پیاری دادی لیلا وتی


ہیرآباد حیدرآباد کا ایک گنجان علاقہ ہے جسے کبھی سندھ کا پیرس کہا جاتا تھا۔ ہندو عامل (پڑھی لکھی ہندو برادری) اور بھائی بندھ ( کاروباری طبقے) کی اکثریت کا علاقہ تھا۔ علیشان حویلیاں اور گھر تھے۔ ہیرآباد کی سڑکیں روز شام کو دھلتی تھیں ۔ مردوں کا وہاں سے گزرنا ممنوع ہو جاتا تھا کیونکہ دادیاں وہاں چہل قدمی کے لیئے نکلتی تھیں۔ ۔ دادی ہندو سندھی زبان میں بڑی بہن کو کیتے ہیں۔ پھر بٹوارا ہوا۔ سب اپنے اپنے مذہب کے مطابق ملک بدر ہوئے اور ہیرآباد خالی ہو گیا۔ عامل چلے گئے اور ہیرآباد جیسا شاندار علاقہ بازار بن کر رہ گیا۔ یہ عالیشان گھر اور حویلیاں کلیم میں چلے گئے۔ سڑکیں چھوٹی اور گلیاں تنگ ہو گیئں اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ موٹر سایئکلوں کا ہجوم بڑھتا چلا گیا۔ مگر ان میں ایک دادی اپنی جنم بھومی نہیں چھوڑ پائیں۔ اپنا شہر اور اپنا ہیرآباد نہیں چھوڑ پائیں۔ اور وہ تھیں دادی لیلاوتی ہرچندانی جنہیں حیدرآباد کے لوگ پیار سے دادی لیلاں کے نام سے جانتے تھے۔ کچھ ہی دن پہلے دادی لیلاں 102 برس کی عمر میں پوری ایک صدی اپنے اندر سموئے چل بسیں۔ انہوں نے اپنا ہیرآباد بدلتے دیکھا۔ حیدرآباد بدلتے دیکھا اور زمانہ بھی بدلتے دیکھا۔ سندہ کی مشہور ماہر تعلیم اور سماجی شخصیت تھیں۔ ستارہ امتیاز پانے والی دادی لیلاں بیس دسمبر 1916 کو حیدرآباد کےایک معزز اور معروف خاندان میں پیدا ہوئیں۔ 1939 میں گورنمنٹ کالج کالی موری حیدرآباد سے گریجویشن مکمل کی۔ سندہ یونیورسٹی سے سندھی لٹریچر میں آپ نے ماسٹرز مکمل کیا۔

ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے آپ کی وابستگی ایک لمبے عرصے تک رہی جہاں سے اکثر آپ کے گائے ہوئے گیت نشر ہوئے۔ موسیقی کا یہ سفر آپ نے چار سال کی چھوٹی سی عمر میں گانا سیکھنے سے شروع کیا اور سات سال کی عمر میں ہارمونیم بجانا شروع کردیا۔ بیس سال کی عمر میں آپ نے آل انڈیا میوزک مقابلہ جیت لیا۔ موسیقی کی دنیا کے بڑے بڑے نام آپ کے استاد رہے اور آپ کے شاگردوں میں زرینہ بلوچ اورربینہ قریشی جیسے نام شامل ہیں۔ گریجویشن کے فوراً بعد آپ نے ٹیکنیکل کالج حیدرآباد میں بطور میوزک ٹیچر ذمے داریاں سنبھال لیں تھیں۔

 آپ نے اپنے کیریئر میں بہت سے عہدوں پر کام کیا اور ہر جگہ اپنا لوہا منوایا۔ آپ وفاقی مذہبی امور کی اقلیتی کمیٹی کی رکن رہیں اور اس کے ساتھ آپ نے گرلز گائیڈ سندہ میں ڈپٹی کمشنر، بحیثیت ڈائریکٹر ایجوکیشن اور ممبر سندہ اسمبلی آپ نے بچیوں کی تعلیم کے سلسلے میں شاندار خدمات انجام دیں۔ آپ نے اندرون سندھ گھر گھر جا کر والدین کو بچیوں کی تعلیم سے آگاہ کیا۔ کئی لڑکیوں کو اپنی ذمے داری پر تعلیم کے لئے شہر لائیں ۔ ہم سندھ کی عورتیں تمام عمر دادی کی شکر گزار رہیں گی کہ انہوں نے سندھ میں تعلیمِ نسواں کو عام کیا۔

مگر یہ تمام باتیں کئی لوگ جانتے ہوں گے مگر ان تمام باتوں سے انجان میں نے دادی لیلاں کا نام پہلی بار اپنی امی سے سنا تھا۔ ان کے بہت اچھے تعلقات تھے دادی سے۔ نا جانے امی کو کیا شوق چڑھا تھا کہ میں موسیقی سیکھوں۔ مگر بات تب کھٹائی میں پڑ گئی جب دادی نے گانا سکھانے سے صاف انکار کر دیا کہ لڑکی ذات سید زادی کل اسٹیج ریڈیو پر گانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوگی اس لئے بھول جاؤ۔ کاش میں ان کی شاگرد بن پاتی۔ کم سے کم اچھا گنگنا ہی لیتی۔ لیکن قسمت کے عجیب کھیل ہیں۔ دادی انجانے میں چند پلوں کے لیئے میری استاد بن ہی گئیں۔ انہوں نے مجھے گانا تو نہیں سکھایا مگر دعا مانگنا سکھائی۔ سات آٹھ سال کی عمر میں دادی کا نام سنا تھا مگر دادی سے میری پہلی ملاقات ان ہی کے گھر دیوالی پر ہوئی۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر پردیپ کمار ہرچندانی میرے استاد تھے۔ بلکہ حیدرآباد کی لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے ہر ڈاکٹر کے استاد ہیں۔ مگر یہ ملاقات دیوالی کے پٹاخوں اور پھلجھڑیوں کی نذر ہو گئی۔

پھر دس سال بعد دادی سے ملاقات ہوئی ان کے اسی پرانے ابائی گھر میں جو انہوں نے کبھی نہیں چھوڑا۔  ٹی وی لاؤنج میں دادی چارپائی پر لیٹی تھیں۔اس وقت 90 کی دہائی میں ہوں گی۔ قریب 95 برس کی۔ دادی نے پردیپ صاحب سے پوچھا کون آیا ہے۔ پردیپ صاحب نے ان سے میرا پھر سے امی کے حوالے سے تعرف کروایا تو خوشی ان کی آواز میں نمایاں تھی۔ مجھے کہا تم یہاں آکر میرے پاس بیٹھو۔ اور میں ان کی چارپائی کے ساتھ رکھے صوفے پر بیتھ گئی۔ دادی نے بڑے پیار سے پوچھا کیا کر رہی ہو آج کل ؟ اور میں نے اپنی چھوڑی ہوئی ڈاکٹری پر شرمندہ ہوکر کہا کہ دادی آج کل کچھ نہیں کرتی۔ بس گھر پر ہوتی ہوں۔ دادی نے کہا مطلب گھر کی رانی ہو۔ جانتی ہو وہ اوپر بیٹھا پتا گھر کی رانی کو سب سے زیادہ چاہتا ہے کیونکہ وہ سب کو پالتی ہے۔ سب کا پیٹ بھرتی ہے۔ سب کا خیال رکھتی ہے۔ وہ اوپر بیٹھا پتا سب سے زیادہ اسی کی سنتا ہے۔ دادی اپنی عمر کی وجہ سے ہر بات بار بار دہراتی تھیں مگر یہ بات نئی نہیں تھی میرے لئے میری اپنی نانی اسی عمر میں ایسے ہی کرتی تھیں سو سچ میں نانی یاد آگیئں۔ دادی میں بڑی بزرگی تھی۔ کہنے لگیں اب تو عمر ہو گئی ہے میری۔ اوپر بیٹھے اس پتا سے کہتی ہوں میں نے تو نہیں کہا تھا کہ مجھے پیدا کر۔ مگر تو نے پیدا کیا۔اب پال بھی تو ہی۔ مگر دیکھو وہ پال بھی رہا ہے۔ ورنہ انسان میں اتنی ہمت کہاں کہ وہ کچھ کر پائے۔ بچپن میں بھی اسی نے پالا اور اب بھی وہی پال رہا ہے۔

پھر کہنے لگیں کامیابی کا ایک راز بتاؤں۔ صبح سویرے اٹھا کر۔ اس اوپر بیٹھے پتا کے سامنے جھک کر۔ اس کی تعریف کیا کر۔ اس سے باتیں کیا کر۔ 5 باتیں ضرور کیا کر۔

1۔ من دیا ہے اسے محبت سے بھر۔ اس میں نفرت کے لیئے گنجائش نہ چھوڑ۔

2۔ سنتوں کا ساتھ دے (اچھے نیک لوگ)۔

3-  ھاتھ دیئے ہیں ان سے جائز کام لے۔

4۔ آنکھیں دی ہیں ظلم ہوتے ہوئے نہ دکھانا ۔

5۔ زبان دی ہے ہمیشہ سچ بلوانا۔

آسمان کی طرف انگلی اٹھا کرا انہوں نے کہا ( پوءِ تھنجا بیڑا ہی پار اھن) پھر تمہاری ہر مشکل آسان ہوگی۔ عجیب بات ہے دادی کی باتیں میری دعاؤں کا حصہ بن گئیں۔ دادی لیلاں اپنے اسی پرانے پیلے پتھروں والے گھر میں چل بسیں ۔ شاید ان کی وصیت تھی کہ جب تک وہ زندہ ہیں، وہ اسی گھر میں رہیں گی۔ کچھ لوگ ایک ہی ملاقات میں بہت ساری یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ دادی لیلاوتی ان ہی ہستیوں میں سے تھیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔