ماہرہ اور رنبیر: کوئی کپڑوں پر معترض تو کوئی سگریٹ پر ناراض


سوشل میڈیا پر دو پاکستانی خواتین کا اس وقت خوب چرچا ہے اور دونوں کی وجہ ان کی بالی وڈ اداکاروں کے ساتھ تصاویر ہیں۔ پہلی تصویر ملالہ یوسفزئی کی اداکارہ پرینکا چوپڑا کے ساتھ ہے جبکہ دوسری میں ماہرہ خان اور رنبیر کپور ایک ساتھ سگریٹ نوشی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی نے پرینکا چوپڑا کے ساتھ تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میں پرینکا چوپڑا سے ملی ہوں‘۔

جواب میں پرینکا نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’اوہ ملالہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں اور مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میں تم سے ملی ہوں تم ایسی نوجوان لڑکی ہو جس کا دل بہت بڑا ہے اور تمہاری کامیابی پر مجھے فخر ہے۔‘

دونوں میں یہ ملاقات اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر ہوئی۔ ملالہ نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپنے والد کے ہمراہ ایک تصویر بھی ٹویٹ کی۔ پرینکا کی ملالہ کی تصویر کو ساڑھے چار ہزار کے قریب لوگوں نے ری ٹویٹ کیا اور 33 ہزار لوگوں نے پسند کیا۔

لیکن ماہرہ خان اور رنبیر کپور کی تصویر پر جہاں کئی لوگوں کو ماہرہ کے مختصر لباس پر اعتراض ہوا، وہیں ان کا کھلے عام سگریٹ نوشی کرنا کئی لوگوں کو ناگوار گزرا ہے۔ ٹوئٹر پر گردش کرنے والی تصاویر میں پاپارازی نے رنبیر اور ماہرہ کو ایک ساتھ گھومتے اور سگریٹ نوشی کرتے ہوئے عکس بند کیا ہے۔ ان تصاویر کے آنے کے بعد ماہرہ کے حق میں اور ان کی مخالفت میں کمنٹس کا ڈھیر لگ گیا۔

کوئی ماہرہ کے مختصر لباس پر انہیں اسلام سے ہی خارج کرنے پر تُلا ہے تو کوئی انہیں شرم دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹوئٹر کے ایک صارف احتشام الحق کا کہنا تھا کہ بیشتر اداکاروں اور اداکاراؤں کا اندازِ زندگی ایسا ہی ہے پھر ماہرہ خان پر اتنی تنقید کیوں؟ ’ان کا مزید کہنا تھا ’جو لوگ ماہرہ پر اس قدر تنقید کر رہے ہیں وہ شاید انہیں اصل زندگی میں بھی ڈرامہ ’ہمسفر‘ والا کردار سمجھ رہے تھے۔‘ کئی لوگوں کا تو یہ کہنا تھا کہ ایک عورت کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھ کر شور مچانے والوں کو مرد کی سگریٹ نوشی پر چپ کیوں لگ جاتی ہے۔

بات صرف تنقید اور حمایت پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ انڈین اخباروں میں تو ماہرہ اور رنبیر کے رومانس کے قصے بھی آئے۔ ایک صارف نے تو رنبیر کپور کے ویڈیو انٹرویو کا کلپ تک شیئر کر دیا جس میں انھوں نے کبھی پاکستانی اداکاراؤں میں ماہرہ کے خوبصورت ہونے کی تعریف کی تھی۔

صحافی مہوش اعجاز نے ماہرہ خان کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر ایک عورت ڈراموں اور اشتہارات میں آتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ اسے کچھ بھی کہیں اور اس کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں۔ ‘

ایک دوسری ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ’آپ کو کسی نے یہ حق نہیں دیا کہ آپ اس (ماہرہ) کے مذہب، پسند، ناپسند اور ذاتی زندگی کے بارے میں فیصلہ دے سکیں۔ آپ کو ان کے عوامی کام پر رائے دینی چاہیے نہ کہ ذاتی زندگی پر۔‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 601 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp