انتخابی اصلاحات کا بل منظور، نواز شریف کے لیے پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار


 

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پولیٹیکل پارٹی آرڈر سنہ 2002 میں یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کوئی بھی ایسا شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا جب تک وہ رکن قومی اسمبلی بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو

پاکستان کی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ سے انتخابی اصلاحات کا بل بھی منظور کروا لیا ہے۔ اس بل میں ایک ایسی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے لیے پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کو منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات کے بل کی شق نمبر 203 میں یہ کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ نہ صرف سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے بلکہ اس کا صدر بھی بن سکتا ہے۔

اس مجوزہ شق میں یہ کہیں بھی نہیں کہا گیا کہ عدالتوں کی طرف سے نااہل قرار دیا جانے والا شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔

اس سے پہلے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پولیٹیکل پارٹی آرڈر سنہ 2002 میں یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کوئی بھی ایسا شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا جب تک وہ رکن قومی اسمبلی بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے اس شق میں تبدیلی کے لیے ایوان میں ایک ترمیم پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پولیٹیکل پارٹی آرڈر سنہ 2002 کو نہ صرف برقرار رکھا جائے بلکہ اس میں یہ بھی لکھا جائے کہ کوئی بھی شخص جسے عدالت نے نااہل قرار دیا ہو اس کو بھی پارٹی کا صدر نہیں بننا چاہیے۔ اس ترمیم پر رائے شماری کروائی گئی تو حزب مخالف کی جماعتوں کو جنہیں سینیٹ میں اکثریت حاصل ہے ایک ووٹ سے شکست ہوئی۔

پاناما لیکس میں نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اپنی پارٹی کی صدارت بھی چھوڑنا پڑی تھی اور سردار یعقوب ناصر کو حکمراں جماعت کا قائم مقام صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اعتزاز احسن کی طرف سے پیش کی جانے والی ترمیم کے حق میں 37 جبکہ مخالفت میں 38 ووٹ آئے یوں حزب مخالف کو ایک ووٹ سے شکست کا سامان کرنا پڑا۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد پولیٹیکل پارٹی آرڈر کی یہ شق اب غیر موثر ہوگئی ہے اور اب کوئی بھی شخص جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ بھی کسی بھی سیاسی جماعت کا صدر بن سکتا ہے۔ قومی اسمبلی میں جب انتخابی اصلاحات کا بل منظور کیا گیا تھا اس وقت میاں نواز شریف وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے اور اس وقت حزب مخالف کی کسی بھی جماعت نے اس پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھایا تھا تاہم پاناما لیکس میں سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد حزب مخالف کی جماعتیں انتخابی اصلاحات کی شق 203 میں ترمیم کرنا چاہتی تھیں۔

انتخابی اصلاحات کے بل میں سینیٹ نے کچھ ترامیم کی ہیں اس لیے یہ بل دوبارہ قومی اسمبلی میں بھجوایا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد اس بل کو صدر مملکت کو بھیجا جائے گا جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ پاناما لیکس میں نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اپنی پارٹی کی صدارت بھی چھوڑنا پڑی تھی اور سردار یعقوب ناصر کو حکمراں جماعت کا قائم مقام صدر منتخب کیا گیا تھا۔

 

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 601 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp