میر انیس کے گھرانے کی سنّی بہو


خاندانی لوگوں کی پہچان ان کے عمل سے ہوتی ہے۔ احمد نوید نے جب اپنے ابّا سے کہا کہ وہ جس لڑکی سے شادی کرنا چا ہتے ہیں وہ سنّی ہے، تب انہوں نے مسکرا کر کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں، اپنی امی سے پوچھ لو۔ انہوں نے کہا امی سے پوچھ چکا ہوں، انہوں نے بھی یہی کہا ہے ۔ادھر مجاہد بریلوی کی بیگم نزہت شیریں جو ہماری کولیگ تھیں انہوں نے ہمیں بتایا کہ احمد نوید ہم سے شادی کرنا چا ہتے ہیں تو ہمارے دماغ میں بھی یہی آیا کہ رشتہ فوراً مسترد ہو جائے گا ۔خیر پہلے تو ہم موصوف سے ملے اور سمجھا دیا کہ کو ئی امید نہ رکھیں، رشتے میں بہت بڑا عیب ہے۔ یہ بھی بڑے سیانے تھے۔ مجاہد بریلوی اور شیریں کے ساتھ گھر پہنچ گئے۔ مجاہد بھائی کی سفا رش رنگ لائی۔ پاپا نے رشتہ قبول کر لیا۔ بڑی بہن نے کہا، لوگ کیا کہیں گے۔ بولے جب ایک باپ اپنی بیٹی کی شادی خود کر رہا ہو تو کسی کی ہمت نہیں ہو تی کہ کو ئی کچھ کہے۔ شاندار مہندی ،شاندار بری، مگر یہ سب امی ( ساس ) کے رکھ رکھاؤ اور سلیقہ مندی کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔ ورنہ امی تو اپنی شاہی ذندگی کے ساری آسائشیں انڈیا میں چھوڑ آئی تھیں۔ اور وہاں سے شاہی وقار اور تمکنت کے ساتھ صبر و قناعت کی دولت سمیٹ لائی تھیں۔ پاپا کی منشاء کے مطا بق سنّی طریقے سے نکاح ہوا ، سسرال میں ابّا ( سسر ) نے صیغے پڑھے اور یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گیا۔ کچھ دن بعد محرّم آ گئے ۔ لباس کا تو علم تھا کہ شوخ رنگ نہیں پہنتے لیکن چوڑیاں اتارنے کا خیال نہیں رہا ۔ محلے کی عورتوں نے امی سے احتجاج کیا تب امی نے یہ کہہ کر انہیں ڈانٹ دیا کہ آج چھ محرم کو فرح کا نیا کالا جوڑا سل کر آیا ہے ، جب ہماری بچیاں خیال نہیں کرتیں تو میں اسے کیوں روکوں ٹوکوں۔ امی کی یہ بات کانوں میں پڑی تو فوراً کلا ئیاں خالی کر دیں۔ ربیع الاوّل کا مہینہ آیا تو بارہ ربیع الاوّل کو نیاز تیار ہوئی ، ہم نے کہا شیعہ تاریخ کے مطابق تو رسول ﷺکی تاریخِ ولادت سترہ ربیع الاوّل ہے، ہما رے میاں نے کہا کہ کہیں تمہیں احساس نہ ہو اس لیے امی نے یہ اہتمام کیا ہے۔ صرف یہ ہی نہیں محلے میں بھی بھیجی گئی ۔گود بھرائی کے موقع پر رسم کے مطابق مجلس رکھی گئی ۔ امی نے حکم دیا تم ماتم مت کرنا ۔ بعد میں میاں سے پوچھا امی نے منع کیوں کیا ، بتایا گیا کہ کہیں تم دوسروں کی دیکھا دیکھی گھبرا کر نا کرنے لگو جو کام تم نے میکے میں نہیں کیا، وہ کام تم سسرال میں کیوں کرو ۔

اسی بارے میں: ۔  کیا سکھاتی ہے کربلا کی داستان

اب ادھر کی سنیے ، ہماری ایک کزن نے کہا تم نے دیکھے ان کے ہاں چالیس سپارے ، ہم نے کہا ہماری ساس تو وہی قرآن پڑھتی ہیں جو ہم میکے سے لے گئے تھے کیوں کہ اس کے حروف موٹے ہیں۔ حیران ہو کر بولی اچھا یہ بتاؤ یہ لوگ حج کرتے ہیں ۔ ہم نے کہا ہاں بھئی ہماری سسرال میں کافی لوگوں نے ذوالحج کے مہینے میں حج کیا ہے ۔ کہنے لگی میں نے سنا ہے امام با رگا ہ میں۔۔۔۔۔؟ ہم نے کہا کسی دن میرے ساتھ چلنا تم بھی دیکھ لینا کیا ہو تا ہے۔ کہنے لگی اچھا تو کیا میں جا سکتی ہوں کو ئی مجھے روکے گا تو نہیں۔ کیا کالے کپڑے پہن کر چلوں ؟ ہم نے کہا ایّامِ اعزّا ہیں لیکن تم کیسے بھی رنگ کے پہن لو اور چلو میرے ساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا سب کچھ۔ ۔

رمضان آئے تو سنّیوں کی اذان کے ساتھ ہماری افطاری تیار ہو چکی تھی ۔ ہم نے کہا ہم دس منٹ انتظار کر لیں گے۔ کہا گیا بالکل نہیں تم اپنے وقت کے مطابق کھولو۔ ہم اپنے میکے گئے، پاپا نے احمد نوید سے کہا چلو ہما رے ساتھ مسجد چلو وہیں روزہ افطاریں گے اور نما ز بھی پڑھیں گے۔ اطمینان سے گئے ۔ ان کے ساتھ سنیوں کے وقت پر روزہ بھی افطار کیا اور ہاتھ کھول کر نما ز بھی پڑھی مگر کسی نے طنز کے تیر چلا ئے نہ مذاق اڑایا بلکہ سب نے ہی پاپا سے ان کے حسنِ اخلاق کی تعریف کی ۔

اسی بارے میں: ۔  عامر بھائی پلیز ایسی باتیں نہ کریں

ہمارے میکے میں سب ان کی عزت کرتے ہیں اور فخر سے بتا تے ہیں کہ احمد نوید ان کے گھرانے کا داماد ہے۔ اور سسرال میں کسی کو اب شاید یاد بھی نہیں کہ میر انیس کے نجیب الطرفین سیّد گھرانے میں کبھی کوئی سنّی بہو بھی آئی تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔