کیا مشرف نے واجپائی کو سیلوٹ سے انکار کیا تھا؟


 1999 میں ہندوستانی وزیر اعظم کی لاہور آمد پر اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے واہگہ بارڈر جا کربھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا استقبال کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس خبر میں صداقت نہیں تھی اور یہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نکالی گئی تا کہ یہ تاثر پیدا ہوکہ فوج، وزیر اعظم کے ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کے خیال سے متفق نہیں۔ اس سوچ کا اظہار واجپائی کے لاہور آنے پر ہونے والے احتجاج سے بھی ہوا،جس میں سفارت کاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤکیا گیا۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی تو سامنے تھی لیکن اصل میں اس احتجاج کے پس پردہ خفیہ ایجنسیاں تھیں۔ اس وقت احتجاج کی نوعیت کیا تھی، اس کا قصہ عابدہ حسین نے اپنی خود نوشت میں بیان کیا ہے۔ وہ اپنے شوہر فخر امام اور نامور سفارت کار آغا شاہی کے ہمراہ گلبرگ میں اپنے گھر سے شاہی قلعہ کے لیے روانہ ہوئیں تو جانا کہ معاملہ گڑبڑ ہے، راستے میں ان کی گاڑی پر پتھراؤ ہوا اور اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ڈرائیور جیسے تیسے کرکے گاڑی کو منزل تک لے گیا۔ شاہی قلعہ پہنچے تو سب سے پہلے میجر جنرل خالد مقبول سے سامنا ہوا تو عابدہ حسین کو لگا جیسے وہ ان کی حالت زار سے محظوظ ہو رہے ہوں۔ خاتون سیاست دان نے لکھا ہے کہ ان جیسا سلوک سفارت کاروں کی گاڑیوں کے ساتھ بھی ہوا کیونکہ انھوں نے تقریب میں سعودی سفیر اور آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کو شکایت کرتے سنا۔

عابدہ حسین نے کابینہ کے اس اجلاس کا ذکر بھی کیا ہے جس میں واجپائی کے مجوزہ دورے پر بات چیت ہوئی، اس میں ایک وزیر نے فرمایا کہ ہمیں احتجاجاً اپنے مہمان کی گاڑی پر پتھر پھینکنے چاہییں تا کہ ہندوستان کو کشمیری عوام سے ہماری یکجہتی کا اندازہ ہو۔ یہ لغو تجویز منظور تو نہ ہوئی، پر عابد حسین کا خیال ہے کہ کابینہ کے وہ رکن عسکری حلقوں میں کافی روابط رکھنے کی وجہ سے مشہور تھے، جس سے لگتا تھا کہ کہ فوج کچھ مزاحمت ضرور کرے گی۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی پرویز مشرف اور ان کے حرف انکار کی۔ ہمیں اس دور کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز اور سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان سے انٹرویو کرنے کا موقع ملا ہے۔ ان صاحبان سے پرویز مشرف کے واجپائی کو سیلوٹ کرنے سے انکار کی بابت پوچھا تو جانا کہ وہ بات سرے سے ہی غلط ہے۔ سرتاج عزیز کے بقول: ’’ واجپائی کی لاہور آمد پر آرمی چیف اور دیگر سینئر فوجی افسروں کے واہگہ جا کر بھارتی وزیر اعظم کے استقبال سے انکار کی خبروں میں صداقت نہیں تھی۔ جس روز واجپائی نے لاہور آنا تھا، اس دن چین کے وزیر دفاع بھی اسلام آباد پہنچ رہے تھے، اس لیے وزیر اعظم نواز شریف نے ایک میٹنگ میں، جس میں جنرل پرویز مشرف بھی موجود تھے، یہ طے کیا کہ میں واہگہ نہیں جاؤں گا بلکہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر تینوں سروسز چیفس کے ساتھ چینی وزیر دفاع کا استقبال کروں گا اور بعد ازاں ہم لوگ گورنر ہاؤس لاہور میں واجپائی کے اعزاز میں ہونے والی ضیافت میں شریک ہوں گے۔ ‘‘

سرتاج عزیز کا بیان ختم ہوا اب ذرا اس وقت کے سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کی رائے جان لیں:

’’یہ درست نہیں کہ پرویز مشرف نے واجپائی کو واہگہ بارڈر پر جاکر سیلوٹ مارنے سے انکار کردیا تھا، ان کا ادھر جانا طے ہی نہیں تھا۔ گورنر ہاؤس میں تینوں سروسز چیف موجود تھے اور انھوں نے سیلوٹ بھی کیا۔ یہ خبر پڑھ کرکہ پرویز مشرف نے واہگہ بارڈر پر جاکر واجپائی کو سیلوٹ کرنے سے انکار کردیاہے ، ہم ہنس پڑے تھے۔ ‘‘

آئیے اب فروری 1999 کے صرف تین برس بعد جنوری 2002کا ایک منظر دیکھیں۔

” اپنی بات ختم کرتے ہوئے میں بھارتی وزیر اعظم واجپائی کی طرف حقیقی اور مخلصانہ دوستی کا ہاتھہ بڑھاتا ہوں۔ آئیے جنوبی ایشیا میں امن و ہم آہنگی اور ترقی کی خاطر مل جل کر اپنے سفر کا اغاز کریں۔” 5 جنوری کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں سارک سربراہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں ان الفاظ کے ساتھہ اپنی تقریر کو ختم کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف بھارت کے وزیر اعظم واجپائی کے نشست پر گئے اور گرمجوشی کے ساتھہ ان سے مصافحہ کیا۔ پورے ایوان نے تالیاں بجا کر اس اقدام کی پرزور تائید و تحسین کی۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں صدر پرویز مشرف کے اس جذبۂ خیرسگالی کو نمایاں جگہ دی گئی اور مصافحہ کرنے کے اس منظر کو عالمی میڈیا پر بار بار دکھایا جاتا رہا۔ بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے اس رویے کے جواب میں کسی خاص جذباتی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا البتہ اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے یہ کہہ کر پاکستان کے صدر کو مشورہ دیا۔” مجھے خوشی ہے کہ صدر مشرف نے میری طرف دوستی کا ہاتھہ بڑھایا ہے۔ آپ حضرات کے سامنے میں ان سے مصافحہ کیا ہے۔ اب صدر مشرف کو چاہئے کہ وہ پاکستان یا اپنے زیر قبضہ علاقے میں ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دیں جن سے دہشت گردوں کو بھارت میں تشدد میں مدد ملتی ہے۔”

پرویز مشرف کے لیے جھوٹ بولنا ایک کار مسلسل ہے، اقتدار میں آنے سے پہلے، اس میں رہ کراور اس سے محروم ہونے کے بعد ،یہی وہ کام ہے جو وہ تسلسل سے کررہے ہیں۔ کہاں پہ جاکے رکے گا سفینہ کذب؟جس کی تازہ قسط کل جاری ہوئی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔