جماعت اسلامی کی انتخابی جھنڈی


جماعت اسلامی جس طرح عوام الناس میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑتی چلی آ رہی تھی، اس سے اس کی لیڈرشپ بے انتہا متاثر ہوئی۔ سب سے پہلے اس نے تاسیس کے فوراً بعد قیام پاکستان کی مخالفت کر دی اور پاکستان کا مطالبہ کرنے والی مسلم لیگ کے حامیوں کے بارے میں کہا کہ وہ جنت الحمقا کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ جماعت اس جنت کی مخالف تھی اور اپنی تبلیغ کے زور پر پورے ہندوستان کو ہی پاکستان بنانے پر تلی ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ جنت الحمقا کو سلیس اور غیر عالمانہ زبان میں احمقوں کی جنت کہتے ہیں۔

عوام نے جماعت کو جھنڈی کرا کر مسلم لیگ کی حمایت کی اور پاکستان وجود میں آ گیا اور جماعت کی قیادت گورداسپور کے ہیڈ کوارٹر میں بھارت میں ہی رہ گئی۔ لیکن جب اس نے چند کلومیٹر دور موجود جنت الحمقا دیکھی اور اپنی عقل و فہم پر نظر ڈالی، تو اسے خیال آیا کہ احمقوں کی جنت کا سردار تو اسے ہونا چاہیے، سو وہ دوڑ کر یہاں پہنچ گئی اور دوسرے تیسرے درجے کی جماعتی قیادت کو جنت العاقلہ، یعنی عاقلوں کی جنت، یعنی مہان بھارت میں چھوڑ دیا۔

یہاں آ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ تبلیغ بہت ہو گئی، جنت مل ہی گئی ہے تو اب انتخاب لڑا جائے۔ لیکن فیصلہ ہوا کہ انتخاب صرف اس جماعت سے مل کر لڑا جائے جو کہ جماعت کی عقل اور اصول پر چلنے کو راضی ہو، اور وہ عوامی نمائندگی کے لیے صرف ان امیدواروں کو ٹکٹ دے جو کہ خود سے ٹکٹ لینے پر راضی نہ ہوں۔ بدقسمتی سے ایسی کوئی جماعت نہیں ملی کہ سب سیاسی جماعتیں سیاست کے تقاضے سمجھتی تھیں۔ پھر 1965 کا الیکشن آیا۔ جماعت نے فیصلہ کیا کہ گو کہ عورت کو پارلیمان میں بٹھانا، اللہ اور اس کے رسول کے فرمان پر چلنے کی بجائے ان کی مخالفت، اور اپنے نفس کی غلامی کرنے کے مترادف ہے اور صریحاً کفر ہے، لیکن بہرحال عورت کو پارلیمنٹ سے بالاتر منصب پر فائز کر کے سربراہ مملکت بنانا اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کے عین مطابق ہے۔ سو محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کر دی گئی۔ بدقسمتی سے محترمہ ہار گئیں۔

اسی بارے میں: ۔  دہریت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں

اسی اثنا میں جماعت نے نظریہ پاکستان ایجاد کر لیا تھا اور خود کو اس کا محافظ مقرر کر دیا تھا۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جنرل یحیی خان کو یہ نظریہ پسند آ گیا۔ جماعت کو یہ یقین تو تھا ہی کہ وہ پورے پاکستان میں الیکشن کلین سویپ کر لے گی اور عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی وغیرہ جیسے ٹوڈیوں کی ضمانتیں ضبط کرا دے گی، لیکن بدقسمتی پھر آڑے آئی۔ بلکہ بدقسمتی کیا، امریکی سازش کہیے۔ جماعت کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں اور عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی نے کلین سویپ کر دیا۔

لیکن ان انتخابی ناکامیوں سے یہ مت جانیے کہ جماعت کبھی حکومت میں نہیں آئی۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت میں جماعت کے پاس کئی وزارتیں تھیں۔ بہرحال، اس کے بعد جماعت نے ہر کسی سے اتحاد کر کے دیکھا، لیکن عوام جہالت پر اترے رہے اور جماعت کو رکھنے والی جگہ پر ہی رکھا۔ بہرحال ایک مرتبہ مولانا فضل الرحمان اور دوسری مرتبہ عمران خان کی مہربانی سے جماعت کو ڈیڑھ صوبائی سیٹ رکھ کر بھی صوبائی حکومت کا حصہ رہنا نصیب ہو گیا۔ جماعت اسلامی کو بہرحال یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی بجائے ڈیڑھ سیٹ کی حکومت بنانے کی ارتقائی منزل طے کر گئی ہے۔

ہماری رائے میں تو جماعت کی ان ناکامیوں کی ایک ہی وجہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس کا انتخابی نشان غلط ہے۔ جب عوام الناس ترازو کا نشان دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ یہ غالباً پرچون فروشوں یا بقالوں کنجڑوں وغیرہ کی نمائندہ جماعت ہے۔ اوپر سے جماعت کے منتخب کردہ امیدوار بھی ترازو کے باٹ جیسے دانشمند اور مقبول ہی ہوتے ہیں اور یہ بات عوام کی غلط فہمی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ مولانا مودودی درست ہی فرماتے تھے کہ یہ زمانہء جدید جاہلیہ ہے اور عوام کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ترازو کا نشان پرچون فروشوں یا بقالوں کنجڑوں وغیرہ کی نمائندگی نہیں کرتا ہے، بلکہ یہ اس مول تول کا غماز ہے جو جماعت حکومت پانے کے لیے ہمیشہ فوجی ڈکٹیٹروں یا بڑی جماعتوں سے کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا افغانستان امن کی راہ پر گامزن ہونے کو ہے؟

بہرحال، اگر جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ عوام اس کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کریں تو اسے اپنا انتخابی نشان تبدیل کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ یہ مول تول والا ترازو اور جمعیتی باٹ ایک طرف رکھیں، اور اپنا انتخابی نشان جھنڈی رجسٹر کروا لیں۔

پنجاب، سندھ، اسلام آباد، غرض کہ ہر جگہ ہی عوام نے بلدیاتی انتخابات میں جماعت کو جھنڈی کرائی ہے۔ حتی کہ جماعت کی اپنی بستی منصورہ میں بھی جماعت کو جھنڈی کرا دی گئی ہے۔ اور اب لاہور کے حلقہ 120 کے ضمنی انتخابات نے تو تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ عوام ہمیشہ سے ہی انتخابات میں جماعت کو جھنڈی کراتے رہے ہیں، غالب امکان ہے کہ وہ جماعتی جھنڈی پر ٹھپہ لگانے کی روایت برقرار رکھیں گے۔

سو اہل جماعت ہماری مانیں تو ترازو کو اصلی عقلی سیاست دانوں کے حوالے کریں اور فتح کی جھنڈی لہرا دیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 731 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar