نامعلوم دنیا کی مخلوق سے رابطہ


مقامی مواصلاتی آبزرویٹری آرسیبو میں سائنسدانوں نے ایک ایسا گیجٹ تیار کرلیا ہے جس کی مدد سے وہ نامعلوم دنیا کی مخلوق سے رابطہ قائم کرسکیں گے۔ واضح ہو کہ سائنسی دنیا ایک عرصے سے ان ان دیکھی اور بڑی حد تک روایتی قسم کی مخلوق کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کہتی اور سنتی رہی ہے مگر کوئی نتیجہ اب تک نہیں مل سکا ہے۔ اب ان سائنسدانوں نے پروفیسر اسٹیفن ہاکنز کی قیادت میں پھر سے اپنا رابطہ مشن ان لوگوں کےساتھ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اگر نامعلوم دنیا کی اس مخلوق سے رابطہ ہوجائے تو پہلے مرحلے میں انہیں ریاضی اور طبیعات کے مضامین کے بارے میںابتدائی سوالات بھیجے جائیں گے اور انکے جواب کا انتظار کیا جائیگا۔ بظاہر یہ اچھا منصوبہ لگتا ہے مگر بہت سے سائنسدان جن میں پروفیسر اسٹیفن بھی شامل ہیں اس حوالے سے طرح طرح کے سوالات اٹھا رہے ہیں اور انکا کہناہے کہ نامعلوم دنیا سے رابطہ کرہ ارض کیلئے انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ عین امکان ہے کہ اگر رابطہ ہوجائے تو وہ لوگ نہ صرف یہ کہ کرہ ارض پر قبضہ کرنے کی کوشش کرینگے بلکہ اسے اپنی نوآبادی بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

سائنسدانوں کا کہناہے کہ اس تحقیقی مشن کیلئے وہ اپنی پیغام رسانی ، ان سیاروں تک پہنچائیں گے جن کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ وہاں زندگی موجود نہیں اور نہ ہی وہاں زندگی کے برقرار رہنے کی کوئی امید ہے۔ یہ تحقیقی رپورٹ سان فرانسسکو کے تحقیقی ادارے میٹی (meti) کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔ اس کے صدر ڈگلس کا کہناہے کہ ہم کئی نسلوں سے اس نامعلوم مخلوق سے رابطے کی کوشش میں ہے او ر اس کوشش کو انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں بھیجے گئے پیغامات کی حتمی عبارت اب تک طے نہیں ہوئی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔