نوجوانی کا کھیل یا موت کا پروانہ


خوب صورت صاف ستھری سڑکیں، انڈر پاسزشہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں آپ شہروں میں ایسی سڑکیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ شہر کی خوب صورت شکل نظر آتی ہے۔  کئی جگہوں بہت کشادہ اور صاف ستھری سڑکیں ہیں جیسے کراچی میں ڈیفنس ، کلفٹن اور لاہور میں نہر والی روڈ۔  ان پہ خوبصورت انڈر پاسز بھی ہیں جن کی وجہ سے بغیر رکاوٹ کے کے دور تک آسانی سے گزر سکتے ہیں۔  آپ اس تمہید سے غلط اندازہ لگارہے ہیں ہم سڑکوں کا قصیدہ نہیں پڑھ رہے بلکہ ان سڑکوں پہ ہونے والے ایک عجیب وغریب کھیل یا اسٹنٹ کے بارے میں بتانے جارہے ہیں۔

اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ کی گاڑی آگے یا برابر میں کوئی  بائیک سوار لیٹ کر بائیک چلا رہا ہے، کوئی ایک پہیے پہ بائیک چلارہا ہے اور اگلا پہیہ ہوا میں لہرا رہا ہے۔  ہاں یہی وہ خطرناک کھیل ہے جو ان سڑکوں پر کھیلا جارہا ہے اسے ”ون وہیلنگ ” کہتے ہیں یا عرف عام میں ویلی مارنا بھی کہتے ہیں۔  مانا ہماری نئی نسل میں بہت ٹیلنٹ ہے وہ ہر طرح کا کام کر سکتی ہے لیکن یہ کھیل کچھ کچھ سرکس کے کرتب سے ملتا ہوا ہے، ہمارے نوجوان بہت مہارت سے اس کھیل کو شہروں کی سڑکوں پر کھیلتے نظر آتے ہیں۔

اس کھیل کے لیے خاص طور پر ویک اینڈ، عام تعطیلات اور 14 اگست یوم آزادی پر تو باقاعدہ اس کا مقابلہ ہوتا ہے۔  جان پر کھیل کر چلتے ٹریفک کے درمیان ایسے ایسے کرتب دکھاتے ہیں کہ برابر میں گاڑی چلانے والا کانپ اٹھتا ہے لیکن منہ زور جوانی کے بل پر زور شور سے یہ اسٹنٹ جاری رہتا ہے اور ساتھ میں پچیس تیس بائیک سوار ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔  بغیر سائلینسر کی یہ بائیکس ایک بے ہنگم شور کرتی ہوئی سڑکوں پر دندناتی پھرتی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔  تہوار کے دنوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی تو سر شام سے ہی یہ جان لیوا کھیل شروع ہوجاتا، جان لیوا اس لیے کہ اس کھیل میں ایک دو کی جان ضرور ہی جاتی ہے۔  وقتی طور پر لوگ افسوس کرتے ہیں اور پھر دوبارہ اپنی زندگی میں مگن ہوجاتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  سی پیک: ترقی کی شاہ کلید

ایک نوجوان کی جان اتنی ارزاں تو نہیں کہ اس طرح سڑک پر تڑپ تڑپ کر ختم ہوجائے۔  یہ ایک طرح کی خود کشی ہے کیونکہ نوجوان جانتے بوجھتے اس بھیانک کھیل کو کھیلتے ہیں اور آسانی سے موت کے منہ مین چلے جاتے ہیں، اور پیچھے رہ جاتے ہیں ماں باپ وہ زندہ در گور ہوجاتے ہیں۔  پولیس وقتی طور پر تو ایکشن لیتی ہے لیکن پھر پیسے لے کر چھوڑ دیتی ہے۔  سڑک پہ چلنے کے قوانین ہیں لیکن قانون کی پرواہ کون کرتا ہے، عارضی پکڑدھکڑ کا کوئی اثر نہیں ہوتا، اس کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے کام لینا پڑے گا کیونکہ“ ون وییلنگ ” کا کھیل خطرناک صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے خاص طور سے کراچی اور لاہور میں تو یہ ایک فیشن بنتا جارہا ہے۔  ساحل سمندر جانے والی سڑک پر ون وہیلر دندناتے پھرتے ہیں اور کوئی نہ کوئی حادثہ وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔  اسی طرح لاہورمیں نہر والی سڑک پر ون وہیلر بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، اس سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے اور اور حادثات ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے اور جب حادثہ ہوجاتا ہے تو اس میں جان ضرور جاتی ہے۔

اس کھیل کا ایک اور بھیانک پہلو یہ ہے کہ ون وہیلنگ کرتے ہوئے ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور یو ٹیوب پہ اپ لوڈ کی جاتیں ہیں، نوجوان ایک دوسرے کو اس کھیل کو کھیلنے کے لیے اکساتے ہیں، اس میں شرطیں بھی لگتی ہیں کہ کون کتنی دیر ہوا میں وہیل رکھے گا۔  اس کے علاوہ مختلف علاقوں کے نوجوانوں کے درمیان مقابلے بھی ہوتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ فلاں علاقے کے لڑکے ون وہیلنگ میں بہت اچھے ہیں اور کس علاقے کے لڑکوں کو ون وہیلنگ کرنی نہیں آتی۔  اس میں پڑھے لکھے اور جاہل کی تخصیص نہیں ہوتی بلکہ صرف موٹر سائیکل چلانے میں مہارت شرط ہوتی ہے اور اپنی ذاتی بائیک ہونا ضروری۔

اسی بارے میں: ۔  فلم ’’دوبارہ‘‘: صبر کا امتحان

 اگر یہ واقعی میں ایک کھیل ہے تو اس کے لیے ایک مخصوص جگہ بنا دی جائے اور کھیلوں کی وزارت اس کی سرپرستی کرے تاکہ نوجوانوں کی قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں، باقاعدہ انسٹرکٹر رکھ کر اس کھیل کی تربیت دی جائے تاکہ نوجوانوں کا یہ مشغلہ مثبت انداز میں پروان چڑھے۔  اس کے برعکس ہے تو اس جان لیوا کھیل پر پابندی لگائی جائے۔

 پولیس قانون کی پابندی کروائے اور عام سڑکوں پہ ون وہیلنگ کی بالکل اجازت نہ دے، بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا د ی جائے۔  گھر میں والدین بھی لڑکوں کو بائیک دے کر بے فکر نہ ہوجائیں اور ان کو اس قسم کے کھیلوں سے باز رکھیں اور سمجھائیں کے اس میں جان جانے کا خطرہ ہے اور بچ بھی گئے تو ہاتھ پیر کی ہڈی تو ضرور ٹوٹے گی اور معذوری کی زندگی گزارنی پڑے گی۔  ڈرائیونگ لائسنس کی جانچ اچھی طرح کی جائے کیونکہ اکثر کے پاس لائسنس نہیں ہوتا اس پر سزا دی جائے تاکہ اس خونی کھیل کو کھیلنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔  اس میں ایک اور چیز پر عمل کروایا جائے کہ اس کھیل کو عام شاہراہوں پر نہ کھیلا جائے بلکہ ایک مخصوص میدان یا علاقے میں یہ کھیل کھیلا جائے تاکہ جانی نقصان نہ ہو۔  کھیل کو کھیل سمجھیں موت کا پروانہ نہ بنائیں۔  زندگی وہ نعمت ہے جو ایک بار ملتی ہے اس نعمت کو اپنے ہاتھ سے نہ گنوائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔