ایک غلام جو اپنی زنجیر نہیں پہچانتا


”اِس دنیا میں ہر اُس شخص کی رہائی کا امکان موجود ہے جو کسی قید خانے میں بند ہے…. مگر اُس شخص کی رہائی کا کوئی امکان نہیں جسے یہ علم ہی نہیں کہ وہ قید میں ہے۔ “

ایک زمانہ تھا جب امریکہ میں غلامی عام تھی، غلاموں کو مال اسباب کی طرح بیچا اور خریدا جا سکتا تھا، چونکہ گوروں کے نزدیک یہ انسان ہی نہیں تھے سو اِن کے حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں تھا، انہیں ذاتی جاگیر سمجھا جاتا تھا جو تاحیات تصرف میں رکھی جا سکتی تھی، اخبارات میں سیاہ فام غلام برائے فروخت کے اشتہار کچھ یوں شائع ہوتے کہ ”خوش خبری۔ ۔ ۔ تندرست، توانا اور تنومند سیاہ فام غلام دستیاب ہیں۔ ۔ ۔ جوان، عورتیں اور بچے۔ ۔ ۔ سٹاک محدود ہے، پہلے آئیے پہلے پائیے۔ “ غلاموں کے ساتھ بالکل جانوروں کا سا برتاؤ کیا جاتا، اُن کی بیویوں کو لونڈیا ں بنا کر علیحدہ کر دیا جاتا، بچوں کو کسی دوسرے کے ہاتھ یوں فروخت کردیا جاتا گویا وہ کوئی بے جان چیز ہے جس کا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کام میں ذرا سی کوتاہی اور نا فرمانی پر اذیت ناک سزائیں دی جاتیں اور اس مقصد کے لیے قوانین وضع کئے جاتے تاکہ ان سزاؤں کو قانون کا لبادہ پہنایا جا سکے، بازاروں میں سیاہ فام غلاموں کی بولیا ں لگتیں، خاندان کے خاندان بچھڑ جاتے۔

1860 تک امریکہ میں دس لاکھ غلاموں کا بیوپار ہوا۔ پھر کچھ لوگوں کے اندر کا انسان جاگا، احساس ہوا کہ یہ سیاہ فام لوگ بھی انسان ہیں، انہیں غلام رکھنا کچھ ٹھیک نہیں، سو غلامی کے خلاف تحریک چلی اور ایسی چلی کہ امریکہ میں خانہ جنگی چھڑ گئی۔ ابراہم لنکن منظر نامے پر ابھرا، اُس نے جنگ جیتی، فاتح ٹھہرا اور بالآخر امریکہ سے غلامی کا خاتمہ ہوا۔ پھر اگلا دور آیا جب امریکہ میں سیاہ فام افراد کو سر عام کسی جرم کا الزام عائد کر کے موقع پر سزا دے دی جاتی، اسے public lynching کہا جاتا ہے، یہ 1870 سے لے کر بیسویں صدی کے اوائل تک کا زمانہ ہے، یعنی جس زمانے میں اپنے ہاں آزادی کی تحریک شروع ہونے جا رہی تھی اُس وقت امریکہ میں سفید فاموں کا چلن یہ تھا کہ گروہ کی شکل میں کسی جیل پر حملہ آوار ہوتے اور سیاہ فاموں کو نکال کر سر عام تشدد کا نشانہ بناتے، کسی درخت کے ساتھ پھانسی پر لٹکا دیتے، ہاتھ پیر توڑ ڈالتے یا پھر زندہ ہی جلا ڈالتے۔ سیاہ فام کو سزا دینے کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اُس پر کوئی بھی الزام عائد کر دیا جائے، ایک مرتبہ ایک سیاہ فام کو جنونی گروہ نے محض اس لئے مار دیا کہ اُس نے ایک سفید فام پولیس افسر کو ”مسٹر “ کہہ کر نہیں پکارا تھا۔

یہ 1940 کے امریکہ کا احوال ہے۔ اُس زمانے میں ہونے والے مظالم کی تصاویردیکھیں تو روح لرز اٹھتی ہے۔ پھر وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ اِس ظلم کے خلاف آواز بلند ہوئی، مزاحمت شروع ہوئی،قانون بنایا گیا اور اس جرم کی پہلی سزا 1946 میں ایک شخص کو دی گئی جس نے ایک سیاہ فام کارکن کو قتل کیا تھا۔ سزا تھی ایک ہزار ڈالر جرمانہ اور ایک سال قید۔ اِس ظلم کے خلاف مزید قانون سازی ہوئی، موثر اقدامات کئے گئے اور بالآخر اس لعنت کا خاتمہ ہوا۔ اسی طرح اگلا دور نسلی تعصب کا ہے۔ بیسیوں صدی کے وسط میں امریکہ کا نسلی تعصب اس نہج پر تھا کہ کالے اور گوروں کے سکول علیحدہ تھے، گورے کو کالے پر برتری حاصل تھی، بس میں اگر کوئی گورا سوار ہوتا تو کالے کو اُس کے لئے اپنی نشست چھوڑنی پڑتی تھی یہ قانوناً لازم تھا، کلب اور عوامی مقامات پر بھی نسلی تعصب کا یہی حال تھا۔ بھلا ہو مارٹن لوتھر کنگ کا جس کی بدولت یہ نسلی تعصب ختم ہوا اور پھر ایک دن وہ بھی آیا جب ایک سیاہ فام شخص کو امریکیوں نے اپنا صدر منتخب کیا۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یقین نہیں آتا کہ امریکہ جیسے ملک میں فقط ڈیڑھ سو سال پہلے تک غلامی اپنی بد ترین شکل میں رائج تھی اور کسی کو احساس تک نہیں تھا کہ وہ انسانو ں پر ایسا ظلم روا رکھ رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوا کہ کروڑوں لوگ اس غلامی کو بالکل معمول کی بات سمجھتے رہے اور انہیں پتہ ہی نہیں چلا! اسی طرح جب کالوں کو درختوں سے لٹکا کر پھانسی دی جاتی تھی یا انہیں فقط الزام لگا کر سرعام جلا دیا جاتا تھا تو اُس دور کے امریکی معاشرے نے کئی دہائیوں تک اِس ظلم کو بالکل ”نارمل “ کیسے لیا، کیوں کسی کا ضمیر نہیں جاگا؟ اسی طرح کالوں کے ساتھ نسلی تعصب تو مشکل سے ساٹھ ستر سال پہلے کی بات ہے، آج ہم میں سے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ امریکہ جیسی سوسائٹی میں کسی شخص کو اُس کے رنگ کی بنیاد پر فوقیت دی جا سکتی ہے (سب سے عظیم انسان ﷺ نے یہ تو بات ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی بتا دی تھی )، کیوں اُس معاشرے کو کسی مارٹن لوتھر کنگ کا انتظار کرنا پڑا، کیا لاکھوں کروڑوں سفید فام امریکیوں کو ادراک نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں ؟اِن سوالات کا جواب تلاش کرنا ایک دلچسپ کام ہے۔ آج ہمیں کوئی غلام نظر نہیں آتا، کسی کو سرعام سڑک پر ہلاک نہیں کیا جاتا، کسی کالے کے خلاف نسلی تعصب نہیں برتا جا سکتا مگر آج امریکہ کی جیلوں میں تقریباً بائیس لاکھ لوگ قید ہیں، یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، امریکہ کی آبادی کا 64 % گورے ہیں اور 13% کالے ہیں لیکن اِس کے برعکس جیلوں میں قید کالوں کا تناسب گوروں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ آج کا ”نارمل“ ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک زمانے میں غلامی نارمل تھی، public lynching نارمل تھی اور نسلی تعصب نارمل تھا۔ آج سیاہ فام افراد کوجیلوں میں بھرنا نارمل بات لگتی ہے کیونکہ یہ غلامی کی وہ قسم ہے جو نظروں سے اوجھل ہے۔ 1860 کی غلامی، انیسویں صدی کی  lynchingاور بیسویں صدی کا نسلی تعصب چونکہ لوگوں کے سامنے ننگا ہوگیا تھا اس لئے اُن تمام برائیوں کے خلاف تحاریک چلائی گئیں اور ان کا خاتمہ کیا گیا اور یوں انسانوں کو اُس وقت اُس قید سے نجات ملی جب لوگوں کو یہ قید دکھائی دینی شروع ہوئی۔ امریکی جیلوں میں ابنارمل تعداد میں کالوں کو قید رکھنے کا ظلم ابھی اس طرح ننگا نہیں ہوا کہ لوگوں کو نظر آئے اور انہیں احساس ہو اور اس کے خلاف تحریک چلائی جائے، یہ لوگوں کی نظروں سے اسی طرح اوجھل ہے جیسے غلامی اوجھل تھی حالانکہ یہ بھی اتنا ہی نفرت انگیز امرہے مگر امریکی ابھی اِس ظلم کے خلاف اُس طرح سے آواز بلند کرنے کے قابل نہیں ہوئے۔

آج ہم یہ سوچتے ہیں کہ جب غلامی تھی تو کسی کو یہ ظلم دکھائی کیوں نہیں دیتا تھا ؟ اور پھر طمطراق سے کہتے ہیں کہ میں اگر ہوتا تو اُس ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھاتا۔ یہی اصل مغالطہ ہے۔ آج جیلوں میں بند سیاہ فام اکثریت کے خلاف امریکی گورے کوئی تحریک نہیں چلا رہے (سیاہ فاموں کے خلاف بڑھتے ہوئے پولیس مقابلوں کے بعد اب کچھ آوازیں بلند ہونا شروع ہوئی ہیں) کیونکہ انیسویں صدی کی غلامی کی طرح انہیں یہ اکیسویں صدی کی غلامی بھی فی الحال نظر نہیں آرہی۔ آج سے پچاس برس بعد جب غلامی کی یہ شکل بھی ختم ہو جائے گی تو اُس وقت لوگ کہیں گے کہ کیسا مکروہ زمانہ تھا کہ سیاہ فام کی اکثریت کو جیل میں بند کرکے امریکی عوام انسانی حقوق کے چمپئن بنے بیٹھے تھے۔ سو، جب تک غلامی کی یہ شکل لوگوں کے سامنے عریاں نہیں ہو گی، اِس غلامی سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکے گا۔ قید سے رہائی دلانے کے لئے اس بات کا احساس ضروری ہے کہ کوئی قید میں ہے۔

اب پاکستان آتے ہیں۔ ایک زمانے میں پاکستان میں میڈیا پر پابندی تھی، صحافیوں کو کوڑے مارے جاتے تھے، اخبارات پر سنسر شپ عائد تھی، خبروں پر سیاہ حاشیے پھیر دئیے جاتے تھے۔ صحافت کی یہ قید چونکہ آنکھوں کے سامنے تھی اس لئے اِس کے خلاف مزاحمت شروع ہوئی، صحافیو ں نے جدوجہد کی اور پھر بالآخر پریس کو قید سے نجات ملی۔ میڈیا آج بظاہر آزاد ہے کیونکہ اس پر کوئی ظاہری پابندی نہیں، کسی کو کوڑے نہیں لگائے جا رہے، مگر یہ اُس قید میں ہے جو دکھائی نہیں دیتی اسی لیے کوئی اس کی آزادی کے لئے جدو جہد کرتا ہوا بھی نظر نہیں آتا۔ پیروں میں دکھائی دینی والی بیڑیاں ان دیکھی زنجیروں سے بہتر ہوتی ہیں، انسان کم از کم اُن سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد تو کر سکتا ہے۔

’اِس دنیا میں ہر اُس شخص کی رہائی کا امکان موجود ہے جو کسی قید خانے میں بند ہے…. مگر اس شخص کی رہائی کا کوئی امکان نہیں جسے یہ علم ہی نہیں کہ وہ قید میں ہے۔ ‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 140 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada