ہم سب، نیم برہنہ تصاویر اور اختلاف


’ہم سب ‘سے وابستگی کو ایک اب تو مدت گزر گئی ہے۔ یہاں سید مجاہد علی، وجاہت مسعود، عثمان قاضی، عاصم بخشی، آصف فرخی، ڈاکٹر اختر علی سید، ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر خالد سہیل، نور الہدی شاہ اور نصیر احمد ناصر جیسے اساتذہ سے سیکھنے کا موقع دستیاب ہوا۔ حاشر ابن ارشاد، حسن معراج، وسی بابا، فرنود عالم، عدنان کاکڑ، حسنین جمال، ذیشان ہاشم، جمشید اقبال، مبشر علی زیدی، علی احمد جان جیسے علم دوست اور صاحب الرائے دوستوں کے ساتھ نہ صرف شریک محفل بلکہ شریک صفحہ ہونے کا امتیاز بھی حاصل رہا۔ بہنوں جیسی تنویر جہاں، لینہ حاشر، ڈاکٹر لبنی مرزا، آمنہ مفتی اور رامش فاطمہ کا ساتھ ملا۔ تمثیل کا سہارا لیا جائے تو عرض کرنے دیجیے کہ گویا ایسا میلہ تھا جسے ایک بچہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ کہیں جھولے تھے اور کہیں رنگ برنگے برف کے میٹھے گولے مل رہے تھے۔ خوشی کا ایک مستقل احساس ہے جو قائم ہے۔ پچھلے ڈیڑھ برس میں ذہنی اپج کے جتنے نئے در یہاں کھلے وہ شاید زندگی کی پچھلی تین دہائیوں میں نہیں کھلے تھے۔ فکری و نظریاتی اختلاف کے کئی بھی پہلو آئے مگر سیکھنے کو ہزاروں باب دستیاب بھی ملے۔ یہ تعلق ایسا خوبصورت اور جداگانہ ہے کہ بقول ولی محمد ’ تاقیامت کھلا ہے باب سخن‘۔

ذاتی تعلق اور فکری تحصیل کے علاوہ ’ ہم سب‘ ایک ادارہ ہے جس کے مدیر اعلی محترم وجاہت مسعود ہیں۔ اس ادارے میں مدیر کے منصب کے علاوہ ایک ٹیم موجود ہے جس میں سید مجاہد علی، تنویر جہاں، عثمان قاضی، عاصم بخشی، حاشر ارشاد، حسن معراج، وسی بابا، فرنود عالم، عدنان کاکڑ، ذیشان ہاشم، حسنین جمال اور ظفر اللہ خان جیسے صاحب علم و دانش احباب (مصنف پر لگے لاحقہ علم و دانش کو بہتان سمجھا جائے) نہ صرف مستقل لکھنے والے ہیں بلکہ ادارتی معاون بھی ہیں۔ کسی بھی وابستگی سے بالاتر بطور قاری میری ایک غیر جانب دارانہ رائے ہے کہ پچھلے ڈیڑھ برس میں ’ہم سب‘ نے ایک متبادل بیانیہ تشکیل دیا ہے یا کم ازکم اس کی تشکیل میں بڑا حصہ ضرور ڈالا ہے۔ اس ادارے نے ایک ایسی ساکھ بنائی ہے کہ ملک کے اہم اداروں اور رائے عامہ میں ’ہم سب‘ کی رائے اثر انداز ہو رہی ہے۔ بطور قاری یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان میں جمہوری، سیکولر اور لبرل بیانئے کا واحدعلمبردار ادارہ یہی ہے تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں درست جمہوری سیکولر اور لبرل بیانیہ کے مباحث کو اسی ادارے نے پروان چڑھایا ہے۔ ادارہ ’ ہم سب‘ نے ڈیڑھ برس کے قلیل عرصے میں نہ صرف اپنی موجودگی ثابت کی ہے بلکہ رائے عامہ پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ بلا تعصب کہا جا سکتا ہے کہ ’ ہم سب ‘ کے قارئین میں پشین سے لے کر طورخم تک اور نوشکی سے واہگہ تک سنجیدہ احباب شامل ہیں۔

ہم سب سے وابستگی میں جہاں مسرت، اتفاق اور مسکراہٹ کا سامان دستیاب ہے وہاں اختلاف کے چند پہلو بھی گاہے در آتے ہیں۔ کسی فرد کی ذاتی آراء سے اختلاف اور اتفاق کے سو پہلو ہو سکتے ہیں جس کا اظہار بارہا انہی صفحات پر کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم ’ ہم سب‘ سے بطور ادارہ بھی اختلاف کے چند پہلو اس ڈیڑھ سالہ رفاقت میں در آئے تھے۔ کچھ عرصے سے ایک اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ ہم سب مسالہ دار خبریں چھاپتا ہے۔ نہ صرف چھاپتا ہے بلکہ ان مصالہ خبروں پر قابل اعتراض تصاویر بھی شائع کرتا ہے۔ یہ اعتراض باہر سے بھی آیا ہے اور ’ ہم سب‘ کے ادارتی بورڈ میں بھی کئی بار آیا ہے۔ یہی اعتراض خاکسار کو بھی ہے۔ اس موضوع پر پچھلے دنوں جناب ظفر عمران صاحب کی ایک تحریر بعنوان ’ ہم سب پر اعتراضات مسترد‘ شائع ہوئی تھی جس میں چند جملے یوں تھے۔’ساتھ ہی یہ بھی کہ دیں کہ اگر کوئی تصویر بے بنیاد حوالے یا بے بنیاد تنسیخ کے ساتھ شایع ہوئی ہو، تو نشان دہی کی جائے۔ مناسبت ایک موضوعی معاملہ ہے۔ یہ صحرائی منطقہ ہے۔ جسے دعویٰ ہو، بات کرلے‘۔’ان تحریروں میں شامل حقائق یا دلائل میں کوئی اعتراض ہے، تو بیان کیا جائے،اخلاقی لحاف پر مکے بازی بے معنی ہے‘۔

میں جناب ظفر عمران کو جواب نہیں دے رہا بلکہ ان کے جملوں کو مستعار لے کر اپنے ادارے ’ ہم سب‘ سے اختلاف کے موضوع کا نکتہ آغاز بنا رہا ہوں۔ مسالہ دار خبروں پر نیم برہنہ تصاویر چھاپنا میرے لئے نہ صحرائی منطقہ ہے اور یہ اخلاقی لحاف پر مکے بازی ہے۔ میں اسے موضوعی معاملہ نہیں سمجھتا۔ بات کرنے کی دعوت دی گئی ہے تو بات کر لیتے ہیں۔

 احباب کے علم ہے کہ گزشتہ ایک دو عشرے سے یورپ امریکہ اور برصغیر (خصوصا ہندوستان) میں عورت کو اشتہارات میں بطور Commodity استعمال کرنے پر ایک بحث چھڑی ہے۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ یہ عمل بنیادی انسانی اقدار کے خلاف ہے۔ ایک بحث جنسی تجسیم ( Sexual objectification )کی اس سے پہلے موجود تھی۔ یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ ٹی وی، فلم اور اشتہارات میں عورت کو جنسی تسکین کے لئے محض بطور جنس (Commodity)  کیوں پیش کیا جاتا ہے؟ جنسی تجسیم ( Sexual objectification ) ایسے عمل کو کہتے ہیں جس میں آپ کسی فرد کو محض جنسی خواہش کے لئے بطور شے (object)  استعمال کرتے ہیں۔ یہ عمل آج کے انسانی سماج میں غیر منصانہ بھی ہے اور معتصبانہ بھی۔ تجسیم (objectification) کی تعریف یہی ہے کہ آپ کسی فرد کو اس کی شخصیت اور عزت سے قطع نظر بطور جنس (Commodity)  استعمال کریں۔ سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے کے پڑھے لکھے احباب، معاشرے کی راہیں متعین کرنے الے اساتذہ، انسانی اقدار کے علمبردار صاحب الرائے احباب اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ سماج میں عورت کو بطور جنس استعمال نہیں کرنا چاہیے؟ کیا وہ اس پر متفق نہیں ہیں کہ جنسی تجسیم اور ایک قابل مذمت عمل ہے؟ میرا خیال یہ ہے کہ یہ سارے احباب اس پر متفق ہیں۔ اگر یہ اتفاق موجود ہے جو کہ میں فرض کر چکا ہوں تو مجھے ایک اور دعوی کرنے دیجیے۔ ادارہ ’ ہم سب‘ سے ڈیڑھ سالہ رفاقت میں میں یہ بات سیکھ چکا ہوں کہ یہ ادارہ انسانی سماج میں تعصبات کی بنیاد پر امتیازکے خلاف ہے۔ یہ ادارہ جنس کی بنیاد پر تفریق کے خلاف ہے۔ یہ ادارہ جنسی تجسیم کے کسی بھی صورت کے خلاف ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو میرے چند سوال ہیں۔

آپ نے تحریر چھاپی ’ آپ نرگس فخری کے بارے میں کیا جانتے ہیں‘ اس میں نرگس فخری کی نیم برہنہ تصاویر کے ساتھ آپ نے اس کے جسمانی خدو خان (34-27-35) بیان کئے۔ مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ 34-27-35 سے علم کی کونسی خدمت مقصود ہے؟ میں جاننا چاہوں گا کہ اس سے سماج میں غلط جنسی رویوں پر بحث کا دروازہ کیسے کھلے گا؟ سادہ الفاظ میں اگر پوچھنے کی جسارت کروں تو یہ جنسی تجسیم کے علاوہ کیا ہے؟ کیا آپ کسی لکھنے والے کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ کسی سیاست دان یا مفکر کے جنسی خدوخال کے بارے میں قیاس آرائی کرے؟کیا آپ کسی لکھنے والے یہ اجازت دیں گے کہ وہ کسی موٹے یا کالے سیاست دان کے جسمانی خدوخال بیان کرے؟ یہی کام آپ نے سنی لیون کے ساتھ کیا۔ مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ ایک ادارہ جو انسان دوستی، رواداری، انسانیت کا علمبردار ہے اسے نیم برہنہ تصاویر کے ساتھ ایسی خبر چھاپنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے کہ ’ راکھی ساونت چھت کے پنکھوں کے خلاف کیوں تھیں‘۔ کیا اسے ایسی خبر سمجھا جائے جس سے قاری کو علم حاصل ہوتا ہے ؟ کیا اس سے انسانی آزادی کا کوئی مبہم خیال برآمد ہوتا ہے؟ اگر یہ سنسی خیزی اور انسانی جنسی تجسیم نہیں ہے تو کیا ہے؟

 ہر انسان کوانسانی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کا بنیادی حق حاصل ہونے کے سبب مجھے یہ تسلیم ہے کہ ایک فرد اپنے خیالات کے لئے کسی خود ساختہ الوہی گروہ کو جوابدہ نہیں ہوتا۔ تاہم ہمیں یہ تو ماننا ہو گا کہ ہم ایک سماج میں رہتے ہیں جس کے اچھے یا برے مگر بہرحال کچھ منطقی اور اخلاقی اصول تو موجود ہیں۔ سماج میں موجود اس کے منطقی اور اخلاقی اصولوں سے روگردانی کر کے اعتراض کرنے والوں کو اس بات سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا کہ یہ قاری کی پسماندہ سوچ، ژولیدہ خیالی، غدودی حوائج یا نفسیاتی عوارض ہیں۔ جب آپ سنی لیون کے بارے میں چہرہ تبدیل کرانے کے لئے سرجری کی خبر دینا ضروری سمجھتے ہیں تو ازراہ کرم چہرے پر رہیے۔ مجھے چہرے کی خبر میں برا میں breast implants دکھانے پر اعتراض ہے۔ کس قاری کو اس خبر سے اگر کوئی دلچسپی ہے تو ہو گی کہ صرف ایک فلم دو گانے گانے والی اداکارہ ادیتی راﺅ اب اے آر رحمان کے لئے گانا چاہتی ہیں۔ تاہم میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس خبر میں ادیتی راﺅ کی نیم برہنہ تصویر سے کیا اس سے سماج میں موجود غلط جنسی رویوں یا غلط اخلاقی اصولوں پر کون سے فکری بحث کا دروازہ کھلتا ہے؟

شکوہ سمجھ لیں، اختلاف سمجھ لیں یا اخلاقی لحاف پر مکہ بازی ہم اس قافلے میں خواب دیکھتے ہوئے شامل ہوئے تھے۔ ہمارے خواب اب بھی سلامت ہیں۔ ہمیں ساحلوں پر خوش رنگ پرندوں کے اترنے کا انتظار اب بھی ہے۔ ترک تعلق کا کوئی تذکرہ موجود نہیں۔ ہم امید کے اس ایسے ساحل پر کھڑے تھے جس کے بارے میں فیض کا مصرعہ مستعار لے لینا چاہیے کہ ’ تمہارے نام پر آئیں گے غم گسار چلے۔ مشکل یہ ہے کہ فیض نے ہی کہا تھا، ’ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں‘۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 148 posts and counting.See all posts by zafarullah