این اے 120 کا بڑا معرکہ بڑا نتیجہ


این اے 120 لاہور کا وہ حلقہ ہے جہاں سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جیت کر مسند اقتدارتک پہنچے۔ 28 جولائی کو جب سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کو نا اہل کیا تو یہ سیٹ خالی ہوگئی۔ الیکشن کمیشن نے 17 ستمبر کو اس حلقے میں ضمنی الیکشن کروانے کا اعلان کردیا۔ اس حلقہ کا انتخاب بہت سی وجوہات کی بناء پر اہم تھا۔ پانامہ کیس پر چلنے والے میڈیا ٹرائل، سپریم کورٹ کے فیصلے اور تحریک انصاف کے نواز لیگ کے خلاف کرپشن الزمات کے بعد، اس حلقے کے نتائج نے یہ ثابت کرنا تھا کہ کیا عوام نے نواز لیگ کو مسترد کردیا یا ابھی بھی نواز لیگ کا ووٹر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ روایتی طور پر یہ مقابلہ نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان ہی تھا لیکن یہ امر بھی سب کے لئے دلچسپی کا باعث تھا کہ کیا پیپلز پارٹی اپنی پوزیشن کچھ بہتر کرسکے گی یا پہلے کی طرح صورت حال خراب ہی ہے؟ نتائج نے ثابت کیا کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا۔ اس حلقے میں ایک نئی پارٹی ملی مسلم لیگ بھی اچانک وارد ہوئی، بہت سے دائیں بازو والے تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ یہ پارٹی نوازلیگ کے ووٹ بنک کو متاثر کرے گی لیکن اس حلقے کے نتائج نے اس تجزیے کو غلط ثابت کردیا۔ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ان کی بیگم کلثوم نواز کو اس حلقے سے نامزد کیا گیا۔ جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے ڈاکٹر یاسمین راشد نامزد ہوئی۔ 2013 کے انتخاب میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کے مقابلے میں اکیاون ہزار ووٹ لئے۔ 17ستمبر کو ہونے والے الیکشن میں کلثوم نواز نے 14ہزار کی برتری سے یہ انتخاب جیت لیا۔ گو نواز شریف نے یہ انتخاب 40 ہزار کی لیڈ سے جیتا تھا لیکن 17 ستمبر والی کم لیڈ کی بہت سی وجوہات ہیں۔

تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان نے اس حلقے کے انتخاب کو ایک ریفرنڈم قرار دیا تھا خان صاحب کا کہنا تھا کہ اس حلقے کی جیت دراصل عدلیہ کی جیت ہوگی۔ عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے عدلیہ کے فیصلے پر مہر ثبت کریں گئے۔ نوازلیگ کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز کی جیت دراصل عوام کا نواز شریف پر اعتماد ہوگا کہ انہوں نے نا اہلی کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ روایتی طور پر یہ حلقے نواز لیگ کا رہا ہے۔ جب 2002میں میاں محمد نواز شریف جلاوطنی میں تھے جنرل مشرف کے مارشل لاء کے باوجود نواز لیگ اس حلقے سے جیتی تھی۔ 2013میں نواز شریف ایک بہت بڑی لیڈ سے یہاں سے جیتے تھے۔ زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ نواز لیگ اس حلقے سے جیت جائے گی لیکن ووٹ کتنا پڑے گا اس پر قیاس آرائیاں ہی تھیں۔ حلقے میں کلثوم نواز کی تمام کمپین ان کی بیٹی مریم نواز نے چلائی۔ کلثوم نواز اپنی بیماری کی وجہ سے لندن میں ہیں اور میاں محمد نواز شریف بھی ان کے ساتھ ہیں۔ مریم نواز نے تن تنہا اس کو چلایا اور جہاں وہ جاتی تھیں عوام کا ایک متحرک، پرجوش جم غفیر اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کوئی بڑی بڑی ریلیاں نہیں کیں، انتخاب سے ایک ہفتے پہلے عمران خان نے لاہور میں ایک جلسہ کیا اورانتخاب سے دو دن پہلے ایک ریلی یاسمین راشد کے حق میں نکالی۔ دونوں میں عوام کی کوئی خاطر خواہ تعداد نظر نہ آئی سارے لاہور سے لوگ اکھٹے کرنے کے باوجود صورت حال کافی مایوس کن تھی۔ لیکن انتخاب والے دن یاسمین راشد اور کلثوم نواز کے ووٹوں کے فرق نے یہ بات سب پر واضح کردی کہ کچھ نادیدہ قوتوں نے پس پردہ رہ کر اپنا کام دکھا دیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مسواک کے بل پر ہندوستان کو شکست دینے والے جواری

پولنگ سے ایک رات پہلے نواز لیگ والوں کے بقول ان کے بہت سے کونسلرز کو نامعلوم افراد گھروں سے اٹھا کر لے گئے۔ بہت سے لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں کہ آپ کی یوسی سے ووٹ کا مارجن کم سے کم ہونا چاہیے۔ الیکشن والے دن صبح سے صورت حال کچھ عجیب سی نظر آئی۔ بہت سی جگہوں پر نواز لیگ کے ووٹرز کو ووٹ کاسٹ نہیں کرنے دیا گیا۔ ان سے کہا جاتا تھا کہ آپ کا ووٹ یہاں نہیں ہے جب وہ دوبارہ پرچی بناکرجاتا پھر یہی کہا جاتا تھا لیکن جب وہ مخالف پارٹی کی پرچی لے کر جاتا تھا تو ووٹ کاسٹ کرنے دیا جاتا تھا ایسی بہت سے ویڈیوز سوشل میڈیا پر دستاب ہیں جن میں ووٹرز یہ شکایات کرتے نظر آئے۔ اس سارے عمل کی وجہ سے بہت سا وقت کا ضیاع ہوا سی وجہ سے بہت سے لوگ ووٹ ڈالنے سے رہ گئے۔ بہت سے ووٹرز اس سارے جھنجھٹ سے تنگ آکر واپس چلے جاتے تھے کہ ایک ہمارے ووٹ نہ ڈالنے سے کیا فرق پڑنا ہے۔ خواتین کے ساتھ بھی کم وبیش یہی صورت حال رہی ان کو ایک پولنگ اسٹیشن سے دوسرے پولنگ اسٹیشن کے چکر لگوائے جاتے رہے جس کی وجہ سے تنگ آکر بہت سی خواتین ووٹ ڈالے بغیر گھروں کو واپس چلی گئیں۔

ووٹنگ کا عمل سست روی کا شکار رہا ایک ایک ووٹر کو تین، چار منٹ انتظار کروا کر اندر بھیجا جاتا رہا جس کی وجہ سے بہت سے ووٹ کاسٹ ہونے سے رہ گئے۔ ملٹری فورس کا کام سیکیورٹی چیکنگ کا تھا لیکن وہ بھی معمول سے ہٹ کر ووٹرز کی جانچ پرتال کرتے رہے اس صورت حال کی وجہ سے ووٹر کو ووٹ کاسٹ کرنے میں تاخیر کا سامنا رہا۔ عام طور پر یہ روایت رہی ہے کہ اگر ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن کے باہر کھڑا ہو تو ووٹنگ کا وقت بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس انتخاب میں نوازلیگ کی درخواست، ووٹروں کی لمبی قطاراور احتجاج کے باوجود وقت نہیں بڑھایا گیا تھا۔ حیران کن طور پر پی ٹی آئی نے بھی وقت بڑھانے کی مخالفت کی۔ عام طور پر کوئی بھی سیاسی پارٹی وقت بڑھانے کی مخالفت نہیں کرتی اس سے ان کا ووٹ ہی بڑھتا ہے لیکن پی ٹی آئی کے اس رویے سے لگاکہ ان کو پتا لگ گیا تھا کہ ان کو مزید ووٹ نہیں پڑنا۔ ناکام جلسوں اور ریلیوں کے باوجود جن نادیدہ قوتوں نے ان کو جو ووٹ ڈلوانا تھا وہ مل گیا تھا مزید وقت بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوناتھا۔

اسی بارے میں: ۔  غربت، ایدھی اور نومولود بچیاں

اس حلقے میں نواز لیگ کا مقابلہ صرف سیاسی پارٹیوں سے نہیں تھا بلکہ ان نادیدہ قوتوں سے بھی تھا جو نظر نہیں آتیں لیکن اپنا کام کر جاتی ہیں۔ اس حلقے میں ان قوتوں کی کوشش صرف جیت کے مارجن کو کم کرنے پر تھی جو بہت سے حیلے بہانوں سے کم کردیا گیا۔ چالیس ہزار کی لیڈ کو چودہ ہزار پر لے آئے۔ اس حلقے کے نتائج نے ایک بات عیاں کردی ہے کہ نواز کا ووٹر اس کے ساتھ ہیں۔ اس نے کرپٹ، چور، ڈاکو کے سارے بیانیوں کو رد کردیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ سے نا اہلی اور کرپشن کے الزمات میں صداقت ہوتی یا عوام کو اس میں سچائی نظر آتی تو آج نواز لیگ کو اس حلقے سے 10ہزار بھی ووٹ نہ ملتا۔ ان نتائج سے ان نادیدہ قوتوں کو یہ تو سمجھ جانا چاہیے کہ اب چور، ڈاکو والا راگ زیادہ دیر تک نہیں الاپا جاسکے گا اب ان کو بیانیے بدلنے کی ضرورت ہے کہ عوام کو اپنے ووٹ کا احترام کروانا آگیا ہے۔

یہ الیکشن ایک بہت بڑا معرکہ تھا جس نے مریم نواز کو لیڈر بنا دیا۔ جس نے نادیدہ قوتوں کو شرمندہ کر دیا، جس نے پیپلز پارٹی کو دفن کر دیا، جس نے عدلیہ کے فیصلے کے مقابلے میں عوام کا فیصلہ سنا دیا، جس نے جمہوریت کو زندگی دی، جس نے عوام کو زندگی دی۔

یہ معرکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان نہیں تھا۔ یہ اسٹیبلیشمنٹ اور اینٹی اسٹیبمشلمنٹ ووٹ کا مقابلہ تھا۔ یہ مقابلہ عوام کا نادیدہ قوتوں کے ساتھ تھا۔ یہ مقابلہ جمہوری قوتوں کا خفیہ ہاتھوں سے تھا۔ لیکن جیسا کہ نواز شریف نے کہا تھا اصل حاکمیت عوام کی ہے تو پھر عوام نے نظام کو بچا لیا۔ یہ فتح بہت تاریخی تھی اس لئے کہ اب عوام کو تو پتہ ہے انہیں ترقی، خوشحالی اور جمہوریت کے لئے کیا کرنا ہے۔ مسئلہ اب نادیدہ قوتوں کا ہے کہ انہیں سوچنا ہے کہ اب کس طرح شرمندگی سے بچنا ہے۔ اب کسطرح یہ خفت مٹانی ہے۔ اب انہیں بھی سوچنا پڑے گا کہ عوامی رائے کا احترام کرنا ہے یا پھر عوام سے ٹکر لینی ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔