قبل از وقت انتخابات۔ کیوں اور کیسے؟


یہ طالب علم ان لوگوں میں شامل ہے جو 2001 سے دہائیاں دے رہا ہے کہ دوسروں کو نصیحتیں کرنے کی بجائے اپنے گھر کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ دور طالب علمی میں کم عقلی اور ناسمجھی کی وجہ سے چونکہ میں بھی چند سال تک گھر کو گندہ کرنے والوں کی صف میں شامل رہا تھا اور چونکہ مجھے گھر کی گندگی کاادراک نسبتاً زیادہ ہوگیا تھا، اس لئے زندگی خطرے میں ڈال کر زیادہ شدت کے ساتھ گھر کی صفائی پر زور دے رہا تھا۔ میں نائن الیون سے قبل بھی افغانستان میں طالبان کو سپورٹ کرنے کی پالیسی کا اس قدر ناقد تھا کہ میدان صحافت میں اترتے ہی 1999 میں طالبان حکومت نے گرفتار کرلیا اور اللہ کی نصرت شامل حال نہ ہوتی تو ان کی قید سے زندہ واپس نکلنا ناممکن تھا۔ مجھے طالبان اوران کے پاکستانی ہمدردوں کے اخلاص پر کبھی کوئی شک نہیں رہا بلکہ ملاعمر کے اخلاص پر تو رشک آتا تھا لیکن ان کی پالیسیوں کو خود ان کے لئے اور افغانستان و پاکستان کے لئے تباہ کن سمجھتا تھا۔ میں ان گناہگاروں میں شامل تھا جنہوں نے نائن الیون کے اگلے دن یہ رائے ظاہر کی کہ یہ کام افغانستان میں بیٹھی ہوئی القاعدہ نے کیا ہے۔

اسی طرح میں نائن الیون کے بعد ڈبل گیم کی پالیسی کا بھی شدید ناقد رہا اور اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی۔ میں افغان اور پاکستانی طالبان کو سکے کے دو رخ سمجھتا رہا اور اس رائے زنی کی بھی مسلسل قیمت ادا کرتا رہا۔ میں پاکستان کی کشمیر پالیسی کا بھی ناقد رہا اور اس رائے پر یقین رکھتا رہا کہ عسکریت پسندی کے عنصر کو شامل کر کے ہم نے کشمیر کاز اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونے کی جتنی نشاندہی گزشتہ سالوں میں یہ عاجز کرتا رہا شاید کسی اور کے حصے میں یہ سعادت آئی ہو اور دعویٰ کرسکتا ہوں کہ اس موضوع پر سب سے زیادہ ٹی وی پروگرام بھی اس عاجز نے پیش اور سب سے زیادہ کالم بھی تحریر کئے۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کا عمل نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے جبکہ میرے قارئین اور ناظرین جانتے ہیں کہ جہاں کبھی خواجہ آصف اور احسن اقبال نے اس کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائی بلکہ رخنے ڈالنے والوں کی صف میں شامل رہے، وہاں دوسری طرف میں اس مقصد کے حصول کے لئے اپنے صحافتی دائروں سے بھی نکل گیا۔

کہنے کا مقصد اپنی مدح سرائی ہر گز نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اپنے گھر کو صاف کرنے کی ضرورت اگر خواجہ آصف صاحب اب محسوس کرنے لگے ہیں تو ہم جیسے لوگ اسے گزشتہ بیس سال سے محسوس کررہے ہیں۔ وہ اگر آج اس کا دنیا کے سامنے اعلان کرنے لگے ہیں تو ہم جیسے لوگ گزشتہ بیس سال سے آواز اٹھا رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ بات کون اور کس وقت کررہا ہے۔ میں یا کوئی اور عام پاکستانی جب لکھتا یا بولتا ہے تو اس کے مخاطب اپنے حکمران اور پالیسی ساز ہوتے ہیں۔ ہماری رائے زنی کی ہندوستان اور امریکہ میں سرخیاں نہیں بنتیں۔ ہماری رائے یا تجزیے کو ریاست پاکستان کا اعتراف جرم نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن وزیرخارجہ کسی ملک کے مارکیٹنگ منیجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ فیکٹری کے اندر کے مسائل اور خامیاں باہر کی مارکیٹ میں بیان نہیں کرتا۔ اس کا کام اپنی فیکٹری اور تیارشدہ مال کو مارکیٹ میں دلکش بنانا اور خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اپنے گریبان میں جھانکنے او رگھر کی صفائی پر توجہ دینے کی رائے سے اصولی اتفاق کے باوجود میں وزیرخارجہ کے بیان اور اس سے وزیرداخلہ اور وزیراعظم کے اتفاق کو مناسب نہیں سمجھتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خطاب ، جو ظاہر ہے انہوں نے خواجہ آصف کی مشاورت سے تیار کیا ہوگا، کو کیوں ملک بھر میں سراہا گیا۔ اس لئے کہ اس خطاب میں گھر کے اندر کی خرابیوں اور جرائم کا ذکر نہیں تھا۔ بلکہ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان اپنے حصے سے بڑھ کر قربانی دے چکا ہے۔ یا یہ کہ پاکستان ڈو مور کر چکا ہے اور اب امریکہ ، ہندوستان یا افغانستان کو ڈو مور کرنا چاہئے۔ گویا یہ خطاب اور سرگرمیاں ان کے گھر صاف کرنے کے بیان کی عملی تردید اور چوہدری نثار علی خان کے موقف کی عملی تائید ہے۔

وزیراعظم یا وزیروں کے لئے گھر کی گندگی کے اعتراف اور اس کی صفائی پر زور کا فورم میڈیا یاعالمی ادارے نہیں بلکہ قومی سلامتی کمیٹی جیسے فورمز ہیں۔ ا ب جو بات ہم جیسے طالب علموں کو سمجھ آتی ہے وہ کیا خواجہ آصف اور احسن اقبال جیسے زیرک اور تجربہ کار سیاستدانوں کو سمجھ نہیں آتی۔ یقینا سمجھ آتی اور ہم سے زیادہ سمجھ آتی ہے لیکن ان لوگوں کو بھی سمجھ آ گئی ہے جن کو وہ نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ اس اعتراف کو سول ملٹری تنائو کے تناظر میں لیا گیا ہے اور قومی سلامتی کے اداروں کا یہ خیال ہے کہ اس کی آڑ میں دنیا میں ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور شاید اسی تناظر میں اس بیان کا چوہدری نثار علی خان نے زیادہ برا منایا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ تنائو بڑھے گا جوواقعتاً بڑھ گیا ہے۔ اب ہم اداروں کے اس ٹکرائو کی فضا میں ایسے عالم میں داخل ہو رہے ہیں کہ امریکہ اور ہندوستان پوری شدت کے ساتھ پاکستانی ریاست کے خلاف سفارتی اور اسٹرٹیجک محاذوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے تاریخ میں پہلی بار اسٹرٹیجک اور دفاعی تصورات کو تبدیل کرکے مغرب سے رخ مشرق اور شمال کی طرف موڑنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے اور یوں یہ پاکستان کی تاریخ کا نازک ترین موڑ ہے۔ پاکستانی کی عسکری قیادت خارجہ اور داخلہ پالیسی کے روایتی تصورات کوبھی بدلنے کا آغاز کرچکی ہے اور شاید اسی تسلسل میں پاکستان کے اندر کی جہادی تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے کا حساس ترین عمل شروع ہوچکا ہے۔

اس تناظر میں سول ملٹری ہم آہنگی کے بغیر درپیش چیلنجز سے نمٹنا ناممکن نظر آتا ہے۔ دوسری طرف بدقسمتی سے میاں نوازشریف اور قومی ادارے وار زون میں داخل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی متحرک ترین اور ذہین ترین وزیراعظم ہیں لیکن وہ بیک وقت ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ بے اختیار وزیراعظم بھی ہیں۔ آج بھی پارٹی اور حکومت کی مہار میاں نوازشریف کے ہاتھ میں ہے جن کا اداروں کے ساتھ تنائو ہر کسی کو نظر آ رہا ہے۔ وہ اگر اپنے نامزد وزیراعظم کو ایک طرف کھینچ رہے ہیں تو ادارے ان کو دوسری طرف کھینچنے کی کوشش کریں گے۔ اس کھینچا تانی میں موجودہ حکومت کبھی بھی ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتی جو ملک کو درپیش ہیں۔ دوسری طرف پارٹی کی دو طاقتور آوازیں یعنی میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان اس راستے کے حامی نہیں جن پر نوازشریف صاحب حکومت اور پارٹی کو لے جانا چاہتے ہیں۔ کسی حکومت کی اس سے زیادہ بے بسی اورابتری کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے وفاقی وزیرداخلہ اور صوبائی وزیرقانون الزام لگاتے پھریں کہ لاہور کے ضمنی الیکشن کے موقع پر ان کے درجنوں پارٹی رہنمائوں کو اٹھایا گیا۔ یا پھر جس حکومت کا وزیرخارجہ برکس اعلامیے کو خوش آئند قرار دے رہا ہو اور وزیردفاع اسمبلی میں اس کی مذمت کررہے ہوں، وہ حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے کیا نمٹ سکتی ہے ؟

وہ حکومت خارجہ اور داخلہ محاذوں پر کیا توجہ دے سکے گی جس کے اصل مختار اور وزیر مشیر روزانہ عدالتوں میں پیش ہو رہے ہوں۔ اس لئے مجھے تو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکلنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ میاں نوازشریف صاحب ، وزیراعظم کے ذریعے قومی اسمبلی تحلیل کروا کر فوری طور پر نئے انتخابات کرائیں۔ میں جانتا ہوں کہ سردست یہ اقدام میاں صاحب اور ان کے خاص مشیروں کے لئے زہر کا پیالا نظر آ رہا ہے لیکن دوراندیشی سے کام لیا جائے تو نہ صرف ملکی مسائل کا حل اس میں پنہاں ہے بلکہ شریف فیملی اور مسلم لیگ(ن) کے بچائو کا بھی یہ واحد راستہ ہے۔ زندگی رہی تو اگلے کسی کالم میں وضاحت کروں گا کہ ملک کے ساتھ ساتھ خود مسلم لیگ (ن) کے لئے قبل از وقت اور فوری انتخابات میں کیا فائدہ ہے اور کس طرح اسٹیٹس کو کا ملک کے ساتھ ساتھ خود شریف خاندان اور مسلم لیگ(ن) کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔

بشکریہ روز نامہ جنگ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔