عقیدے پر بحث کا کیا مقصد ہے؟


محترم و مکرم قبلہ وجاہت مسعود صاحب کی تحریر ‘‘عقائد پر بحث ایک مناسب موضوع نہیں’’ معاشرتی صورتِ حال پر ایک اہم تبصرہ ہے۔ چونکہ راقم آج کل سوشل میڈیا کے مباحث سے کوسوں دور ہے لہٰذاگمان یہی ہے کہ اس مختصر تحریر کا محرک کوئی خاص بحث رہی ہو گی ۔ تاہم اس مختصر تحریر میں لفظ ‘‘عقیدے ’’ کی جس تعریف کو پیش قیاس کیا گیا ہے اور جس طرح کم از کم ایک جگہ واضح طور پر اس لفظ کی ‘‘مذہبی عقیدے’’ تک تحدید کی گئی ہے، وہ فی الحال تو ایک فوری طالبعلمانہ تبصرے اور بعد میں بشرطِ فرصت کچھ دوسری متعلقہ جہتوں سے تفصیلی گرہ کشائی کی متقاضی ہے۔

 اول تو چونکہ ہمارے معاشرے میں تاحال بحث کے ایسے مناسب فورمز وجود میں نہیں آ سکے جہاں ایک غیرجذباتی اور خالص علمی وتنقیدی بحث پنپ سکے لہٰذا یہ وجاہت صاحب کا یہ دعوی ٰ یقیناً ایک تجرباتی حقیقت پر مبنی ہے کہ مذہبی عقائد پر بحث کا نتیجہ تلخی ہے۔ لیکن اس افسوس ناک صورتِ حال سےعقائد پر بحث کا عمومی نتیجہ تلخی تصور کر لینا کیا ہار مان لینے یعنی ایک ایسے معاشرتی ڈھانچے پر اکتفا کر لینے کے مترادف نہیں جہاں فرد تنقیدی غور و فکر اور خود شناسی کے قابل نہیں؟ باالفاظِ دیگر کیا ہم ایک ایسے معاشرتی منظرنامے پر مطمئن ہو چکے ہیں جس کی ہر اکائی اس حد تک جذباتی ہے کہ اپنے اعتقادی خول کے آس پاس ذرا سی تانک جھانک برداشت کرنے سے تلخ ردِ عمل پر آمادہ ہوتی ہے؟

دوم ، یہ مان لینے میں کیا امر مانع ہے کہ عقائد پر بحث کا منطقی مقصد کوئی حتمی نتیجہ نہیں بلکہ باہمی تفہیم اور فکری سطح پر ایک ناگزیر معاشرتی عمل کو بڑھاوا دینا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ فوری نتائج کی جانب تیزی سے بڑھنے کے مذہبی و غیر مذہبی یا پھر سیاسی و غیر سیاسی شائقین طبقات دراصل ایک بے معنی اور لاحاصل قسم کی سماجی جدوجہد میں مشغول ہیں جس کی کوئی منزل نہیں؟

 سوم، کسی بھی سماج میں ‘‘عقیدے’’ کی اصطلاح کو ‘‘مذہبی عقیدے’’ تک محدود کر دینا خود سماجی خدوخال کو اس طرح مبہم کر دینے کے مترادف ہے جہاں‘‘مذہبی عقیدہ’’ انسانوں کے محبوب ترین عقائد کی وہ خاص قسم تصور کیا جائے گا جو تعقل، منطقی اندازِ فکر حتیٰ کے اپنی آخری شکلوں میں ‘‘سچائی’’، ‘‘حقیقت’’ اور ‘‘واقعیت’’ وغیرہ کے متضاد مانا جائے گا۔ نتیجتاً غیر مذہبی طبقات دراصل باہمی رواداری یا احترام کے نام پر ایک غیر تعقلی یا غیرمنطقی مذہبی عقیدے کو ایک مسلسل محدود ہوتے دائرے میں تسلیم تو کر لیں گے لیکن یوں ایک ‘‘حقیر’’ اندازِ فکر کے طور پر مذہبی عقیدے کو اس لئے بحث سے مبرا قراد دینا کہ اس کا ‘‘واقعاتی اثبات’’ ممکن نہیں سماجی صحت کے لئے کہاں تک سود مند ہو سکتا ہے؟ اس آخری سوال کے جواب کے لئے مذہبی سماجیات کے تناظر میں کئی مغربی معاشروں کے سماجی خدوخال کا جائزہ لینا مفید ہو گا۔

ہماری رائےمیں بحث کی مندرجہ بالا تینوں جہتوں کی مزید گرہ کشائی کی اولین کلید شاید ‘‘عقیدے’’ کی اصطلاح ہی میں پوشیدہ ہے۔ نہ صرف اصطلاحی معنوں بلکہ عرفِ عام میں بھی ‘‘عقیدے’’ کی اصطلاح لازماً ‘‘حقیقت’’ یا ‘‘سچائی’’ کے تصورات سے یوں جڑی ہے کہ آخرالذکر کا کوئی نہ کوئی تصور اول الذکر کے لئے ملزوم ہے۔ انسانوں کے شعوری و غیر شعوری اعتقادی رجحانات ان کے نفسیاتی رجحانات سے باہم گنجلک ہیں اور اپنی اس جہت میں کئی صدیوں پر محیط مسلسل ارتقاء پذیر فلسفۂ ذہن کا موضوع ہیں۔جدید فلسفۂ ذہن میں تاحال اس بنیادی سوال کے جواب کی تلاش جاری ہے کہ آخر طبیعات و کیمیا کے اصولوں کے ذریعے مسلسل اپنے راز کھولتا یہ انسان نامی نامیاتی عضویہ کس طرح ‘‘شعوری کیفیت’’ رکھتا ہے؟ دوسری جہت نظریۂ علم کی ہے جہاں اہم سوالات یہ ہیں کہ ہمارے اعتقادات کس طرح علم کی تشکیل کرتے ہیں اور اس عمل کی تہوں میں کس قسم کی منطق کارفرما ہے؟ یہاں وہ سوالات بھی اہم ہیں جو فلسفۂ لسانیات اور کسی بھی سماج میں رائج لسانی محاورات سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً ہماری زبانِ اُردو میں لفظ ‘‘عقیدے’’ اور ‘‘اعتقاد’’ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ تیسری اور آخری تحقیقی جہت علمِ نفسیات سے تعلق رکھتی ہے جہاں عقیدے اور عمل کے باہمی تعلق سے متعلق سوالات پر بحث جاری ہے۔

اس مختصر پس منظر اور مجموعی طور پر جدید فلسفیانہ منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے عقیدے کی اصطلاح پر عمومیت سے بحث شاید مذہبی عقیدے پر مخصوص بحث سے قبل ایک لازمی پڑاؤ ہے۔ مذہبی عقیدے کی بحث کا درست تناظر مذہبی سماجیات سے متعلق ہے جب کہ عقیدہ فلسفۂ ذہن ، نفسیات اور اب عصرِ حاضر میں سائنس کا موضوع ہے۔ دونوں بحثوں کی افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے اور بالآخر معاشرتی و سیاسی خدوخال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بحثوں کو علمی سطح پر ایک غیر جذباتی انداز میں اس طرح اٹھایا جائے کہ منطق، معقولیت اور تعقل جیسے الفاظ پر ہر قسم کی طبقاتی اجارہ داری کا باآوازِ بلند انکار کیا جائے اور حریتِ فکر کے اس مقصد کی خاطر سماجی تحریکیں بھی برپا کی جائیں۔ ہماری رائے میں تو خود ‘‘مذہب’’ کی اصطلاح بھی ابہام کی کم از کم ایک صدی پر محیط روایت رکھتی ہے لیکن رائج معنوں کو تسلیم کرتے ہوئے بھی مذہبی عقائد کم ازکم اپنی ماہیت اور تشکیل میں ا ن نظریات اعتقادات سے کچھ خاص مختلف نہیں جو معاشیات، تاریخ یا سماجیات کے علمی دائروں میں پائے جاتے ہیں۔ ہاں مآخذ کی حد تک فرق ضرور ہے گو یہاں بھی اگر ایک طرف خارجی الہام کا دعویٰ ہے تو دوسری طرف داخلی وجدان و یقین کی حقانیت پر اصرار ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا کسی سماج میں ان ان دونوں قسم کے دعوؤں سے پیچھے ہٹ جانا یا عاجزی سے ان کا حق تسلیم کرتے ہوئے باہمی تفہیم کا عمل آگے بڑھانا زیادہ معقول اور قابلِ عمل حکمت عملی ہے ؟ یہ اس لئے بھی اہم ہے کہ انسانی جسم اور ذہن اپنے خارج میں موجود کسی ‘‘نادیدہ’’ آفاقی ذہن کا انکار کرنے پر تو قادر ہے لیکن اپنے ذہنی رجحانات کی حقانیت پر آخری درجے میں تشکیک کے قابل نہیں۔ عصرِ حاضر میں یہ آخری درجۂ تشکیک اب دیوانگی کی سرحد پر واقع ہے اور میشل فوکو جیسے مفکرین یہ واضح کر چکے ہیں کہ جدید تہذیب کس طرح اور کیونکر پاگل خانوں کی ایجاد میں کامیاب رہی ہے۔

لہٰذا واقعاتی حقائق کی حد تک وجاہت صاحب کے مشاہدے سے اختلاف ناممکن ہے لیکن یہاں ایک ناگزیر مشکل کسی غیرجانب دار مقام کی تلاش ہے؟ اگر کوئی ایسا مقام ممکن بھی ہے تو شاید اس کا دائرہ اتنا محدود ہے کہ وہاں کوئی بامعنی فکری پائیدان نصب کرنا ناممکن ہے۔ مذہبی عقیدہ ہو یا غیر مذہبی دونوں صورتوں میں کائنات، انسان اور تاریخ کے متعلق دُوررس سماجی نتائج رکھنے والے مفروضے قائم کرنا ایک لازمی مجبوری ہے ۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سماجی بحث میں عقائد کی مذہبی عقائد تک تحدید اور پھر ان پر بحث سے انکار دراصل مضمراً ایک محفوظ غیر مذہبی پائیدان سے کلام ہے ۔ متکلم دراصل متقابل مفروضوں میں ترجیح کا سماجی حق استعمال کر چکا ہے اور فریقِ مقابل کو انہی مفروضوں کی زمین پر مقابلے کی دعوت دے رہا ہے۔ کیا واضح نہیں کہ یہاں ایک بنیادی اختلافِ رائے کا حق پہلے ہی سلب کیا جا چکا ہے؟ سوال یہ ہے کہ ایسے میں فریقِ مقابل کے لئے کس قسم کا معقول فکری ردِّ عمل باقی بچتا ہے؟ کیا اس طرح ایک خالص تکثیریت پسند سماج وجود میں آ سکتا ہے جو اختلافِ رائے کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکے؟ شاید کوئی ایسا یوٹوپیا تخلیق کرنے کی کوشش بھی کی جا سکے لیکن یہ گمان کافی معقول معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا یوٹوپیا اپنی تخلیق کے دوران ہی اپنی تہوں میں موجود فکری تناقضات کو ظاہر کر دے گا۔

پاکستانی سماج میں تاحال اعتقادات و عقائد پر بامعنی بحث کا آغاز نہیں ہو سکا کیوں کہ بحث کے لئے تاحال ایسے غیرجانبدار فکری میدان کی تلاش جاری ہے جہاں مفروضے پوری طرح عیاں کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کی جائے اور ان لسانی معیارات پر پورا اترنے کی کوشش کی جائے جو جذباتیت اور تلخیوں سے آزادہوں۔ پہلاناگزیر قدم اپنے اپنے اعتقادات کی داخلی توضیحات اور دوسرا قدم ان کی خارجی توضیح کے لئے ہمارے سماجی حقائق سے مناسبت رکھنے والے مناسب سماجی اسلوب کی تلاش ہے۔ ان دونوں اقدام کی کامیابی کے بعد شاید تیسرے قدم کے بارے میں فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ مشہور امریکی نتائجیت پسند مفکر رچرڈ رارٹی کی کسی انٹرویو میں کی گئی یہ اہم نصیحت یاد آتی ہے کہ آپ حریتِ فکر کی نشونما کیجئے، سچائی اپنی دیکھ بھال خود کر لے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 61 posts and counting.See all posts by aasembakhshi