سلمان تاثیر ،ممتاز قادری،مُلّا اور میراثی


khawaja kaleemرسول خدا ﷺ کو رحمت اللعالمین کالقب کیوں عطا ہوا؟ اس لئے کہ یہ وصف ان کے تمام اوصاف پر حاوی ہے ، اسی طرح جیسے خالق کا کرم اس کے قہر پر بھاری ہے ۔ایک مجلس میں اسلام کا نام لینے کا گناہ کر بیٹھا !سوال ہوا اسلام کو کیوں بیچ میں لاتے ہو، کہا اسلام کی جگہ انسانیت کر لیں !لیکن اسلام اور انسانیت میں کوئی فرق ہے تو مجھے سمجھا دیجئے! فرق کوئی ہوگا تو سمجھائے گا!خاکسار اس بات پر ہمیشہ سے نالاں رہا ہے کہ یہ قوم اعتدال کیوں روا نہیں رکھتی ۔ جواب ہمیشہ ایک ہی پایا کہ علم کی کمی اس کا سبب ہے۔علم ! جس کے حصول کا حکم خالق نے سب سے پہلے اپنے محبوب کو دیا اور پھر کتاب نے واضح کردیا کہ ”کیا علم والے اور بے علم برابر ہوسکتے ہیں“۔

بخدا مرحوم سلمان تاثیر رسول اللہ ﷺکی شان میں گستاخی کے مرتکب نہ تھے اور ممتاز قادری کو دہشت گرد قراردینا یا اس کے جنازے میں شرکت کو انتہا پسندی کی حمایت قراردینا بھی مناسب نہیں ہے۔سزائے موت کے مخالفین کا اس پھانسی کے خلاف ایک لفظ نہ بولنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ انسانی حقوق کا واویلاکرنے والوں کا اصل ہدف کچھ اور ہے ۔آپ سلمان تاثیر کو شرابی کہیں یا عورتوں کا دلدادہ،اس کی سو خامیاں گنوائیں ،میں مان لوں گا لیکن جس جرم کے نام پر ان کا سینہ چھلنی ہوا وہ اس کے مرتکب نہ تھے اور اس کی وضاحت انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کردی تھی ۔سلمان تاثیر تو کیا ہم میں سے کوئی بھی چاہے وہ کتنا ہی گیا گزرا مسلمان ہو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور غیر مسلم !دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ وہ یہ حماقت کیسے کر سکتے ہیں؟ہاں توہین رسالت کے قانون کوسلمان تاثیر نے کالا قانون ضرور قرارد یا ،خود سلمان تاثیر کی وضاحت کے مطابق اس لئے کہ اس قانون کی آڑ لے کر لوگ اپنی ذاتی دشمنی اور بدلے کی آگ ٹھنڈی کرتے ہیں۔ذاتی طور پر میں نے آسیہ بی بی کے ساتھ بیٹھ کر ان کی پریس کانفرنس کی تب بھی مذمت کی تھی اورآج بھی اس کو ایک غیر قانونی فعل سمجھتا ہوں اور لیکن اس کو توہین رسالت قراردینا غلط ہے۔اورغلطی پر اصرار رحمت اللعالمین ﷺ کے پیروکاروں کو زیب نہیں ۔

اور رہا ممتاز قادری !تو وہ ایک سیدھا سادھا کلمہ گو مسلمان تھا جو جذبات کی رو میں بہہ کر یہ بھول گیا کہ اس کا فرض قانون کی حفاظت اور پاسدار ی ہے نہ کہ قانون کوہاتھ میں لے کر خود ہی فیصلہ صادر کردینا ۔ ایک نیم خواندہ بھولا بھالا انسان ، جو بھول گیا کہ اس کا مذہب اس سے اپنے فرض کی ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے۔اس سے تو چوک ہوئی لیکن اس مُلّا کا کیا !جس نے اس معاشرے کی رگوں سے رواداری اور برداشت کا خون نکال کر نفرت اور دشمنی کا زہر بھر دیا ہے ،اصل مجرم تو وہ ہے جو صاف بچ نکلا ہے۔ملک ممتاز عطاری قادری!بادی النظر میں مولانا الیاس قادری کا مرید یا دعوت اسلامی کا پیروکار معلوم ہوتا ہے۔کل ہی ایک دوست کے توسط سے مولانا الیاس قادری کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں وہ اپنے مریدوں کو نصیحت کر رہے ہیں کہ مجرم چاہے جوتا چوری کا ہو یا توہین رسالت کا مرتکب ،آپ اس کو انگلی سے بھی نہیں مار سکتے ۔آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اسے پکڑ کر قانون کے حوالے کردیں۔

اِ لّا یہ کہ بڑے بڑے مفتی اور علامہ اور جبہ پوش ،تمیز اور تہذیب کی ہر حد پھلانگ کر ایک وزیر کے ساتھ جو بہرحال احترام آدمیت کا حقدار ہے توہین آمیز اور ذلت پر مبنی رویہ اختیار کریں۔ اپنے تئیںتو آپ کے جوتے بھی مقدس ہیںلیکن اس سارے قصے میں وزیرموصوف کا کیا قصور؟ اصل گھپلا یہاں ہے،جہاں مذہب کے نام پر سادہ لوح انسانوں کو بیوقوف بنایا جاتاہے۔یہودی عالم رب کے نام پر ر بی بنا،عیسائی عالم نے خالق کو فادر کہا اور پھر خود ہی فادر بن بیٹھا اور مالک کو مولا بتانے والا مولانا ہوگیا۔خالق کی طرف تو مخلوق کو جانے ہی کوئی نہیں دیتا سب نے اپنی ہی ذات کے طواف پر لگا رکھا ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒکا ایک بیان بہت تیزی سے پھیلایا جارہا ہے کہ ’ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ ہم میںحق پر کون ہے‘۔شاید کسی جاہل مُلّانے اس موقع پر یہ دور کی پھبتی کسی ہے کیونکہ یہ فرمان امامؒ نے حاکم شہر کے سامنے ارشاد فرمایا تھا جب حاکم نے انہیں قید کرنے کا حکم دیا ۔ اس کو ایک عام اصول کے طور پر لاگو کرنا درست نہیں ۔ کسی کو اس اصول کی حقیقت جاننی ہے تو داماد رسول حضرت عثمان غنیؓ  سے لے کر حضرت امام موسیٰ کاظم رضا ؒتک کی تاریخ پڑھ لے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے ۔ برصغیر کے وہ صوفیاءیاد آتے ہیں جن کو گذرے صدیا ں ہوئیں لیکن عظمت آج بھی ان کے مزارات کی امین ہے۔لاہور کے داتاخواجہ ہجویرؒ، سطان الہند خواجہ معین الدین چشتیؒ، خواجہ نظام الدین اولیاؒ، حضرت بہاالدین زکریاؒ، شاہ رکن عالم ؒ، بابا تاج الدین نا گپوری ؒاورحسن اُ خریٰ سید محمد عظیم برخیاؒ جیسے قلندر، انسانیت سے محبت جن کا مذہب تھا اورآج بھی بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں کے گروہ انہیں عقیدت کا خراج پیش کرتے ہیں۔

خبر یہ ہے کہ جہاد کے نام پر پاکستانی ماوں کے لخت جگر کابل اور قندھا رمیں چھلنی کرانے والی جماعت اسلامی کے امیر اب یہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ممتاز قادری کی فاتحہ پڑھی جائے۔ اس لیے نہیں کہ انہیں ممتاز قادری سے محبت ہے اس لئے کہ اس سے بڑی خبر بنے گی اور بڑی خبر سے ووٹ ملنے کی توقع ہے اور ووٹ ہی انہیں ان کی بے وفا معشوقہ ’حکومت‘ کے مکمل وصل کی لذتوں سے آشنا کراسکتا ہے۔

میرے نزدیک لبرل یا سیکولر ہونا کوئی جرم نہیں لیکن دوسروں پر اپنی رائے تھوپنا اور عدم برداشت کا مظاہر ہ کرنا ایک فتنے کے سوا کچھ نہیں ۔ممتازقادری کمرہ امتحان میں اپنا وقت پورا کرچکا۔ اس کی سزاپر بغلیں بجانے والے یہ مت بھولیں کہ ریاست کے قانون کے مطابق اس نے جو جرم کیا، اس کی سزا پالی اور اس سزا کے بعد قانون قدرت کے تحت اس پر کچھ اور واجب نہیں ۔دنیا میں اپنا وقت پورا کر کے روح جب پرواز کر جاتی ہے تو دنیا کے ہرمذہب میں آخری رسومات معاشرتی فرض کا درجہ رکھتی ہیں۔ مالک کے ہاں کون مقبول ہے اس کا فیصلہ وہ ہی کر سکتا ہے۔ سلمان تاثیر اور ممتاز قادری اپناوقت مکمل کر چکے اب جس عدالت میں وہ موجود ہیں وہاں کسی مفتی،کسی علامہ ،کسی لبرل یا کسی سیکولر کی نہیں چلتی اور نہ ہی یہ عدالت اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے کسی دوسری طاقت کی محتاج ہے۔

باقی رہی حکومت !تو وہ اچھا کرے یا برا، اس پر کوئی بھی راضی نہیں، قانون پر عملدرآمد بہت اچھی روایت ہے لیکن حکومت کے ہی کچھ دوستوں کی رائے یہ بھی ہے کہ ممتاز قادری کو پھانسی دینے کی جلدی کیاتھی؟ کیوں حکومت نے بم کو لا ت ماری ہے؟ قارئین مجھے حکومت کا تو پتہ نہیں لیکن مفتی حنیف قریشی جیسے مُلّاوں کے طرز عمل سے مجھے اپنا بچپن یاد آرہا ہے جب امی ابو ایک کہانی سنایا کرتے تھے معلوم نہیں کیوں مجھے یہ کہانی بار بار یادآرہی ہے۔گاو¿ں کا میراثی اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا گاوں کے چودھری کو گالیاں نکال رہا تھا ،اتفاق سے چودھر ی نے بھی سن لیا لیکن نظر انداز کر کے چل دیا۔رات کو چودھری کو خبر ملی کی میراثی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر گاوں سے ہجرت کر رہا ہے۔ چودھری بھاگم بھاگ پہنچا اور میراثی سے ہجرت کی وجہ پوچھی ۔میراثی روہانسا منہ بناکر ہاتھ جوڑ کر بولا مائی باپ !میرے سے بڑا جرم سرزد ہوا اب آپ مجھے کیسے اس گاوں میں رہنے دیں گے میرا ہجرت کرجانا ہی بہتر ہے۔ چودھری سمجھدارآدمی تھا اس نے میراثی کا سامان واپس گھر میں رکھوایا اور اس کو ڈانتے ہوئے کہا !بیوقوف پہلے تو صرف تمہاری بیوی جانتی تھی کہ تم نے مجھے گالی دی اب تم ساری دنیا کو بتاو گے؟ قارئین !اگر آپ کو اس کہانی کی سمجھ نہیں آئی تو میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ نے یہ کالم پڑھ کر اپنا وقت ضائع کیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “سلمان تاثیر ،ممتاز قادری،مُلّا اور میراثی

  • 11-03-2016 at 10:54 am
    Permalink

    یہ تمام شر ملّاوؑں کا پھیلایا ہوا ہے ۔ اصل میں یہ لوگ اس انتہائ آسان مذھب کو انتہائی مشکل بنا کر لوگوں کو مذھب سے بر گشتہ کررہے ھیں ۔ جس حرکت پر پابندی لگنی چاھئے اسپر تو لگتی نہیں ، آئے دن ڈبل سواری پر پابندی لگتی رہتی ھے ۔ کلیم صاحب نے موضوعِ وقت پر بالکل حق بات کہی ھے جو بڑے حوصلے کی بات ھے ۔ اگر اس جزباتی سیلاب پر بند نہ باندھا گیا تو بہت زیادہ اور کہیں بڑی تباہیاں دور نہیں لیکن لوھار برادران کومال بنانے سے فرصت ھو تو ادھر دیکھے ۔

  • 02-05-2016 at 9:38 pm
    Permalink

    کلیم صاحب زبردست
    ایک سادہ لوح مسلمان ممتاز قادری کے جزبات کوابھرنے والے ملاؑوں نے یہ جرم خود کیوں نا کیا اگر اسطرح جنت کے حصول کا انہیں اتنا یقین تھا تواس غریب کے جزبات کو ابھارنے کی بجائے کسی ملاّ کو یہ خود کر گزرنا چاہئیے تھا ۔ مگر اپنی جان سے کون کھیلتا ہے ۔ میں نے خود کسی چینل پر سلمان تاثیرتردید کرتے اور وضاحت کرتے سنا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ میں مسلمان ہوں اور اس طرح کے فعل کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس میں سوعیب ہوں گے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو اللہ کی دی ہوئی جان چھیننے کا سرٹیفیکیٹ مل جائے ۔
    اگر ان سیاسی مفادپرست ملاوؑں کی ذہن کے مطابق بھی سوچا جائے توممتاز قادری نے سمجھ بوجھ کے ساتھ یہ فعل انجام دیا تھا وہ یہ جانتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہو گا ۔
    اگر یہ احتجاج ممتاز قادری کیلئے ہوتا تو اسے سزا پر عمل درآمد سے پہلے ہونا چاہیئے تھا ۔ تاکہ کہ حکومت پر دباو بڑھتا ۔ اورپھریہ کام حکومت سے اوپر کا ہے انہی کا جن کےڈالرز کی چمک نے میڈیا کی آنکھیں چندھیا دیں ۔جو حکومت اپنے خلاف صبح سے رات تک کسی میڈیا کی گزبھر زبان کو لگام نا دے سکی وہ ممتاز قادری کی کوریج کو کیسے روک سکتی تھی ۔

Comments are closed.