سندھ کے قدیم ترین شہرِ مردہ کی دریافت


چھوٹے بڑے تمام حلقوں میں یہ خبر بہت مسرّت کے ساتھ سنی جائے گی کہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے برسوں کی ان تھک محنت کے بعد سندھ کے قدیم ترین شہرِ مردہ کے کھنڈرات دریافت کر لیے ہیں۔ ابھی تحقیق جاری ہے اور اس کی دستاویزی شہادت مکمل ہونے میں چند برس لگ جائیں گے۔ لیکن ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ قدیم شہر سندھ کے مشہور آثار قدیمہ موہن جو دڑو اور اس سے کم معروف کا ہوجو دڑو سے بھی زیادہ قدیم ہے اور وسیع تر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ طول البلد اور ارض البلدسے بالکل نابلد ہے۔ اس کا محل وقوع بحیرۂ عرب کے قرب وجوار میں ہے۔ یعنی یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ سمندر اس کے قریب بہتا ہوگا۔ پھر سمندر نے بھی اپنا رُخ پھیر لیا اور وہاں سے پیچھے ہٹ گیا۔ ممکن ہے اس کی وجہ ان آثار قدیمہ سے اٹھنے والی شدید بدبو رہی ہوگی جس کی وجہ سے سمندر بھی اپنی ناک پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چپ چاپ چلا گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بدبو اس شہرِ مردہ سے ملنے والی ان لاشوں کی بڑی تعداد سے اٹھ رہی ہے جو شاید انسانی رہی ہوں گی۔ فی الحال وہ اس درجے مسخ ہوچکی ہیں کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ پہلے انسان رہی ہیں یا گندگی کے ڈھیر پر پلنے ولے کُتّے بلّی۔ توقع ہے کہ آئندہ چند دن میں ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد دس بارہ ملکوں کا دورہ کرنے کے بعد یورپی کمیشن کے سامنے عرضی پیش کرے گا کہ ان نیم انسانی یا ممکنہ طور پر انسانی لاشوں کے کیمیائی تجزیے کے لیے ترقیاتی قرضے، امداد کے طور پر عطا کیے جائیں۔ اس تجزیے سے حاصل ہونے والے نتائج یقیناً ہماری معلومات میں اضافے کا سبب بنیں گے اور ہمہ وقت جاری رہنے والے، کبھی کسی حال میں بند نہ ہونے والے ٹاک شوز کے اینکرز کو گفتگو کے وفور کے لیے نیا موضوع مل جائے گا جو کئی دن تک ان کے ساتھ دے سکے گا۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ امداد کی درخواست اس غرض سے کی جائے گی تاکہ رعب دار معلوم ہو ورنہ مختلف چینلز پر جاری رہنے والے ٹاک شو کے اینکرز کو گفتگو کے وفور کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں ہے۔
اس شہر مردہ کی حتمی تاریخ کے بارے میں کوئی بات کہنا مشکل ہے۔ یہ کب وجود میں آیا، کیوں اور کیسے۔ یہ بات تاریخ کے ان لاینحل سوالوں میں سے ایک ہے، جیسے برموڈا ٹراینگل، اہرام مصر کی تکونی شکل، ہندوستانی مسوّدوں میں صفر کی دریافت وغیرہ جن کے بارے میں کوئی بات کہنا آسان نہیں اور جن کے بارے میں تجسّس سے بھرے اسکول کے بچّوں اور ناخواندہ بوڑھوں کے لیے تصویروں والی کتابیں خاص طور پر تیار کی جاتی ہیں۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ یہ شہرِ مردہ آخر برباد کیسے ہوا۔ اس کے قریب سے کسی بڑی جنگ کے آثار نہیں ملتے۔ سیلاب، تباہی، زلزلے کے نشانات بھی نہیں پائے گئے۔ لڑکیوں کے نام والے کسی طوفان کا راستہ بھی ادھر سے نہیں گزرا اور نہ موسمی مصنوعی سیّارے نے ماضی میں بارش کے بادلوں کی غیرمعمولی نقل و حرکت کا سراغ لگایا ہے۔ یہ علاقہ کسی سونامی کی زد میں بھی نہیں آیا۔ تاریخ کے ایک ماہر کا خیال ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر آثار قدیمہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ ضرور ہوئی ہوگی اور گھمسان کا رن پڑا ہوگا۔ ان کے اندازے کے مطابق یہ جنگ مہابھارت اور پانی پت کی آخری لڑائی کے درمیان کسی وقت وقوع پذیر ہوئی ہوگی۔ تباہ شدہ عمارتوں اور ٹوٹے پھوٹے مکانوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے رہنے والے کسی وجہ سے اچانک اپنے کام چھوڑ کر چلے گئے ہوں گے اور ان کو دوبارہ اپنی تعمیرات کی مرّمت کے لیے آنے کا موقع نہیں ملا۔ تمام سڑکیں اور گزرگاہیں اُدھڑی پڑی ہیں جن سے شُبہ ہوتا ہے کہ ان کے نیچے بارودی سرنگیں بچھائی جارہی ہوں گی۔ یا پھر شاید بارودی سرنگوں کی تلاش کا کام جاری ہوگا۔ اتنے بڑے پیمانے پر راستوں کی کھدائی ایسے ہی کسی سبب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لیکن تاریخ اس بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔
تباہ کن جنگ کے منڈلاتے ہوئے سائے کے باوجود یہاں سے قدیم اوزاروں اور ہتھیاروں کی معقول تعداد دستیاب نہیں ہوسکی۔ خیال پیش کیا جارہا ہے کہ اس شہر نے اتنی ترقی کرلی تھی کہ کسی کو ہلاک کرنے کے لیے تلوار خنجر تیر و تفنگ کی ضرورت ہی نہ رہی تھی۔ وہ گھٹن، تعفّن، گہری گھنی بدبو کے ذریعے جان لے سکتے تھے۔ ان آثار میں گدلے پانی کے نشانات پائے گئے ہیں جن میں انسانی فضلے کے بڑے بڑے ٹکڑے تیرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ گئے ہیں۔ اس شہر میں جو بھی سماجی عمل رہا ہوگا، اس کی واحد نشانی اب یہی رہ گیا ہے۔ انسانی فُضلہ، بہت سارا فُضلہ۔ اس شہر کے مٹے مٹائے گلی کوچوں سے اٹھنے والی یہ بدبو اتنی شدید ہے کہ صدیوں کے تاریخی عمل اور جدید دنیا کی بے حسی و فراموش گاری کے باوجود ابھی تک مسلسل اٹھ رہی ہے۔ اس بدبو کی شدّت سے اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ بدبو اس شہر کی خصوصیت ہے اور اس کا یہاں کے سماجی عمل سے گہرا تعلق رہا ہوگا۔
ابھی تو تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے اس لیے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مگر ماہرینِ علم انسانیات و بشریات و عمرانیات کا دعویٰ ہے کہ وہ سراغ لگانے میں کامیاب رہے ہیں کہ اس پراسرار بدبو کا ماخذ کیا ہے اور اس کے فروغ کے لیے کون سے اوزار و آلات استعمال میں لائے گئے ہوں گے۔ ان کا خیال ہے کہ ہونہ ہو اس بدبو کا آغاز ان چھوٹے چھوٹے نیلے اور کالے تھیلے تھیلیوں سے ہوتا ہے جو شہر کے نیم مدفون آثار میں اتنی کثرت سے پائے گئے ہیں کہ خفیہ صنعتی عمل کے علاوہ ان کے وجود کی کوئی اور ماہیت ممکن نہیں ہوسکتی۔ یہ تھیلے تھیلیاں ایسے مواد کے بنے ہوئے ہیں جو کسی کیمیائی یا حیاتیاتی عمل سے مٹایا نہیں جاسکتا۔ اس پر شاید جوہری توانائی بھی نہیں اثر کرتی۔ ان تھیلیوں کے اندر سے دوسری مصنوعات کے ٹکڑے دستیاب ہوئے ہیں اور یہ شک یقین میں بدل سکتا ہے کہ تھیلی کے اندر پڑی ہوئی ان خام اشیاء کے ذریعے سے بدبو اور اس سے پھیلنے والی تباہی کو فروغ دیا جاتا رہا ہوگا۔ سمجھ میں نہ آنے والی یہ چیزیں قدیم شہر کے ہر گلی کوچے میں اتنی تعداد میں پائی جاتی ہیں کہ ان کی صحیح مقدار کا اندازہ لگانے میں ماہرین کو کئی صدیاں لگ جائیں گی۔ ہر دوچار گلیوں کے بعد ان چیزوں کے اتنے انبار نظر آتے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ شاید اس طرح ہیں جیسے دوسرے تہذیب یافتہ شہروں میں اناج کے ذخیرے یا قدیم مخطوطات پر مشتمل کتب خانے۔
اس نیم مدفون شہر کے دین و مذہب کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ آخر یہاں کے لوگ کس چیز کی پوجا کرتے تھے۔ کسی نہ کسی ان دیکھی، ان جانی طاقت یا مظاہر فطرت کا ان پر اس درجے رعب ضرور پڑا ہوگا کہ وہ تعظیم کے لحاظ سے اس کے سامنے جھک جاتے ہوں گے۔ احساس عبودیت طاری کر دینے والی یہ شے بدبو سے لبالب بھری تھیلیاں تو نہ ہوں گی کیونکہ وہ شاید ان ہی لوگوں کی پیداوار تھیں۔ پھر تاریخ میں اور کوئی ایسا مثال نہیں ملتی کہ bio-degradable مصنوعات کی پوجا کی گئی ہو۔ ٹوٹی ہوئی بعض عمارتوں کے حجم سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی عبادت گاہیں رہی ہوں گی۔ یوں بھی ان کے آس پاس سے تھیلیاں کم ملی ہیں۔ لیکن پانی کے گزرنے کے گندے نشان باقی ہیں جس کو نکاسی لیے کوئی اور راستہ نہیں ملا۔
دین ایمان کی طرح اس شہرِ مردہ کےطرز حکومت یا سیاست کے بارے میں بھی کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکا کہ یہاں اس نام کی کوئی شے موجود رہی ہوگی۔ ایک عمارت کا باقی حصّہ ڈھے گیا ہے صرف دیوار باقی رہ گئی ہے۔ اس دیوار کے قریب سے ایک مجسّمے کے ٹکڑے ملے ہیں جو شاید کسی اہم شخص کی شبیہہ ہوگی۔ اس مجسمے کا ناک نقشہ قدیم مصر کے فرعون طوطخ آمون سے حیرت انگیز طور پر مشابہ ہے۔ خاص طور پر ان کی ناک کا بانسہ جو عین پُھننگ پر آکر طوطے کی چونچ کی طرح ہلکے سے خم کے ساتھ نیچے مُڑجاتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ مشابہت اس وجہ سے ہو کہ دونوں کی زندگی کادورانیہ ایک جیسا رہا ہوگا۔ لیکن اس بارے میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کی جاسکتی۔ بلکہ اس نودریافت شہر کےبارے میں کوئی بھی بات یقنی طور پر نہیں کہی جاسکتی۔ سوائے اس کے کہ یہ کبھی ایک شہر رہا ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان کے ’’دا بڈی"، "کمفرٹ ایبل" اور "دا ہنٹر‘‘ صحافی

یہ شہر ابھی دریافت اور بازیافت کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ مزید تفصیلات اگر معلوم ہوگئیں تو ٹیلی وژن دیکھنے والے ناظرین کی خدمت میں پیش کر دی جائیں گی۔ دوسری صورت میں جو مل گیا ہے اس پر کام چلائیں۔ رونے چیخنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ہونی ہو کر رہتی ہے۔ کوئی شہر ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بنا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔