جاوید اختر کا جادو


شاعری اور ادب میں دو راستے ہوتے ہیں۔ یا تو جو کچھ لکھا جائے وہ صرف اپنے لیے ہو اور یا لکھنے والا اپنی بات دوسرے لوگوں تک پہنچانا بھی فرض سمجھتا ہو۔ پہلا راستہ عموماً اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب یا تو بات کی نوعیت اختلافی ہو یا پھر فنکار اپنے آپ سے باہر نکلنے کو تیار نہ ہو۔ دوسرا رستہ کٹھن ہوتا ہے ۔ اسے اختیار کرنے والا جانتا ہے کہ اس پر تن آسانی کا لیبل لگے گا، وہ پاپولسٹ کہلائے گا، اسے ادب کے جغادری لفٹائیں گے نہیں، وہ بھاری بھرکم ادبی محفلوں میں مس فٹ ہو گا، بات کہنی بھی ہو گی مگر” عزت سادات‘‘ اور دستار بھی سنبھالنی ہو گی، اسے کمرشل رائٹر یا شاعر جیسی ”تہمت‘‘سے بھی نوازا جائے گا لیکن یہ سب کچھ کرنے کے لیے وہ پھر بھی تیار ہو جاتا ہے ۔

 

اس تیاری کی مزید دو وجوہات ہوتی ہیں۔ یا تو اس کا ایمان اس چیز پر ہوتا ہے کہ یار جو بات کہنی ہے وہ تمیز سے کہی جائے اور ایسے کہی جائے کہ ایک بچہ بھی سمجھ جائے یا پھر وہ مشکل پسندوں سے واقعی چڑ کھاتا ہے ۔ دنیا کا تمام ادب ان دو کیٹیگریز میں تقسیم ہے اور یہی حال اردو کا ہے ۔ صحیح راستہ کون سا ہے، غلط کون سا، یہ طے کرنا پڑھنے والے کی ذاتی چوائس ہے لیکن ایک بات سامنے کی ہے ۔ پکاسو جو بچوں جیسی ٹیڑھی میڑھی لکیریں لگاتا تھا، ڈالی جو بھی اوٹ پٹانگ سرئیل ازم کرتا تھا، گل جی جو ایک ہی سانس اور سٹروک میں بارہ برش گھما کر پاک نام لکھ دیتا تھا، ایم ایف حسین صاحب جو آڑھے ٹیڑھے گھوڑے بناتے تھے ، میر جو شاعروں کا امام تھا، ناصر کاظمی جو سہل ممتنع کا بادشاہ تھا، جون ایلیا جو سادہ لفظوں میں کلیجہ کاٹ کے رکھ دیتا تھا، تارڑ جس کے ایک ایک لفظ کی نئی نسل دیوانی ہے ، گلزار جس کے عاشق پوری دنیا میں ہیں، ان سب لوگوں کی سادگی عمر بھر کی ریاضت کا نتیجہ تھی۔ یہ سب جانتے تھے کہ آرٹ کیا ہوتا ہے اور اسے کیسے برتا جا سکتا ہے لیکن ان سب نے مشکل پسندی سے اپنا دامن جتنا ممکن ہوا بچائے رکھا۔ انہی بچنے والوں میں سے ایک جاوید اختر ہے ۔

 

جاوید کا شجرہ بہت سٹرونگ ہے ۔ شاعری کی دو کتابیں آئیں اور دونوں کا دیباچہ لکھنے والے اس سے متاثر نظر آئے ۔ قرۃ العین حیدر ہوں یا گوپی چند نارنگ، دونوں نے ابتدا ہی میں اس کا ذکر کرنا ضروری سمجھا۔ جاوید اختر کا علمی قد کاٹھ بے شک جاں نثار اختر یا صفیہ اختر کے یہاں آنکھ کھولنے کا اور انٹیلیکچوئل جینز ورثے میں پانے کا نتیجہ ہو سکتا ہے لیکن وہ ان کے کندھوں پر سوار کبھی بھی نظر نہیں آتا۔ جاوید اختر خود ایک برانڈ ہے ۔ وہ الگ بات کہ یہ خاندان غالب کے زمانے سے ہی ایسا علم دوست چلا آ رہا تھا۔ علامہ فضلِ حق خیر آبادی، مضطر خیر آبادی، مجاز، صفیہ اور” اے دل ناداں، آرزو کیا ہے ، جستجو کیا ہے‘‘ والے جاں نثار اختر، یہ سب جاوید اختر کے اسلاف تھے ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سارے نام اپنے زمانے کے مشہور انقلابی بھی تھے ۔ علامہ فضل حق نے انگریزوں کے خلاف 1857 میں بغاوت کا فتویٰ دیا اور کالے پانی کی سزا پائی، مضطر خیر آبادی لینن ایوارڈ یافتہ تھے ، صفیہ، مجاز اور جاں نثار کی تو زندگی ہی ریل میں یا جیل میں گزرتی تھی لیکن جاوید نے کوئی بھی ”ازم‘‘اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا۔ جاوید اختر کو علم تھا کہ ”تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن / تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا‘‘ قسم کی شاعری سدا بہار نہیں ہو سکتی، کوئی بھی نظریہ ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں ہوتا سوائے محبت کے اور کوئی بھی فلاسفی تمام عمر نہیں نبھائی جا سکتی سوائے انسانیت کے ، تو جاوید محبت کرنے والے انسانوں کا شاعر بن کر جادواں ہو گیا۔
مجھے دشمن سے بھی خود داری کی امید رہتی ہے
کسی کا بھی ہو سر، قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا

 

روائتی طور پر شاعر لوگوں کے بھرم نہیں ختم ہوتے ، انہیں معزز زبان میں ”تعلی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ کانوں تک اپنی انا میں ڈوبا ہوا ایک خود پرست اور نارسسٹ شاعر جب تعلی کرتا ہے تو اپنے آپ کو سوپر مین بنا کر پیش کرتا ہے لیکن اگلے ہی شعر میں کفن اوڑھ کے برسوں کا بیمار بن جاتا ہے اور خود اپنی حالت پر رحم کرتا نظر آتا ہے ۔ یہ بیمار رویے جاوید اختر کی دونوں کتابوں میں نظر نہیں آتے ، وہ انسان نظر آنا چاہتا ہے ، انسان کو پسند کرنا چاہتا ہے اور محبت کو آسمانی یا آفاقی قسم کی چیز سمجھنے کی بجائے مٹی میں گندھا جذبہ خیال کرتا ہے ۔ ایسا جذبہ جہاں جسم کبھی اجنتا کی مورت بن جاتا ہے اور کبھی مچلتی ہوئی راگنی کہلاتا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ محبوب کی کمر ہی غائب ہو جائے اور عدسہ لے کر بوڑھا شاعر ہر صفحے پر اسے ڈھونڈتا پھر رہا ہو۔

 

ترکش (جاوید کی پہلی کتاب) کھولیے تو ایک چھوٹا سا پیراگراف نظر آتا ہے ، ”اپنی زندگی میں تم نے کیا کیا؟ کسی سے سچے دل سے پیار کیا؟ کسی دوست کو نیک صلاح دی؟ کسی دشمن کے بیٹے کو محبت کی نظر سے دیکھا؟ جہاں اندھیرا تھا وہاں کبھی روشنی کی کرن لے گئے ؟ جتنی دیر تک جیے اس جینے کا مطلب کیا تھا؟‘‘کرشن چندر کا یہ اقتباس جاوید اختر روز جیتا ہے ۔ گیت، نظم، غزل جو بھی چیز جاوید کے یہاں ہے ، وہ تقریباً انہیں فلسفوں کے زیر اثر ہے ۔

 

ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا، یہ گیت اور ایسی بہت سی چیزیں جاوید اختر کی دونوں کتابوں میں شامل نہیں ہیں لیکن یہ وہ مال ہے جو الگ بندھا ہوتا ہے اور اس کا ٹھکانہ سننے والوں کا دل ٹھہرتا ہے ۔ سوال کیا جائے کہ جاوید اختر کون؟ تو کہنے والا کہے بھئی وہی جس نے یہ دو گانے لکھے تھے ۔ ”دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے ‘‘اور دوسرا وہی ایک لڑکی والا۔ اس گانے میں ایک عجیب معصومیت جمع ہے ، کوئی بھی استعارہ ایسا نہیں دکھائی دیتا کہ جس میں کہیں بھڑکیلا جذبہ چھلانگیں مار رہا ہو، بے ساختگی بھی کمال ہے ، خاص طور پر پہلے دو ٹکڑے ؛”ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا / جیسے کھلتا گلاب / جیسے شاعر کا خواب / جیسے اجلی کرن / جیسے بن میں ہرن / جیسے چاندنی رات / جیسے نغمے کی بات / جیسے مندر میں ہو اک جلتا دیا / ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا / جیسے صبح کا روپ / جیسے سردی کی دھوپ / جیسے وینا کی تان / جیسے رنگوں کی جان / جیسے بل کھائے بیل / جیسے لہروں کا کھیل / جیسے خوشبو لیے آئے ٹھنڈی ہوا‘‘۔ یہ تمام تشبیہات واقعی اس پیار کی یاد دلاتی ہیں جو 1942 کا ایک فلمی ہیرو کر سکتا تھا! اسی طرح ”دیکھا ایک خواب‘‘جو گانا تھا، اس میں ایک مصرع انسان کی پوری رومانی تہذیب پر حاوی نظر آتا ہے ، ”دھڑکنوں میں تیرے گیت ہیں ملے ہوئے ‘‘ لائیے ، لا کر دکھا دیجیے ایسے بول، تو جادو کا بس یہ جادو ہے ۔

 

جادو وہ نام تھا جو ابا نے سب سے پہلے رکھا، پھر بعد میں اسے بدل کر جاوید کر دیا گیا۔ جاوید اختر کا نام جو بھی ہوتا لفظوں کا جادوگر ہونا قسمت میں لکھا تھا سو وہ لکھا پورا ہوا۔ سکرین پلے اور سکرپٹ لکھے تو شعلے ، یارانہ جیسی یادگار فلمیں بنیں، گیت لکھنے شروع کیے تو سلسلہ، تہذیب وغیرہ سے جو سفر شروع ہوا ہے وہ لگان، دل چاہتا ہے ، رفیوجی، کل ہو نہ ہو، جودھا اکبر اور تا حال فلم رئیس تک جاری ہے ۔ شاعری الگ سے کی جو”ترکش‘‘ اور ”لاوا‘‘کی شکل میں سامنے ہے ، کوئی بھی فارم ہو، جو کام کیا لاجواب کر دیا۔ جاوید اختر کی شاعری پڑھی جائے تو انتخاب ناممکن لگتا ہے ، ہر صفحے پر دو تین نشان لگیں گے ، پھر بھی دو شعروں پر گزارہ کیجیے ؛

تمہیں بھی یاد نہیں اور میں بھی بھول گیا
وہ لمحہ کتنا حسیں تھا مگر فضول گیا

دوسرا شعر تو ویسے بھی حسب حال ہے ؛

پہلے بھی کچھ لوگوں نے جو بو کر گیہوں چاہا تھا
ہم بھی اس امید میں ہیں لیکن کب ایسا ہوتا ہے !


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 320 posts and counting.See all posts by husnain