وزیراعظم کو وطن لوٹتے ہی مستعفی ہو جانا چاہیے؟ 


میں بہت دیانت داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ اگر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے صدر ٹرمپ سے ون آن ون ملاقات کے امکانات موجود نہیں تھے توانہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک نہیں جانا چاہیے تھا۔ بھارت کے مودی نے بھی وہاں جانا چھوڑرکھا ہے۔ اس کی وزیر خارجہ بھارت کی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان کے لئے یہی کردار خواجہ آصف بھی سرانجام دے سکتے تھے۔

پاکستان کی باری آنے پر ایک روایتی تقریر پڑھ لینے سے پہلے اوراس کے بعد خواجہ آصف کو اپنا دورہ امریکہ ذرا طویل کردینا چاہیے تھا۔ اس دوران پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی اور ہمارے واشنگٹن میں مقیم سفیر، اعزاز چودھری صاحب، کی معاونت سے انہیں نیویارک میں موجود ہم عصروں کے علاوہ امریکی میڈیا، تھنک ٹینکس اور پارلیمان کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے ذریعے نسبتاً خاموشی مگر استقامت کے ساتھ پاکستان کا مؤقف بیان کرنے کے بعد وطن لوٹ آنا چاہیے تھا۔

وزیر اعظم عباسی، نواز شریف کے برعکس ہماری عسکری قیادت سے قومی سلامتی کونسل والے باقاعدہ بندوبست کے ذریعے طویل مشاورت کے بعد نیویارک گئے ہیں۔ وہاں پہنچنے سے قبل ہی مگر ان سے فنانشل ٹائمز نے یہ بیان منسوب کردیا کہ انہوں نے کابل کے سفارتی علاقے میں ہوئے ایک خوفناک دھماکے کے ذمہ داروں کا ”پاکستان کی سرحد سے افغانستان داخل ہونے“ کا ”اعتراف“ کرلیا ہے۔ اس خبر کی تردید کو اہمیت نہیں دی گئی ہے۔

وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد خواجہ آصف نے ایک ٹی وی اینکر کو انٹرویو دیتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ دُنیا کو پاکستان کا ہمدرد اور ہم نوا بنانے کے لئے ہمیں ”اپنے گھر کو سیدھا“ کرنا ہوگا۔ چودھری نثار علی خان ان کے اس بیان پر تلملا اُٹھے۔ پاکستان مسلم لیگ (نون) کے ایک سینئر ترین رہ نما ہوتے ہوئے سابق وزیر داخلہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے ”دشمن“ کی زبان بولی ہے۔

پاکستان کی بقاءاور سالمیت پر نحوست کے چھائے بادلوں کی موجودگی میں یہ ایک سنگین ترین الزام تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال مگر اس کی تائید پر مجبور ہوئے۔ ان کی تائید نے مجھ ایسے کم عقلوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ بالآخر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کروانے کے بعد ہماری سیاسی اور عسکری قیادت اس ”ایک پیج “ پر پہنچ ہی گئی جہاں انہیں بہت پہلے اکٹھا ہو جانا چاہیے تھا۔

چودھری نثار علی خان کے بیان کی مگر ان تمام کالم نگاروں اور اینکر خواتین وحضرات نے جارحانہ تائید کی ہے جن کے ایمان مضبوط اور وطن سے وفاداری مسلم تصور کی جاتی ہے۔ اس تائید نے مجھ ایسے کمزور ایمان والے دو ٹکے کے رپورٹر کو اس خدشے میں مبتلا کردیا کہ ”ایک پیج“ والی بات نہیں بنی۔ نیویارک جاتے ہوئے وزیر اعظم عباسی نے بھی لیکن ”گھر کو ٹھیک“ کرنے والی بات کی تائید کردی۔ میں ”Page“ کے معاملے میں دوبارہ کنفیوژ ہوگیا۔

چودھری نثار علی خان کا شکریہ، منگل کی سہ پہر وزیر اعظم عباسی کو سخت الفاظ میں لتاڑتے ہوئے سابق وزیر داخلہ نے ”One Page“ والا تاثر دور کردیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ چودھری نثار علی خان کے منگل والے بیان کے بعد نیویارک میں موجود کونسی عالمی شخصیت ہمارے وزیراعظم کو سنجیدگی سے لے گی جسے حکمران جماعت کا ایک چوٹی کا رہ نما برسرِ عام سخت تنقید کا نشانہ بنارہا ہے اور یہ رائے دے رہا ہے کہ پاکستان سے آئے عباسی کو بات کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا۔

میں اور آپ یہ بات پسند کریں یا نہیں، تلخ حقیقت یہی ہے کہ دنیا کئی برسوں سے یہ سوچنے پر بضد رہی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت، خواہ وہ پاکستان کا تیسری بار منتخب ہوا وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو، اس ملک کی خارجہ پالیسی کے بارے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی۔ شاہد خاقان عباسی نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں کو تواتر کے ساتھ منعقد کرواتے ہوئے کم از کم یہ تاثر ضرور دینا چاہا کہ سیاسی قیادت، عسکری قیادت کے تجربے اور بصیرت سے ہمہ وقت رہ نمائی حاصل کرنے کو بڑے خلوص کے ساتھ آمادہ ہوچکی ہے۔
چودھری نثار علی خان نے منگل کے روز اپنے بیان کے ذریعے اس تاثر کو بھی جھٹلادیا ہے۔ ان کی حالیہ تقاریر بلکہ اس حکومت کے بارے میں تاثر یہ پھیلارہی ہیں کہ پاکستان کے دفاعی، خارجہ امور اور قومی سلامتی کے معاملات کسی Under۔ 19 ٹیم کے حوالے ہوچکے ہیں۔ اس ٹیم کے سرکردہ اراکین، خاص کر وزیر خارجہ کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔

غالباً یہ صرف چودھری نثار علی خان کی ذاتی رائے نہیں ہے۔ نون کے لاحقے والی پاکستان مسلم لیگ کے کئی سرکردہ رہ نما بھی یہ محسوس کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف صاحب بھی جو 2008ءسے ا ٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے مستقل رہ نما چلے آرہے ہیں اس سوچ کے حامی ہیں۔ شہباز صاحب کو چودھری نثار علی خان کی باتوں نے پریشان کیا ہوتا تو وہ ہرگز خصوصی طورپر ان سے ملاقات کرنے منگل کی سہ پہر اسلام آباد تشریف نہ لاتے۔ لندن اور ترکی سے وطن لوٹنے کے بعد بھی شہباز صاحب نے چودھری نثار علی خان صاحب سے ایک طویل ملاقات کے لئے وقت نکالا تھا۔

غلط یا صحیح، اسلام آباد میں یہ تاثر عام ہے کہ ”نثار کے پردے میں شہباز بول رہا ہوتا ہے۔ شہباز صاحب نے اس تاثر کو جھٹلانے کی ہرگز کوشش نہیں کی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کے بطور وزیراعظم انتخاب کے دن حمزہ شہباز شریف انہیں ووٹ ڈالنے بھی نہیں آئے تھے۔ ان کی اس عمل سے دانستہ غیر حاضری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ شاہد خاقان عباسی کو خادم اعلیٰ کی حمایت حاصل نہیں۔

نون کے لاحقے والی پاکستان مسلم لیگ کے وہ افراد جو قومی اسمبلی کے رکن ہیں ان کی بے تحاشہ اکثریت پنجاب سے منتخب ہوکر آئی ہے۔ اپنے حلقوں میں تھانے کچہری والے مسائل کے ضمن میں ان اراکین کو پنجاب حکومت کی سرپرستی درکار ہوتی ہے۔ وہ خادم اعلیٰ کی Good Books میں رہنے کو بے چین رہتے ہیں۔ شہباز شریف کی خوشنودی کی خاطر ہی ان اراکین نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت سے پرہیز کرنا شروع کردیا ہے۔ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں کورم کا مسئلہ روزانہ کی بنیاد پر اٹھا۔ حالانکہ وزیر اعظم اکثر اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہر روز ان کی اراکین قومی اسمبلی کے ڈویژن کی بنیاد پر بنائے گروپس کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔

محسوس یوں ہورہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی محنت اور بہت خلوص کے ساتھ ”سب کو ساتھ“ لے کر چلنے والی خواہش کی مناسب پذیرائی نہیں ہورہی۔ اس تناظر میں ان کا اس اسمبلی کے آئینی مدت ختم ہونے تک ہرصورت اپنے منصب پر ٹکے رہنا ایک احمقانہ فعل ہوگا۔

میری دیانت دارانہ رائے ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو وطن لوٹنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ بہتریہی ہوگا کہ ان کا استعفیٰ نئی قومی اسمبلی کے انتخابات کی راہ ہموار کرے۔ موجودہ اسمبلی کی قوت، اگر کوئی تھی بھی تو، نوازشریف کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نا اہلی کے بعد ہوا میں تحلیل ہوچکی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ نئے انتخابات کے ذریعے عوام کے حقیقی نمائندے سامنے آئیں اور پاکستان کو بحران سے نکالنے کے لئے چند بنیادی فیصلے کریں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔