میں 45 سال کی عمر میں کیا سوچتا ہوں؟


چند دن قبل، میں اپنی عمر کے 45ویں سال میں داخل ہو گیا۔ گویا نصف سنچری سے صرف پانچ سال اِس طرف۔ اس دن، میری پارٹنر، عترت اسد اور میرے عزیز دوست، جواد شکیل، جس کو میں دلہا میاں کے نام سے یاد کرتا ہوں، نے پوچھا کہ میں اوسطا مہیا کی گئی زندگی کا اک بڑا حصہ گزار لینے پر کیا سوچتا ہوں؟ وعدہ کیا کہ کچھ تحریر کروں گا۔ اگر تحریر کرنے بیٹھوں تو تجربات، مشاہدات اور خیالات تو شاید نمرہ ، عمیرہ، بیلا اور یحیٰ کی تمام کتب کی مجموعی ضخامت سے بھی بڑھ جائیں، مگر شکر کہ میں نمرہ، عمیرہ، بیلا اور یحیٰ نہیں۔ لہذا چار آنے کے جو ادھ بھنے چنے میں بانٹ سکتا ہوں، وہ درج ہیں۔

1۔ وطن عزیز میں زندگی مشکل نہیں، بشرطیکہ آپ اک حساس دل، اور سوچنے والے دماغ کے مالک بھی نہیں۔ آپ کتب بینی، اپنی ذات کی ظاہری و بیرونی ترقی کے ساتھ ساتھ اندرونی مضبوطی اور ترقی کے بھی قائل ہیں، تو زندگی مشکل ہی رہے گی۔ آپ کا اگر ذاتی مشغلہ، عمومی قومی مشغلے کے برابر ہی ہے تو، صاحب، آپکی زندگی گلزار ہے۔ اور پچھلے چالیس سال سے ہمارا قومی مشغلہ، چکن کڑاہی کھانا ہے۔ اپنے کام پر توجہ دیجیے۔ اپنی بساط اور اوقات سے بڑھ کر کرنے یا کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج کل تو یار لوگ اٹھا بھی لے جاتے ہیں، اور کسی قانون سے کوئی شنوائی بھی نہیں ۔ احباب، رول کے رکھ دیتے ہیں، اور ساتھ میں جڑے مخلص لوگ، رُل جاتے ہیں۔

2۔ میں مردم شناس شخص نہیں۔ میری زندگی میں اس حوالے سے ناکامیوں کا ہمالہ ہے۔ پچھلے ڈھائی سال نے نفسیاتی طور پر بہت توڑے رکھا اور میری تازہ ترین ناکامی اس مد میں، سالِ رواں کے مارچ کی ہے جب سترہ سال پرانے اک دوست نے کچھ پیسے ادھار لیے اور ان چند پیسوں کو بعد میں سترہ سال کی دوستی پر مقدم جانا۔ ابھی تک یہی معلوم پڑا ہے کہ لوگوں کو ٹوائلٹ پیپر کی طرح دیکھ کر استعمال کرنے والوں کی عمومی کرنسی زیادہ ہے، اور وہ یہ کام مسلسل کیے چلے جاتے ہیں، اور معاشرتی معیار کے مطابق وہ کامیاب بھی کہلواتے ہیں۔ وہ اور معاشرہ چونکہ اک ہی لیول پر ہوتے ہیں، تو طرفین اک دوسرے کی ترقی اور رویہ میں Feed in کرتے چلے جاتے ہیں۔ باقی معاشروں کا تو علم نہیں، صرف اندازہ ہی ہے، مگر اپنے ہاں یہ صورتحال اپنی زندگی کے عرصہ میں مسلسل چلتی ہوئی ہی نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  جی ٹی روڈ پر بریکیں مارتا جمہوری ڈانس

3۔ تمام انسان برابر نہیں۔ زبان کی معذرت، مگر یہ رومانوی جھوٹ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ فطرت نے جانوروں اور انسانوں کی حمل و پیدائش کا سلسلہ اک جیسا ہی رکھا ہے۔ جانور چونکہ ارتقاء میں Sapiens کے جینوم سے پیچھے رہ گئے تو انہوں نے زندگی گزارنے کے لیے جبلت کا سہارا لیا۔ انسان ارتقا میں آگے بڑھ گیا تو اس نے جبلت کے ساتھ ساتھ عقل بھی شامل کر لی۔ ممکن ہے کہ بہت سے مجھے بھی “جبلی انسان” ہی سمجھتے ہوں، مگر یہ مشاہدہ میں آپ کے کورٹ میں چھوڑتا ہوں کہ وطن عزیز کے طرزِ معاشرت نے کتنے آدمی اور کتنے انسان تخلیق کیے ہیں، آپ خود ہی اس کا جائزہ لے لیجیے۔ تین اشارے پاکستان میں ہونے والے فنون لطیفہ، گفتگو اور ذہنی تربیت کے Processes کے موجودہ حالات کے حوالے سے آپکی نذر کرتا ہوں۔ جواب خود تلاش کر لیجیے۔

4۔ زندگی میں تقلید زہرِ قاتل ہے۔ کسی بھی معاملہ میں تقلید یعنی Conformism کو میں سائنائیڈ سے بھی تیز ترین اور مہلک ترین زہر سمجھتا ہوں۔ تقلید ذہن کے تمام تخلیقی خلیات کے لیے تیزاب ہوتی ہے، اور آپ کی تخلیقی صلاحیت کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ تقلید جانوروں کے لیے ہی مناسب عمل ہے۔ آپ نے اگر اک بیالوجیکل اور کیمیائی حادثے کے معیار پر رہنا ہے تو جنابان من، تقلید آپ کا بہترین رستہ ہے۔ غیر تقلیدی رویہ آپ کی زندگی کے سفر کو سپرم اور انڈے کے حادثاتی ملاپ سے اک قدم آگے سے شروع کروانے میں مدد دیتی ہے۔ تقلید آپ کو سپرم اور انڈے کے گرداب میں ہی رکھتی ہے۔ آپ نے کیا بننا ہے، یا آس پاس کی عمومی اکثریت کیا بننا چاہتی ہے، انتخاب اپنا اپنا، صاحبو۔

اسی بارے میں: ۔  یہ 6 سے 12 تجزیہ کار، ”ہر مال“ آرڈر پر دستیاب ہے

5۔ اپنا وقت بچایا کیجیے اور اپنی معیشت پر توجہ لازم ہے۔ یہ سب سے اہم معاملہ ہے جو میرے خیال میں مجھے آج سے 15 سال قبل معلوم ہو جانا چاہئیے تھا۔ نہ ہوا، اور میں اس حوالے سے اک  ملال یہ لیے پھرتا ہوں کہ مجھ جیسے غریب گھروں سے تعلق رکھنے والوں کو وقت اور معیشت کے حوالے سے مناسب تربیت کا ہونا بہت لازم ہے۔ نہیں تھی، نہیں ہے، نہیں ہوگی۔ کیونکہ، روایات اور تشریحاتی مذہب کے شکنجے میں جکڑے غریب اور نچلے متوسط طبقے کے تقریبا سو فیصد لوگ جھوٹے آدرشوں کی دیوانگی میں اپنا وقت اور معیشت ضائع کرتے رہیں گے، جس کے نتیجہ میں وقت اور معیشت بالآخر انہیں ضائع کر دیتے ہیں۔

6۔ اپنے مفاد کا تحفظ کیجیے اور ہر کسی کو خوش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ بھی اوپر والے نمبر پانچ سے متصل ہے۔ آپ اگر اپنے مفاد کا تحفظ نہیں کرتے، تو آپ کا مفاد، آپ کا تحفظ نہیں کرتا۔ اور آپ اگر ہر کسی کو خوش کرنے کی “علتِ مشائخ” میں مبتلا ہیں تو دوست، آئس کریم بیچنا شروع کر دیجیے۔ میں اس مشائخانہ علت کا اک لمبا عرصہ شکار رہا، اور بتا سکتا ہوں کہ یہ مکمل طور پر بےکار کی مشق ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔