این اے ایک سو بیس کیا بتاتا ہے


الیکشن کہیں کا بھی ہو دل آٹو پر اسے فالو کرتا ہے۔ یاسمین راشد کے حاصل کردہ ووٹوں نے حیران کیا ہے۔ حیرت کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کیمپوں کا رش حاصل کردہ ووٹوں سے بالکل میچ نہیں کر رہا تھا۔ دھاندلی وغیرہ کی گپوں پر کبھی یقین نہیں رہا۔ وجہ بس یہی سمجھ آ رہی کہ یاسمین راشد کو بہت ووٹ اس رش سے بھی مل گئے جو نون لیگ کے کیمپوں میں تھا۔ شاید یہ وہ ووٹر تھے جو بڑوں کے کہنے میں آ کر کھڑے کہیں تھے اور ووٹ اپنی مرضی مطابق ڈال گئے۔

یاسمین راشد یہ سیٹ جیت سکتی تھیں۔ ایک آنچ کی کسر بھی نہیں رہی تھی اس بار تو۔ اب تو بہت سنجیدگی سے یہ سوچنا پڑ رہا کہ کیا کپتان واقعی یہ سیٹ جیتنا چاہتا بھی تھا یا نہیں۔ اگلے الیکشن کے حوالے سے یاسمین راشد اور چوھدری سرور کا کمبینیشن اس سیٹ پر سرپرائیز دینے کے قابل ہے۔ ان دونوں کی جوڑی قومی صوبائی اسمبلی پر میدان میں مل کر اتری تو یہ جیت سکتے ہیں۔ یاسمین راشد کے لیے حلقے کے لوگوں میں پسندیدگی پائی جاتی ہے یہ بات اب ثابت ہو چکی۔ باقی سب باتوں کو پارٹیوں کو نتائج کو رہنے دیتے ہیں اب الیکشن کے نوازشریف پر اثرات کی بات کرتے ہیں۔

نوازشریف کی نا اہلی کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی۔ یہ نا اہلی کی وجہ بس اتنی ہے کہ میاں صاحب اب اپنا ایک سیاسی حکومتی ریاستی وژن رکھتے ہیں۔ وہ آئے یا اگائے بھلے فوجی گملے میں ہی تھے لیکن وہ اب خود اک گھنا جنگل بن چکے ہیں۔ انہوں نے جو سیکھا ہے میدان میں سیکھا ہے سٹریٹ سمارٹ ہیں۔ آپ شوق سے ان کے بھولپن کی کہانیاں سناتے رہیں حقائق ان کہانیوں کی تصدیق نہیں کرتے۔

پاکستان ستر سال کا ہو چکا۔ ایک کم ساٹھ سال ہوئے ہماری فوج کو ریاستی معاملات میں شامل ہوئے۔ چالیس سال ہونے کو آ رہے میاں صاحب کو سیاست ریاست حکومت کے دشت کی سیاحی کرتے۔ ساٹھ سال کے ریاستی انتظام میں طاقتور ترین فریق کی حیثیت سے فوج کے اثر اور طاقت کے ہم بس اندازے ہی لگا سکتے ہیں۔ یہ ہمارے اندازوں سے بہت آگے کی بات ہے۔ آپ لگاتے رہیں یہ اندازے ہم اگلی بات کرتے ہیں۔

طاقت کے کھیل میں کھلاڑی کی شیلف لائف اس کی اپنی زندگی سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ نہیں سمجھ آئی تو آج بھی بھٹو زندہ ہے کہ نعرے پر غور کر لیں۔ اس وقت نوازشریف سے تگڑا کھلاڑی ہماری پاور گیم میں موجود نہیں ہے۔ پاور گیم میں جیت ہار نہیں ہوتی اس میں بس سچویشن ہوتی ہے۔ کبھی آپ نرم حالات کا سامنا کرتے ہیں کبھی گرم، کبھی آپ تھلے لگ جاتے ہیں کبھی آپ دوسرے کو گرا کر اوپر بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ جس بھی پوزیشن پر جائیں آپ کے فیصلے کھیل کو بگاڑتے بناتے رہتے ہیں تب تک جب تک آپ کا وقت ہی پورا نہیں ہو جاتا۔ وقت پورا ہونے کے بعد بھی کہانی ختم نہیں ہوتی ہم آج بھی ضیا کو بھٹو کو تو چھوڑیں نسبتا کمزور اور مختصر کردار ادا کرنے والے یحی خان جیسے کھلاڑیوں کو بھی یاد کرتے ہیں۔

پاور گیم کا ہر کھلاڑی فیصلہ کن کردار رکھتا ہے بھلے وہ ہار چکا ہو۔ ہم اکثر مہروں کو کھلاڑی سمجھ لیتے ہیں۔ غلطی کرتے ہیں، جب مہرے خود کو کھلاڑی سمجھتے ہیں تو وہ ہم سے بھی بڑی غلطی کرتے ہیں۔ ایسا سمجھنے والے مہروں کو ہی اناڑی کہا جاتا ہے۔ شہباز شریف چوھدری نثار مہرے ہیں کھلاڑی نہیں ان کو کوئی چلاتا ہے یہ خود نہیں چلتے۔ ان اناڑیوں کے کھلاڑی بننے کا وقت آیا ضرور تھا لیکن شاید گزر گیا۔

نوازشریف نا اہل ہوئے تو انہوں نے کھلاڑی ہونے کا ثبوت دیا۔ سب سے پہلے حکومتی سیٹ اپ میں اپنی پوزیشن مستقل کی۔ کسی کو اندازہ تک نہیں ہوا کہ شاھد خاقان عباسی کو انہوں نے مستقل وزیراعظم بنایا ہے۔ نوازشریف نے اپنی سیاست حکومت کو ایسے الگ کیا کہ حکومتی کارکردگی چند ہفتوں میں بہتر لگ رہی ہے۔ سب اندازے لگاتے رہے نوازشریف کو بالکل درست پتہ تھا کہ انہیں کون سا امیدوار کدھر سوٹ کرتا۔ وزیراعظم سب کو دکھائی دے رہے ہیں انہوں قائم مقام پارٹی سربراہ بھی بنایا ہے ایک۔

مسلم لیگ نون کے قائم مقام صدر سردار یعقوب خان ناصر کچھ ہفتے پہلے مسلم لیگ نون چھوڑ کر مولانا کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی نیت باندھ چکے تھے۔ اب جس کا دل کرتا ہے وہ جائے پانچ دس ارب نقد نذرانہ دے کر یا طاقت سے سردار صاحب کی پارٹی بدل کر دکھائے۔ نوازشریف کی پرکھ کیسی ہے انسانوں کی اس کا اندازہ ہو جائے گا۔ وہ اپنی ضرورت مطابق بندے کو آرام سے استعمال کرتے ہیں بندہ بھی استعمال ہوتا ہے پورےجذبے سے جاوید ہاشمی کو یاد کر لیں۔

نا اہل ہونے کے بعد نوازشریف کو ثابت کرنا تھا کہ ان کی طاقت برقرار ہے۔ پہلا ثبوت انہوں نے روڈ شو سے دیا۔ آپ کمزور بتاتے رہیں سمجھتے رہیں طاقت کے جو عالمی مراکز ہیں وہاں انہیں پورے نمبروں سے پاس کر دیا گیا۔ دوسرا مرحلہ انہیں اپنا ووٹ بنک ثابت کرنا تھا۔ وہ الیکشن کے نتائج میں ثابت کر چکے۔

لاہور کے ووٹر کو کدو یا بکاؤ سمجھنے والے خود بھی یہی کچھ ہیں۔ یہ بکنے والا ووٹر نہیں ہے اس ووٹر نے کپتان کی کمپین کا اثر قبول کیا ہے ثبوت حاضر ہے یاسمین راشد کے ووٹوں کی صورت میں۔ اس ووٹر نے ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف ردعمل دیا ہے ثبوت میں حاضر ہیں سات ہزار ووٹ۔ بھارتی پنجاب سے آئے مہاجر تقسیم کا دکھ پال کر بیٹھے ہیں۔ وہ بھارت دشمنی کی علامت ملی مسلم لیگ کو آپشن سمجھتے ہیں۔ کم ہیں لیکن ایسے لوگ ہیں ان کے بھی ووٹ گن لیں ثبوت میں۔ نا اہلی کے خلاف ریویو درخواست مسترد ہونا بھی ایک اچھی علامت ہی ہے۔ کم ٹرن آؤٹ یہ بتاتا ہے کہ لوگوں میں عدالت کا اعتبار قائم ہے وہ احتجاجاً یا احتراماً لاتعلق ہوئے ہیں ووٹنگ کے عمل سے۔ ایک دن پہلے ریویو درخواست مسترد ہونے نے ووٹر کی سوچ پر اثر ڈالا ہے وہ کافی تعداد میں لاتعلق ہوا ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے نون لیگ کو ہمدردی کا ووٹ ملا شاید غلطی پر ہیں۔

لاہوریوں نے پولنگ کا وقت ختم ہونے پر کہیں کہیں قطاریں لگا کر یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی سست حمایت پر اتنا بھی یقین نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں ناشتے اور نیند بھی اتنی ہی پیاری ہے جتنی دھڑے بندی۔ نوازشریف نے اکسٹھ ہزار ووٹ لے کر بتا دیا ہے کہ وہ ممتاز قادری جیسے اور بھارت سے تعلقات جیسے فیصلے تب بھی افورڈ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں جب اس کا سیدھا ردعمل انے کے اپنے حلقے سے بھی آ سکتا ہو۔

نوازشریف حکومت سے باہر ہیں ابھی باہر ہی رہیں گے۔ وہ طاقت کے کھیل سے باہر نہیں ہوئے پوری طرح متعلق ہیں۔ حکومت اب بھی ان کی مرضی مطابق چلے گی کہ انہی کی ہے۔ وہ اپوزیشن میں بیٹھے تو تگڑی اپوزیشن ہوں گے تب بھی وہ حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہوں گے اس لیے بہت ہی متعلق رہیں گے۔ الیکشن نتائج شہباز شریف کے لیے اچھی خبر نہیں لائے۔ بہت ممکن ہے کہ اگلے الیکشن کے بعد پنجاب میں خادم اعلی کے شخصی انداز حکومت کو آرام دیا جائے اور وہاں پہلی خاتون وزیراعلی سامنے آئے، دیکھتے ہیں۔

بلاگ کی دم بس اتنی ہے کہ جماعت اسلامی اور پی پی کا ذکر کرنے پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ اپنی ٹنڈ پر خارش کر لے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 252 posts and counting.See all posts by wisi