جدن بائی، منٹو اور نرگس


برصغیر کی فلم انڈسٹری میں اُردو ادب اور اس زبان کے ادیبوں سے جس قدر گہرا تعلق جدن بائی کا رہا، شاید ہی کسی اور کا رہا ہو۔ نامور لکھنے والوں نے جس محبت سے اس خاتون کا ذکر اپنی تحریروں میں کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدن بائی پڑھنے کی کس قدر رسیا تھیں۔ جدن بائی کی اُردو ادب سے لگاوٹ کا ذکر سب سے پہلے منٹو صاحب کی کتاب ’’ گنجے فرشتے‘‘ سے ملاحظہ ہو:

’’مرحومہ کو اُردو ادب سے بڑا شغف تھا۔ میری تحریریں بڑے شوق سے پڑھتی اور پسند کرتی تھیں۔ ان دنوں میرا ایک مضمون ’’ساقی‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ غالباً ’’ترقی یافتہ قبرستان‘‘ ،معلوم نہیں، اس کا ذہن کیوں اس طرف چلا گیا ’’خدا کی قسم۔۔۔ کیوں بے بی (نرگس) اس دن کیا حال ہوا تھا میرا یہ مضمون پڑھ کر۔‘‘

معروف شاعر احسان دانش نے ایک دفعہ بمبئی میں جدن بائی کی زبانی اپنی نظموں کے ٹکڑے سنے تو حیران رہ گئے۔ ان کے بقول’’ مجھے یقین نہیں تھا کہ فلمی دنیا کی معروف عورت انقلابی نظموں اور ذہنوں کو پلٹ دینے والے غزلوں کے اشعار کو حافظے میں جگہ دے سکتی ہے۔ اسے صرف میرے ہی نہیں اس دور کے مشہور شعراء کے ہزاروں اشعار ازبر تھے۔‘‘

پاکستان میں تاریخی آڈیو لائبریری کے مالک او قلم کار لطف اللہ خاں نے اپنی کتاب ’’تماشائے اہلِ قلم‘‘ میں بتایا ہے :

’’جدن بائی، گانے کے علاوہ اُردو ادب کا بھی ستھراذوق رکھتی تھیں۔ ادب سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی مشاہیر بمبئی آتے، ان کی خدمت و تواضع میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتیں۔ ساحل سمندر کے پُر فضا مقام، میرین ڈرائیو پر ایک خوبصورت فلیٹ خرید لیا تھا، وہاں پُرتکلف دعوتیں ہوتی تھیں، اور رنگین مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے۔ ذاتی طورپر دو ایسے شعرا کو جانتا ہوں جو جدن بائی کی پر جوش خاطر تواضع سے مستفیض ہوتے رہے۔ ایک تھے حضرت ابو الاثر حفیظ جالندھری اور دوسرے تھے مولانا ماہر القادری۔

نرگس، جدن بائی، اتم چند موہن چند

برصغیر کی فلمی دنیا میں شاعروں کو اپنے کلام کی رائلٹی نہ ملنے پر تنازعات جنم لیتے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ادیبوں کو ان کی محنت کا معاوضہ دینے میں پبلشر اور فلم پروڈیوسر کنجوسی کا مظاہرہ کل بھی کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں، اس لیے اُردو کے نامور نقاد مظفر علی سید نے ایک بار لکھا تھا کہ ہمارے یہاں لکھنے والا تو فلسطینی اور چھاپنے والے اسرائیلی۔ فلموں میں اس ڈر سے کہ کہیں رائٹر اپنی تخلیق بغیر اجازت شامل کرنے پر دعویٰ دائر نہ کر دے، اس کا توڑ یہ نکالا جاتا کہ مصرعوں میں معمولی رد و بدل کر دیا جاتا۔ ’’معروف براڈ کاسٹر اور مصنف رضا علی عابدی نے ’’نغمہ گر‘‘ میں لکھا ہے کہ فلم ’’جگنو‘‘ میں فیض احمد فیض کی ایک نظم کے پہلے مصرع کو تبدیل کر کے شامل کیا گیا، تا کہ وہ بغیر اجازت اپنی نظم کے استعمال پر دعویٰ دائر کر دیں تو بچت کی صورت نکل سکے۔ رضا علی عابدی کے بقول ’’بعد میں نور جہاں نے فیض صاحب کو جانا تو بولیں کہ وہ اتنے شریف اور نفیس انسان تھے کہ ذرا بھی بُرا نہ مانتے۔‘‘

اسی بارے میں: ۔  اڑیسہ کے آدم خور مگرمچھ اور خوفزدہ دیہاتی
جدن بائی، دلیپ کمار، نرگس اور محبوب

جدن بائی شاعروں کو معاوضہ دینے کے معاملے میں بھی بڑے بڑوں پر بازی لے گئیں اور وہ بھی اس صورت میں کہ شاعر ان سے معاوضے کے طلب گار بھی نہ تھے۔ ایک واقعہ اختر شیرانی کے محقق بیٹے مظہر محمود شیرانی نے والد کے خاکے میں بیان کیا ہے۔: ’’سنہ 1945-46ء میں جدن بائی نے بمبئی میں ایک فلم ’’رومیو جولیٹ‘‘ بنائی تھی، جس میں ان کی بیٹی اور اس دور کی معروف اداکارہ نرگس نے جولیٹ کا کردار ادا کیا تھا۔ جدن بائی کو اس فلم میں گانوں میں شامل کرنے کے لیے اختر صاحب کی ایک نظم ’’تمہیں ستاروں نے بے اختیار دیکھا ہے‘‘ پسند آ گئی۔ انہوں نے باقاعدہ لکھ کر اجازت طلب کی اور یہ بھی دریافت کیا کہ وہ اس کا کیا معاوضہ قبول کریں گے؟ اختر صاحب نے بلامعاوضہ اجازت دے دی۔ جدن بائی بڑی وضع دار خاتون تھیں۔ انہوں نے نظم کی فلم میں شمولیت کے ساتھ ہی ایک تولہ وزنی طلائی انگوٹھی اختر صاحب کے لیے اور ڈیڑھ تولہ وزن کے طلائی کانٹے ان کی بیگم کے لیے خاص طور پر بنوا کر بھجوائے ۔ انگوٹھی پر اختر کے پہلے حرف (A) کا بڑا خوبصورت مونوگرام کندہ تھا۔‘‘

جدن بائی (1936 میں)

معروف صحافی او ادیب حمید اختر نے بھی فلم اسٹار نرگس پر مضمون میں جدن بائی کے مجروح سلطان پوری کو غزل کا معاوضہ دینے کے طریقہ کارسے متعلق بتایا ہے : ’’ ۔۔۔ فلم میں مجروح کی جو غزل لی گئی تھی، اس کے معاوضہ کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔ مجروح اس زمانے میں بیگار اور پریشان حال تھا۔ اسے سیاسیاست سے نئی نئی دلچسپی ہوئی تھی اور وہ دن رات بھوکا رہنے کے باوجود سیاسی دلچسپیوں میں مصروف رہتا تھا۔ اس لیے غزل فلم میں لینے کے فیصلے کے چند روز بعد جب وہ ایک دن نرگس کے ہاں پہنچا تو ان ماں بیٹیوں نے اسے موٹر میں بٹھا کر بازار کا راستہ لیا اور ایک درزی کے ہاں جا کر دو گرم شیروانیاں، کچھ کرتے، کچھ پاجامے اور بوٹوں کے چند جوڑوں کا آرڈر دے دیا۔ بعد میں اس خیال سے کہ کہیں مجروح اس بات کو برا نہ سمجھے، جدن بائی نے کہا، ’’مجروح تم تو اپنے لباس کے متعلق اتنے لاپروا ہو کہ تم سے کچھ کہنا بے کار ہے۔ اس لیے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ تمہاری سترپوشی کا بندوبست بھی میں خود ہی کروں۔ ان چیزوں کے دام غزل کے مقررہ معاوضے سے کہیں زیادہ تھے۔ جدن بائی جانتی تھی کہ مجروح اس سے دوستی کی وجہ سے غزل کے نقد پیسے نہیں لے گا۔ اس لیے اس نے یہ راستہ اختیار کیا، جس میں کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔‘‘

اسی بارے میں: ۔  کانچ کی نیلی سبز گیند


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔