی عورتوںور مردہ بچوں کی تصویریں پردہ سکرین پر جگمگانے لگیں۔ نفرت اور بے حسی پھر سر اٹھانے لگی۔شدت ذہنوں میں جگہ بنانے لگی۔

اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں سارک کے ممالک کے ماہر نفسیات اور ذہنی علاج کے معالجین کی چار روزہ کانفرنس ہو رہی تھی۔ کانفرنس کا انعقاد دو کمیٹیوں کے زیر اہتما م ہو رہا تھا۔ آرگنائزنگ کمیٹی کی سربراہی پروفیسر محمد سلطان نے کی جو خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ہیڈ آف سائیکیٹری ہیں۔ سائینٹفک ریسرچ کے شعبے کی سربراہی ڈاکٹر مودت رانا کر رہے تھے۔کانفرنس کے انعقاد کے لیئے ان دونوں اصحاب کو معروف ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر ملک مبشر کی تائید حاصل تھی۔کانفرنس کا افتتاح صدر پاکستان نے کرنا تھا مگر عین وقت پر کسی مصروفیت کی بنا پر معذرت کر لی۔ وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ بھی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے شرکت نہ کرسکیں ۔میڈیا بھی اس کانفرنس میں کسی دلچسپی کی اظہار سے قاصر رہا۔دنیا بھر سے آئے ہوئے دانشور ، سائنسدان، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور معروف ماہر نفسیات کسی بھی حکومتی اہلکار کی زیارت سے محروم رہے۔برطانیہ سے ڈاکٹر ڈیوڈ ایلیگزینڈر، بھارت سے معروف نفسیات دان محترمہ بیلا سودنے خصوصی طور پر اس کانفرنس میں شرکت کی اور مقالہ جات پڑھے۔کانفرنس کے مختلف سیشنز میں میڈیا سے بھی بات کی گئی، نوجوان ماہرین نفسیات کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ خطے میں بڑھتے ذہنی امراض کے حوالے سے جدید ریسرچ سے آگاہ کیا گیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کے پی کے میں سینئر سٹیزن کی مینٹل ہیلتھ کے لیئے بنائی جانے والی پالیسی پر مقالہ پڑھا اور بے پناہ داد وصول کی۔ سارک ممالک میںدہشت گردی کے حوالے سے ڈاکٹر اسد تمیز الدین کے مقالے نے بہت پذیرائی حاصل کی۔کانفرنس کے اختتامی سیشن میں مجھے بھی ادب ، موسیقی اور میڈیا کے حوالے سے خطاب کی دعوت دی گئی۔ ایسے ذی شعور اور فہیم لوگوں کے سامنے کچھ بولنا اپنی کم علمی کا مذاق اڑانے کے مترادف تھا۔میں نے کیا کہا یہ بات اہم نہیں ہے لیکن اس آخری سیشن کا متن سمجھنا سارک کے سارے ممالک کے لیئے بہت اہم ہے۔

دنیا بھر سے آئے سارک ممالک کے ماہرین نفسیات اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم نے خطے میں شدت کو فروغ دیا ہے۔محبت کا سبق بھلا دیا ہے۔ ہم نے ان تمام ملکوں میں احساس کمتری کو احساس برتری میں تبدیل کر دیا ہے۔تعاون کی فضا کو تصادم میں بدل دیا ہے۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کاوش کو مسلسل کر دیا ہے۔شدت اب ان ممالک کی سرشت بن گئی ہے۔اختلاف ہماری سوچ کا حصہ بن گیا ہے۔ نفرت ہمارے ذہنوں میں در آئی ہے۔ اس خطے کے لوگ ایسے نہیں تھے جیسے ہو گئے ہیں۔ یہ تو محبت کے اسلوب کو ماننے والے لوگ تھے۔بھائی چارے ، ایثار اور قربانی کی مثالیں قائم کرنے والے لوگ تھے۔ شعر کہنے والے، غزل کی داد دینے والے، موسیقی کے سرووں پر سر دھننے والے، اپنی ثقافت اور معاشرت پر خوش رہنے والے لوگ تھے۔ یہ لوگ عشق کرنے والے، احترام آدمیت کی مثالیں دینے والے، بڑے بزرگوں کو محترم ماننے والے لوگ تھے۔ یقین مانیئے۔اس خطے کے لوگ ایسے نہیں تھے جو ہو گئے ہیں۔

ہاں البتہ چند لوگ ایسے ضرورہیں جو اس سارے خطے کو ذہنی مریض بنا رہے ہیں، کچھ شعلہ بیان مفاد پرست سیاستدان ہیں ، کچھ تنگ نظر شدت پسند علماءہیں، چند سماجی کارکن ہیں جن کاروبار نفرت پر چلتا ہے۔ جو اس مریضانہ ذہنیت کو فروغ دیتے ہیں۔ جو اختلاف کی ترویج کر تے ہیں جو تصادم میں حظ اٹھاتے ہیں۔ شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ دوستی بھائی چارے کی نفی کرتے ہیں۔ قربانی کو کمزوری تعبیر کرتے ہیں۔دوستی کو سازش بیان کرتے ہیں، ڈائیلاگ کو مجبوری قرار دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ان معاشروں میں زہنی مریض اور امراض کا بڑا سبب بنتے ہیں۔ہر ملک میں موجود یہی وہ چند ناخوش لوگ اس خطے کے حسن کو برباد کرتے ہیں۔نفرتوں کا پرچار کرتے ہیں۔

دنیا بھر کے دانشوروں ماہرین نفسیات اور عاقلوں کی اس کانفرنس کے نتائج میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہمیں اپنی توجہ اثبات پر رکھنی ہے۔ مثبت باتوں اور لوگوں کو تلاش کرنا ہے۔ شدت میں سے محبت ڈھونڈنی ہے۔ اختلاف میں سے اتفاق کی پذیرائی کرنی ہے، بری باتوں میں سے اچھائی دریافت کرنی ہے۔اس مرحلے پر پاکستان کی نابینا کرکٹ ٹیم کی مثال بھی دی گئی۔اپ کو یاد ہی ہو گا کہ چند سال پہلے پاکستان کی کرکٹ ٹیم انڈیا کے دورے پر گئی۔ جس ہوٹل میں ان کا قیام تھا وہاں کے صفائی کے عملے کی غلطی سے ناشتے کی میز پر ایک تیزاب کی بوتل رہ گئی جو غلطی سے ہمارے کسی کھلاڑی نے پی لی۔ کھلاڑی کی طبیعت خراب ہوئی مگر زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔ ہسپتال کے دورے اور ابتدائی طبی امداد کے بعد کھلاڑی کی حالت کو اطمینان بخش قرار دے دیا گیا۔ میڈیا کے ہاتھ یہ خبر لگ گئی۔ لمحوں میںنقشہ ہی بدل گیا۔ پاکستان کی نابینا ٹیم کے کھلاڑی کو قتل کرنے کی سازش سے لے کر سرحدوں کی کشیدگی تک بات پہنچ گئی۔حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ صورت حال لمحوں میں بگڑ سکتی تھی۔ادھر بھارت میں اس ہوٹل کی انتظامیہ نے فوری طور پر ٹیم سے معذرت کی ، اس ملازم کو برطرف کر دیا گیا۔بات یہاں پر ختم ہو جاتی مگر پاکستان کی نابینا ٹیم اور اس کی مینجمینٹ نے کمال کر دیا۔ اس ٹیم نے نہ صرف ہوٹل کی معذرت قبول کی بلکہ فوری طور پر میڈیا پر بیان بھی دے دیا کہ یہ انسانی غلطی ہے کوئی بین الاقوامی ساز ش نہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ہوٹل کی انتظامیہ سے سفارش کی گئی کہ اس صفائی کرنے والے ملاز م کو دوبارہ ملازمت پر بحال کیا جائے۔ ٹیم کی یہ درخواست فورا مان لی گئی۔لمحوں میں طوفان تھم گیا۔ جنگ و جدل کے بادل چھٹ گئے۔ اچانک پیدا ہونے والی نفرت ، احترام میں بدل گئی۔

اس واقعے کے بیان کا مقصد پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک ملک کی اخلاقی برتری ثابت کرنا نہیں ہے۔ کہنے کی بات صرف یہ تھی کہ مثبت لوگ کم بھی ہوں تو ان کے اعمال کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ سارک کے اس خطے میں ذہنی امراض سے بچاو کا پہلا قدم مثبت لوگوں کے اثبات کو تسلیم کرنا ہے۔اسکی پذیرائی کرنا ہے ، انکی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ورنہ ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اس خطے کو ذہنی معذور بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتے۔کانفرنس کے اختتامی سیش سے الوداعی تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر مودت رانا نے جو نصیحت حکومتوں ، اداروں اور افراد کو کی وہ بہت قابل غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کی گفتگو اب سیمناروں سے نکل کر زندگی کا حصہ بننا چاہیے ۔ذہنی مریضوں کا ہر سطح پرعلاج ہونا چاہیے۔ شدت کی نفی ہونی چاہیے۔ افراد کا احترام ہونا چاہیے۔محبت کے جذبے سے لتھڑے ان لوگوں کی کانفرس اس نوٹ پر ختم ہوئی۔ گھر آکر ٹی وی چلایا توٹی وی پر خبر نامہ چل رہا تھا۔ خطے میں صورت حال پھر خراب ہو رہی تھی۔اس دفعہ کرکٹ وجہ تنازعہ بن گئی تھی۔دونوں اطراف سے شعلہ بیاں مقرر آگ برسا رہے تھے اور پھر اس آگ پر پٹرول چھڑکا جا رہا تھا۔مظاہرے ہو رہے تھے۔ نفرت کا کھلے عام اظہار ہو رہا تھا۔ گڑے مردے اکھاڑے جا رہے تھے۔جلوس نکالے جا رہے تھے۔ ۔۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar

One thought on “ثبات جیسا ہے اور جتنا ہے، مثبت لوگوں سے ہے

  • 09-03-2016 at 10:21 am
    Permalink

    “مگر پاکستان کی نابینا ٹیم اور اس کی مینجمینٹ نے کمال کر دیا۔ اس ٹیم نے نہ صرف ہوٹل کی معذرت قبول کی بلکہ فوری طور پر میڈیا پر بیان بھی دے دیا کہ یہ انسانی غلطی ہے کوئی بین الاقوامی ساز ش نہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ہوٹل کی انتظامیہ سے سفارش کی گئی کہ اس صفائی کرنے والے ملاز م کو دوبارہ ملازمت پر بحال کیا جائے۔ ٹیم کی یہ درخواست فورا مان لی گئی۔لمحوں میں طوفان تھم گیا۔ جنگ و جدل کے بادل چھٹ گئے۔ اچانک پیدا ہونے والی نفرت ، احترام میں بدل گئی۔”
    یہی رویہ اگر روزمرہ کی عملی زندگی میں اپنایا جائے تو معاشرے میں شدت پسندی اور بہت سی نفسیاتی پیچیدگیوں کا از خود خاتمہ ہو سکتا ہے یا کم از کم ان میں کمی آ سکتی ہے۔ مثبت سوچ اور اپروچ کی حامل تحریر ہے، عمار!

Comments are closed.