شراب نوشی اور چند احتیاطی تدابیر


پچھلے دنوں ہم سب پہ پاکستان میں شراب کے بڑھتے ہوےرجحان اور اس کے استعمال سے پیدا ہونے والے منفی اثرات اور شرح اموات پر ایک بلاگ نظر سے گزرا۔ مجھے اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ شراب کا استعمال ہر سال ہزاروں انسانوں کی موت کی وجہ بنتا ہے۔ لیکن ایک سوال اٹھانا چاہوں گا کہ کیا یہ واحد شراب ہی ہے جو ہر سال ہزاروں لاکھوں لوگوں کی زندگی چھین لیتی ہے؟ اور کیا موت کے اعداد و شمار لوگوں کو اس کے استعمال سے باز رکھ سکتے ہیں؟ ٹریفک حادثات لاکھوں لوگوں کی موت کا باعث بنتے ہیں۔ کیا کبھی کسی نے گاڑی چلانا ترک کیا؟ ہر سال لوگ فوڈ پوایزن جیسی معمولی بیماری سے بھی مرتے ہیں۔ لیکن کھانا کسی نے نہیں چھوڑا اور نہ چھوڑنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ اسی طرح ہمارے ارد گرد لوگ بہت ساری وجوہات کی بنا پر مر رہے ہیں یا مر گئے ہیں۔ میری ناقص رائے میں یہ موت اور حیات کی باہمی رسا کشی ہے جس میں مر انسان رہا ہے۔ ہاں انسان کو موت کے مقابلے میں حیات پیدا کرتے رہنا ہے۔

اس تحریر کا مقصد ہر گز شراب کے استعمال کا جواز پیش کرنا نہیں۔ میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ جس طرح دیگر معاملات میں احتیاطی تدابیر اپنانے کی تلقین کی جاتی ہے ویسے ہی شراب کے استعمال میں کیوں نہیں کی جاتی۔ اور بتایا جانا چاہیے کہ اعتدال کی لکیر پہ کیسے چلا جائے اور موت کے امکان کو کم کیسے کیا جائے۔ پاکستان میں صورتحال گھمبیر ہے۔ جہاں شراب کا استعمال تو روز بروز بڑھ رہا ہے لیکن اس کے متوازی آگاہی کا سسٹم موجود نہیں ہے۔ پاکستان جہاں اچھی شراب فقط امیر شہر کو دستیاب ہے غریب شہر کو اگر میسر آ بھی جائے تو مہنگے داموں اور پھر اس کے معیار کی گارنٹی نہیں۔ ایسے میں ان عامیوں کو استعمال کے دوران احتیاطی تدابیر کا علم کیوں کر اور کیسے ہو سکتا ہے۔ اپنے ناقص علم اور محدود معلومات کے اقرار کے ساتھ چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔

شراب کی کتنی مقدار استعمال کرنی چاہئے اس پہ محقیقن کے درمیان کوئی واضح اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ یا کم از کم میں اس سے ناواقف ہوں۔ بہر حال اعتدال کا دامن تھامے رکھنے اور کم سے کم استعمال کی تلقین موجود ہے۔ کیونکہ ایک خاص مقدار سے زیادہ بہرصورت نقصان دہ ہے۔

انگلینڈ کے صحتِ عامہ کے ادارے کی ایک رپورٹ انیس دسمبر 2016 کو بی بی سی اردو میں شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق بالغوں کو ایک ہفتے میں چودہ یونٹ سے زیادہ شراب کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ایک یونٹ عام طور پر دس ملی لیٹر یا بیئر کے نصف گلاس کے برابر ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کا استعمال جگر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا-

شراب کا استعمال موسم کے حساب سے کیا جائے تو بہتر ہے۔ پاکستان ایک گرم ملک ہے جس میں خاص طور پر گرمی کے موسم میں ووڈکا کا استعمال نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ووڈکا چونکہ سردیوں کا ڈرنک ہے اس لیے پاکستان کی گرمی میں اس کا استعمال انسانی جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی برانڈز ہو سکتے ہیں لیکن میرے مشاہدے کے مطابق ووڈکا وہ واحد ڈرنک ہے جو پاکستان میں عام آدمی کو ولائیتی کی مد میں آسانی سے دستیاب ہے۔

شراب کے استعمال کے بعد ہینگ اوور کی شدت کو کم کرنے لیے بھی کسی ایک تجویز پہ اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا۔ نیدر لینڈ کی ایک ریسرچ، جو 29 آگست 2015 کو بی بی سی اردو میں شائع ہوئی، کے مطابق بھی شراب کا کم استعمال ہی ہینگ اوور سے بچنے کا حل ہے۔ تاہم مختلف لوگ مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ میں یہاں پہ ہالی ووڈ اسٹار ڈینیل کریگ کا طریقہ بتانا چاہوں گا۔ ڈینیل کریگ ہینگ اوور کی شدت کو کم کرنے کے لیے دوران اسہال بچوں کو دیئے جانے والے پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ جس سے پانی کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔ ہمارے یہاں ORS واٹر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں پاکستان میں خاص طور پر طالب علموں کے درمیان چرس یا کوکین کے بڑھتے ہوئے استعمال پر میں اپنے ہم جولی نوجوانوں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی بے چینیوں کو کلا کا رنگ دو۔ اور اگر کسی ایسی چیز کے عادی ہو تو اپنے گھر کے کسی ایک فرد کو اس بارے بتانے کی ہمت ضرور رکھو تاکہ کسی ایمرجنسی میں وہ تمہارے کام آ سکے۔ ان تمام والدین سے گزارش ہے جو سمجھتے ہیں کہ ان کی ڈانٹ ڈپٹ اور مار ان کے بچوں کو ایسے کسی کام سے باز رکھے گی تو وہ جان لیں کہ آپ کا ایسا رویہ ایسے کسی بھی رستے کو ہموار کر رہا ہوتا ہے۔ خدارا اپنے بچوں کو اپنے دوست رکھو اور انہیں اعتماد دو کہ وہ بغیر ڈرے اپنے مسائل کا اظہار کر سکیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔