ترکی کی اسلامی تحریک – چوتھا حصہ


فتح اللہ گولن کی ترک اسلامی تحریک پر مضامین کا سلسلہ

adnan Kakar

تحریک کی معاشرتی تنظیم


مقامی حلقوں کا نیٹ ورک

گولن فکر سے متاثرہ منصوبے شہروں اور قریوں میں موجود ایسے بے شمارمقامی حلقوں پر انحصار کرتے ہیں جو کہ کاروباری لوگوں، ہنرمند افراد اور محنت کش افراد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ترک جمہوریہ کے قیام کے بعد صوفی مجالس اور مدرسوں پر پابندی کے بعد وہ لوگ جو اپنے دین اور روایات کو ترک نہ کرنا چاہتے تھے، بڑے علما کے گرد اکٹھے ہونے لگے۔ ان گروہوں کو جماعت کا نام دیا گیا۔ جماعت کے اندر صحبت نامی چھوٹے گروہ ہوتے تھے تھے جن کی کوئی باقاعدہ ممبرشپ نہیں ہوتی تھی اور وہ اکٹھے ہونے کے لیے کسی مخصوص عمارت کے محتاج نہیں تھے۔ یہ باقاعدگی سے آپس میں کہیں بھی ملتے جلتے اور قرآن و حدیث پڑھتے اور تبادلہ خیال کرتے اور لوگوں کی فلاح کے لیے مختلف منصوبوں کا انتخاب کرتے اور ان کی وہ معاشی مدد کرتے۔

سعید نورسی ان اہم علما میں سرفہرست تھے جن کے گرد جماعت قائم ہوئی۔ وہ سائنس اور منطق اور اس کے ساتھ ساتھ ہدایت اور دین کی ترویج اور ان سب کے امتزاج پر یقین رکھتے تھے۔ گولن صاحب ان نورسی حلقوں میں شامل رہے تھے اور انہوں نے اپنے پیروکاروں کو بھی اسی شکل میں منظم کیا۔ لوگ بھی ان حلقوں سے آگاہ تھے اور ان لوگوں میں سے کئی پہلے ہی اپنے پیشے، محلے یا کسی خاص دلچسپی پر مبنی ایسے حلقوں میں شامل تھے۔ یہ قدرتی بات تھی کہ یہ حلقے بھی ایک ایسے امام کی بات میں دلچسپی لیں گے جو کہ ملک میں اتنا مقبول ہورہا تھا۔ ان حلقوں اور تحریک کو سمجھنے کے لیے مصنفہ نے تحریک میں شامل صحافیوں، ہنرمند افراد، امیر کاروباری حضرات اور کارکنوں کے انٹرویو لیے جن میں سے کچھ ایک بہت بڑی رقم تحریک کو عطیہ کرتے تھے۔ اس گروہ میں شامل لوگ امیروں میں سے بھی تھے اور غریبوں میں سے بھی، شہروں سے بھی تعلق رکھتے تھے اور قریوں سے بھی، مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، کچھ لوگ طویل مدت سے تحریک سے وابستہ تھے اور کچھ کو ابھی اتنا عرصہ نہیہں ہوا تھا۔

fethullah-gulen-76

مقامی حلقوں کا ڈھانچہ

مقامی حلقوں کو عام طور پر دو طرح سے منظم کیا گیا ہے۔ 1۔ مقام اور محلے کی بنیاد پر 2۔ تعلیم اور پیشے کے لحاظ سے۔ مثال کے طور پر ایک علاقے میں موجود ڈاکٹر آپس میں ملتے ہیں، اور وکیل، اکاونٹنٹ، ٹیچر، فیکٹری کارکن وغیرہ آپس میں ملتے ہیں۔ گو کہ یہ لوگ تحریک میں شامل بڑی تنظیموں میں بھی شامل ہوتے ہیں جہاں وہ ایک وقفے کے بعد ملتے رہتے ہیں، لیکن وہ ہفتے میں ایک یا دو دفعہ دس بارہ لوگوں پر مشتمل چھوٹے گروہ کی شکل میں بھی ملتے ہیں۔ ان چھوٹے گروہوں میں موضوع گفتگو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ خاندان، دین، پیشہ ورانہ امور سب زیر بحث آسکتے ہیں۔ جیسا کہ ایک رکن نے کہا تھا کہ شئیر کرنا اہم ہے، جمعہ کی رات کو میں سب دوست احباب کو کہہ دیتا ہوں کہ مجھے فون نہ کریں اور کوئی پروگرام نہ بنائیں کیونکہ حلقے کی یہ ملاقات میرے لیے ہفتے کا سب سے اہم کام ہے۔

ملازمت پیشہ افراد پر مشتمل حلقے اتنے امیر نہیں ہوتے کہ پورے سکول کو چلانے کے لیے سرمایہ فراہم کرسکیں۔ دو تین افراد مل کر کسی ایک بچے کی تعلیم کا خرچہ اٹھا لیتے ہیں۔ یہ خود تو اس قابل نہیں ہوتے کہ رقم دے سکیں، لیکن یہ اپنا وقت منصوبے کے لیے دوسروں سے رقم اکٹھی کرنے پر صرف کرتے ہیں۔ ایک کاروباری شخص کا کہنا تھا کہ ایک ہی کاروبار سے متعلق ہونے کی وجہ سے ہم لوگ آسانی سے اکٹھے ہوکر ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی طرف گاہک بھی بھیج سکتے ہیں۔ اور اپنی کمیونٹی کی ضرورت کے متعلق منصوبوں پر بات چیت کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم کس طرح مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ ہماری کوششوں کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہوتے ہیں جس سے ہمیں تحریک ملتی ہے کہ ہم اور پیسہ دیں۔

میں نے جتنے بھی حلقوں کا دورہ کیا وہ مردوں اور خواتین کی تقسیم پر مبنی تھے۔ جب میں نے خواتین کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ گو کہ حلقے خواتین کے لیے کھلے ہیں لیکن وہ خواتین پر مشتمل حلقوں میں زیادہ بہتر محسوس کرتی ہیں۔ انجینئروں کے حلقے میں دس فیصد مخلوط حلقوں میں خواتین ملتی ہیں۔ ان کے متوازی خواتین انجینئیر کے حلقوں میں نوے فیصد خواتین ملتی ہیں۔ یہی دوسرے پیشوں کے بارے میں بھی درست ہے۔ ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ خواتین صبح کے اوقات میں ملنا آسان سمجھتی ہیں جب ان کے لیے وقت نکالنا ممکن ہوتا ہے۔

ہر حلقے میں ایک بنیادی قدر مشترک یہ ہے کہ وہ ترکی میں یا باہر کسی فلاحی منصوبے کی مدد کرتا ہے۔ تحریک میں کافی قریبی تعاون ہے اور شعبہ تعلیم سے متعلق لوگ بتاتے ہیں کہ کس جگہ کس منصوبے کو مدد کی ضرورت ہے، ہسپتالوں سے متعلق لوگ اس شعبے میں منصوبوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جیسے ہی خبر پھیلتی ہے کوئی نہ کوئی حلقہ مل کر سوچتا ہے کہ مدد کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔

منصوبوں کے لیے رقم کا بندوبست

گولن کی ترکی اور بنی نوع انسان کے لیے ایک اہم ترجیح ایک اچھی تعلیم کی فراہمی ہے جس کے لیے وہ تحریک میں شامل مخلص اساتذہ، منتظمین، اتالیقوں اور سرمایہ داروں کے تعاون سے سکول کھولنے کی وکالت کرتے ہیں۔ تنظیم کے جس بھی حلقے کے اراکین کا میں نے انٹرویو کیا، وہ کسی نہ کسی تعلیم منصوبے یا طلبا کے لیے وظائف کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔

ہر سکول اپنا حساب کتاب خود دیکھتا ہے۔ وہ مقامی اور ریاستی اداروں اور ان کے ساتھ ساتھ ٹرسٹ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ مدد فراہم کرنے والے لوگ کسی نہ کسی حیثیت میں سکول سے تعلق رکھتے ہیں اور اس طرح رقم کے استعمال پر نظر رکھتے ہیں۔ ایک تاجر کا کہنا تھا کہ گولن تحریک سے وابستہ افراد نے لوگوں کا اعتماد حاصل کرلیا ہے اور اب وہ اس بات کے بارے میں پریشان نہیں ہوتے کہ ان کی امداد صحیح جگہ پہنچی ہے یا نہیں۔ لیکن اگر وہ یہ جاننا چاہیں تو ہر قسم کے کام کے بارے میں اعداد و شمار دستیاب ہوتے ہیں۔ ہوسٹن کے ایک تاجر نے کہا کہ میں ان کے کاموں کے بارے میں نہیں جانتا لیکن میں ان بندوں کو اچھی طرح جانتا ہوں اور مجھے ان پر اعتماد ہے۔ اسی لیے میں ان کو عطیات دیتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ درست انداز میں استعمال ہوں گے۔

مثال کے طور پر ماردن میں مقامی تاجروں کے ایک گروہ نے دیکھا کہ حکومت نہ صرف ان کے شہر بلکہ پورے جنوب مشرقی ترکی میں طلبا کو ایسی تعلیم فراہم نہیں کر پا رہی تھی جو کہ ان کو یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان میں مقابلے کا اہل بناتی۔ یہ لوگ ازمیر، استنبول اور غازی انتیپ میں گولن سکولوں کی کارگزاری دیکھ چکے تھے اور یہ جانتے تھے کہ ان سکولوں کو نہ صرف مقامی تاجر بلکہ ملازمت پیشہ افراد، اساتذہ اور سرکاری ملازمین بھی عطیات دیتے تھے۔

ماردن کے ان تاجروں نے ان ہم خیال لوگوں کی مدد چاہی جو کہ لوگوں کو تعلیم دینے کے نظریے کے حامی تھے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے رقم کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ کچھ نے ایسے لوگوں کو قائل کرنے کا وعدہ کیا جو کہ رقم فراہم کر سکتے تھے، کچھ نے اپنے سپلائرز سے تعمیراتی ساز و سامان کے عطیات لانے کا وعدہ کیا، اور کچھ نے تعمیر کے لیے اپنا وقت اور جسمانی محنت دینے کا وعدہ کیا۔ اس وقت ماردن میں گولن تحریک کے سکولوں میں ہر استاد کم از کم ایک سیکنڈری یا ہائی سکول کے طالب علم کے ماہانہ اخراجات برداشت کرتا ہے۔

اسی طرح انقرہ میں ٹیکسٹائل سے وابستہ درجن بھر چھوٹے تاجروں کی گولن تحریک سے متاثرہ منصوبے میں شمولیت کی کہانی ہے۔ سنہ پچاسی میں ایک امام ایک مقامی مسجد میں آئے اور تاجروں سے ایک سکول کھولنے کے لیے مدد چاہی۔ امام کے جانے کے بعد یہ لوگ اس منصوبے کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہفتے میں دو دفعہ ملتے رہے۔ کچھ نے رقم دی، کچھ نے شہر کے دوسرے تاجروں سے مدد لے کردینے کا وعدہ کیا، اور کچھ نے ساز و سامان جیسا کہ سیمنٹ، ڈیسک وغیرہ، حتی کہ جسمانی مشقت کا بھی وعدہ کیا۔ بہت کم وقت میں سمان یولو کالج نے کام شروع کردیا۔

یہ لوگ سکول کھلنے کے بعد بھی ملتے رہے اور سکول کی ضروریات اور ترقی کو دیکھتے رہے اور دوسسرے منصوبے شروع کرتے رہے۔ سنہ اکانوے میں آذر بائجان میں ہونے والے قتل عام کے بعد لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے انقرہ کے اٹھارہ تاجر وہاں رقم اور اشیا کی فراہمی کے لیے گئے۔

ایک اور تاجر نے ایک کہانی سنائی جو کہ بتاتی ہے کہ عام طور پر کس طرح لوگ تحریک سے وابستہ ہوتے ہیں۔ سنہ اٹھاسی میں اس تاجر کی ملاقات ایک قانون کے طالب علم سے ہوئی جس کو اس کے رہائشی کمپلیکس میں رہنے والا ایک اور تاجر وظیفہ فراہم کر رہا تھا۔ اس نے اس تاجر سے خواہش ظاہر کی کہ وہ اسے ایسے کچھ اور ضرورت مند طلبا سے ملادے جو کہ لا کالج کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ چند دن بعد قانون کے چند طلبا اس کی دکان پر آئے۔ لیکن انہوں نے رقم نہیں مانگی اور ملک اور دنیا کو درپیش مختلف مسائل کے بارے میں عمومی گفتگو ہوتی رہی۔ چند دن بعد انہوں نے اسے اپنی قیام گاہ آنے کی دعوت دی جہاں سارے ترکی سے دس قانون کے طالب علم رہتے تھے جن میں سے بیشتر غریب گھرانوں سے تھے۔ پھر بھی رقم کی بات نہ کی گئی۔ ان طلبا نے دوبارہ سٹور کا چکر لگایا تو ان کی ملاقات اس تاجر کے بیٹے سے ہوئی جو کہ سکول میں کافی کمزور جا رہا تھا۔ انہوں نے اس لڑکے کو پڑھانے کی پیشکش کی اور اس کے گریڈ بہت بہتر ہوگئے۔ اس تاجر سے ان طلبا کا میل جول ایک سال تک رہا اور پھر ان کو اچھی طرح جاننے کے بعد اس نے ان کو تعلیم مکمل کرنے کے لیے وظائف دیے۔ وہ تاجر سنہ اٹھاسی سے طلبا کو یہ وظائف دے رہا ہے۔

پہلا حصہ

دوسرا حصہ

تیسرا حصہ


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “ترکی کی اسلامی تحریک – چوتھا حصہ

  • 09-03-2016 at 7:22 pm
    Permalink

    ترکی کی اسلامی تحریک کے بجائے اس کا نام گولان موومنٹ یا فتح اللہ گولان کی حزمت تحریک وغیرہ ہونا چاہیے تھا۔ نام سے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ ترکی کے اسلامسٹوں پر ایک مجموعی نقد ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ترکی کے اسلامسٹوں کا ذکر نجم الدین اربکان کے بغیر لینا ممکن نہیں۔ یہ وہی اربکان ہیں جو طیب اردوان کے مینٹور رہے ۔ خود طیب اردوان کو بھی ایک طرح سے ترکی کے اسلامسٹوں یا مبینہ اسلامسٹوں کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ بدیع الزمان سعید نورسی ترکی میں اسلامی تحریک کے حوالے سے ابتدائی لوگوں مین سے ایک ہیں، فتح اللہ گولن انہی نورسی کے شاگرد ہیں اور گولان موومنٹ والی نورسی صاحب کی فکر کو آگے بڑھانے کے دعوے دار ہیں، اگرچہ نورسی صاحب کے فکر کے دیگر مویدین اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ خود اربکان صاحب بھی سعید نورسی کے شاگردوں میں سے ہیں، جبکہ نورسی صاحب کی فکر کو خالص انداز میں آگے بڑھانے کے دعوے داروں کا ایک حلقہ اور بھی ہے جو گولن صاحب سے اختلاف رکھتا ہے، طیب اردوان صاحب کا تو پہلے ذکر ہوچکا۔ ترکی کے پولیٹیکل اسلام کے حوالے سے کون ہے جو طیب اردوان کو نظرانداز کر سکتا ہے۔ اس لئے نام میرے خیال میں تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ ترکی کی اسلامی تحریک کا جائزہ نہیں بلکہ یکے از اسلامی تحریک کا جائزہ ہے۔

  • 09-03-2016 at 9:58 pm
    Permalink

    عمدہ تعارف ہے لیکن آج کل تو بے چاروں کی شامت آئی ہوئی ہے۔ ان کو ملک دشمن قرارد ے کر ان کے اثاثوں پر دھڑا دھڑ قبضے کیے جارہےہیں۔ ان کے اخبارات اور ٹی وی سٹیشنوں پر دھاوے بولے جا رہے ہیں۔ طیب اردوان تیزی سے سلطان طیب اردوان بننے کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔ ہمارے اسلامی انقلاب کے علم برداران اردوان کی قصیدہ نگاری میں مشغول ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ وہ جلد خلافت کی بحالی کا اعلان کر دیں گے۔

Comments are closed.