بے نظیر بھٹو کے قاتل کا بادل فلیش کو پتہ تھا


سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے الزام عائد کیا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو آصف زرداری نے قتل کرایا تھا۔ ایک ویڈیو پیغام میں پرویز مشرف نے کہا ہے کہ دیکھنا چاہے کہ بے نظیر کے قتل کا فائدہ کس کو ہوا۔ یہ بلاول، آصفہ، بختاور اور قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ بے نظیر کا اصل قاتل کون ہے۔ بقول پرویز مشرف کہ آصف علی زرداری کی دوستی سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ تھی اور ان کے ذریعے طالبان سے ساز باز کر کے انہوں نے بے نظیر بھٹو کو قتل کر وایا۔ اگر بے نظیر بھٹو قتل کیس میں ان کے امریکی دوست مارک سیگل کے بیان کو دیکھا جائے جس میں انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کو دھمکی آمیز فون اور ان ای میلز کا ذکر کیا تھا جو بے نظیر بھٹو نے مارک سیگل کو بھیجیں تھیں جس میں انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ 2007 کے الیکشن سے پہلے پاکستان آئیں گی تو انہیں قتل کردیا جائے گا اور اس کی ذمہ داری جنرل پرویز مشرف کے علاوہ چودھری پرویز الٰہی، آئی بی کے سابق سربراہ اعجاز شاہ اور جنرل (ر) حمید گل پر ہو گی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد گڑھی خدا بخش میں پیپلز پارٹی کے کارکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو چکے تھے جبکہ پورے پاکستان سے کارکنان کے قافلے اپنی رہنما کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لاڑکانہ پہنچ رہے تھے تو اسی لمحے بھٹو خاندان کا دیوانہ عثمان جسے بھٹو صاحب اس کی روشنی کی مانند پھرتی کو دیکھ کر اسے پیار سے بادل فلیش کہا کرتے تھے وہ مزار کے باہر مٹی پر لیٹ کر آہیں بھر بھر کر رو رہا تھا کے مجھے پتہ ہے کہ بی بی کا قاتل کوں ہے۔ اس وقت بادل فلیش کو کوئی نہیں سن رہا تھا۔ ہر طرف قیامت صغری کا منظر تھا۔ پورا سندھ بدلے کی آگ میں جل رہا تھا کہ قاتل کون ؟ قاتل کون؟ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پی پی پی کے کارکن خالد شہنشاہ کے اشاروں کی وڈیو اور رحمان ملک اور بابر اعوان کی گاڑی کے منظر نامے سے غائب ہو جانے پر سوالات ابھی تک اٹھتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ یارڈ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اٹھنے والے سوالات پر بھی تحقیق ادھوری ہے۔

بقول بادل فلیش، جب پنکی پاکستان واپس آئیں تو وہ جانتی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ سانحہ کار ساز سے لیکر لیاقت باغ تک بی بی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جمہوریت دشمن اور عسکریت پسندوں کو للکار رہی تھیں کہ بھٹو کی بیٹی کسی سے ڈرنے والی نہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے تقریباً 10 سال کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا تھا جس میں پانچوں مرکزی ملزمان کو بری کردیا گیا جبکہ دو پولیس افسران سعود عزیز اور خرم شہزاد کو مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہونے پر قید کی سزا سنائی۔ سعود عزیز نے بے نظیر کی باکس سیکیورٹی پر متعین ایلیٹ فورس یونٹ ہٹوائی، پولیس نے بے نظیر بھٹو کی گاڑی کو اکیلا چھوڑ دیا اور ایک گھنٹہ 40 منٹ بعد ہی کرائم سین دھونے سے شواہد ضائع ہو گئے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے بہتر اقدامات کیے جاتے تو بے نظیر بھٹو کے قتل کو روکا جاسکتا تھا۔

سابق صدر پرویز مشرف کے لیے عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پرویز مشرف کو پیش ہو کر صفائی دینے کے لیے بار بار سمن جاری کیے گئے اور پرویز مشرف کو اسکائپ کے ذریعے بھی بیان دینے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے بیان ریکارڈ نہیں کروایا جس پر عدالت نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے دیا۔ اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں آصف علی زرداری نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی کہ نامزد ملزمان کو سزائے موت دی جائے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے عدالت میں دائر کردہ تین اپیلوں میں ایک اپیل سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف ہے۔ یاد رہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے فوراً برگیڈیئر (ر) جاوید چیمہ نے جنرل مشرف کی حکم عدولی کرتے ہوئے ایک پریس کانفرس میں بیت اللہ محسود کو بے نظیر کا قاتل ٹھہرایا تھا۔ اس وقت سے لے کر عدالت اور اس قتل کی تحقیق میں جنرل صاحب نے کوئی تعاون نہیں کیا نہ ہی قاتل کے راز سے پردہ اٹھایا پھر جیسے ہی ان کے خلاف سزائے موت دینے کی اپیل دائر ہوتی ہے تو مشرف صاحب کو آصفہ، بختاور، بلاول اور پاکستانی قوم یاد آتی ہے کہ بے نظیر اور مرتضیٰ بھٹو کے قاتل آصف زرداری ہیں۔

شاید پہلے جنرل صاحب کے کمر درد اور دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث یاد داشت کمزور ہو گئی ہو مگر پاکستانی قوم کو خوب یاد ہے آپ کا مکا لہرانا اور ملک کی خاطر جنیے مرنے کی قسمیں کھانا اور یہ بھی یاد ہے کہ کس طرح آپ بیماری کا بہانہ بنا کر کمانڈو ایکشن سے عدالت سے بھاگ گئے تھے اور دوبئی پہنچ کر ٹھیک ہو گئے تھے۔ باقی رہی مرتضیٰ بھٹو کی بات تو اس کا سب کو پتہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں کس طرح دن دہاڑے کراچی کی سڑک پر ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ قاتلوں کا پتہ ہوتے ہوئے بھی ایک وزیر اعظم بہن اپنے بھائی کو انصاف نہ دلا سکیں۔

آج جب بے نظیر بھٹو کے قاتل کی بات جنرل (ر) پرویز مشرف نے کی ہے تو سب نے آصف علی زرداری اور ان کی حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتل کو بے نقاب کیوں نہیں کیا اور کیوں جنرل (ر) پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر ملک سے باہر جانے دیا۔ بقول بادل فلیش کہ اگر پنکی بھٹو صاحب، شاھنواز اور مرتضیٰ کا بدلہ لیتی اور آصف زرداری بے نظیر کے خون کاحساب لیتے تو نہ ملک میں جمہوریت رہتی نہ ہی ان کے بچے۔ آج پھر میڈیا سے لے کر عام عوام تک، انگلیاں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت پر اٹھ رہی ہیں۔ شاید عام لوگوں کو یہ معلوم نہیں جو بادل فلیش، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، بختاور اور آصفہ کو معلوم ہے کہ جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے۔ جمہوریت ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کا بھی بدلہ ہے اور جمہوریت کے دشمن ہی ہے نظیر کے قاتل ہیں۔

بادل فلیش

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔