سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانےکا حکم


لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی درخواستوں پر مختصر فیصلہ سنایا، جس میں سانحہ کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت انکوائری رپورٹ دی جائے اور جسٹس باقر نجفی کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظرعام پر لائی جائے۔

جوڈیشل انکوائری پر ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں کی سماعت کے لئے تاریخ مقرر کردی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کا فل بینچ 25 ستمبر کو درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔ اس دوران پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  سولہ دسمبر کو سکول کے بچوں پر بھارتی فوج کا حملہ