عریانی‘ فحاشی اور فنونِ لطیفہ


میں نے ظفراللہ خان صاحب کا کالم ‘ہم سب‘ نیم برہنہ تصاویر اور اختلاف‘ پڑھ کر اپنے ایک مشرقی بزرگ سے پوچھا ’آپ کا عریانی کے بارے میں کیا موقف ہے؟‘ فرمانے لگے ’ عریانی فحاشی ہے۔ فحاشی گناہ ہے اور ہمیں گناہ سے اجتناب کرنا چاہیے‘۔ میں نے استفسار کرتے ہوئے پوچھا ’عریانی تو فن کا حصہ ہے۔ اس کا گناہ سے کیا تعلق ہے؟‘ کہنے لگے ’اسے دیکھ کر ذہن میں برے برے شہوت زدہ خیالات آتے ہیں‘۔ پھر تھوڑی دیر سوچ کر کہنے لگے’ میری شادی کو بیس برس ہو گئے ہیں۔ میرے دو بچے بھی ہیں لیکن میں نے ہمیشہ ہمبستری رات کے اندھیرے میں کی ہے میں نے کبھی اپنی بیوی کو بھی عریاں نہیں دیکھا‘۔ ان کا جواب سن کر میرے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پھیلی تو کہنے لگے ’ آپ تو ماہرِ نفسیات ہیں‘شاعر ہیں‘ فنکار ہیں۔ آپ کو ان باتوں کی کیا فکر‘

میں نے ان سے کہا کہ آپ درست فرماتے ہیں کہ فنونِ لطیفہ کا تعلق زندگی کے حسن اور حسیں فن پاروں سے ہے گناہ و ثواب سے نہیں۔ پھر میں نے انہیں اپنی کینیڈین دوست جیولی کی کہانی سنائی ۔ میں نے ایک دن جیولی سے پوچھا تھا کہ وہ کیا کام کرتی ہیں۔ کہنے لگیں ’میں آرٹسٹ ہوں اور کبھی کبھار ماڈلنگ بھی کرتی ہیں‘۔

’کس قسم کی ماڈلنگ؟‘ میں متجسس تھا

کہنے لگیں ’شمالی امریکہ کی کئی دیگر آرٹ کلاسوں کی طرح ہماری کلاس میں بھی جب طلبا و طالبات کو کسی ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے تو میں ان کے سامنے برہنہ بیٹھ جاتی ہوں اور وہ مجھے draw اور paint کرتے ہیں‘

میں نے پوچھا ’کیا یہ فحاشی نہیں ہے۔ vulgarity نہیں ہے؟‘

کہنے لگیں ’ جو لوگ روایتی اور مذہبی معاشروں میں پلے بڑھے ہوں ان کے لیے بعض دفعہ nudity اور vulgarity ‘ art اور pornography میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ساری دنیا کی آرٹ گیلریوں میں ایسی عریاں تصویریں موجود ہیں جو فن کا حصہ ہیں ان کا فحاشی سے کوئی تعلق نہیں۔ پیرس کے مشہور لوور میوزیم سے لے کر ہندوستان کے قدیمی غاروں تک اعلیٰ فن کے نمونے موجود ہیں۔ جنہیں لوگ فحاشی نہیں احترام اور تقدس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گناہ تو آپ کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے۔‘

میں نے اپنے بزرگ دوست سے کہا کہ جہاں تک ذہن میں برے برے شہوت زدہ خیالات آنے کا تعلق ہے میں آپ کو کشور ناہید کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ کئی سال پیشتر جب میں ان سے لاہور میں ملا تو کہنے لگیں میں ابھی ایک ایسی میٹنگ سے لوٹی ہوں جہاں مولوی حضرات حکومت اور پی آئی اے کے اصحابِ بست و کشاد سے یہ درخواست کر رہے تھے کہ حاجیوں کے ہوائی جہاز میں خوبصورت ایر ہوسٹسیں نہیں ہونی چائییں کیونکہ انہیں دیکھ کر حاجیوں کا ایمان متزلزل ہو جاتا ہے اور ان کے ذہن میں برے برے شہوت زدہ خیالات آتے ہیں۔ یہ سن کر کشور زور زور سے ہنسیں اور ان مولانائوں سے کہنے لگیں ’اس جہاز میں خوبصورت اور وجیہ مرد بھی نہیں ہونے چاہئییں کیونکہ انہیں دیکھ کر حاجی عورتوں کا ایمان متزلزل ہوتا ہے اور ان کے دل میں برے برے شہوت زدہ خیالات آتے ہیں۔‘ ایک مولانا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کبھی اس موضوع پرعورت کے نقطہِ نظر سے سوچا ہی نہیں تھا۔

اسی بارے میں: ۔  رانی پدماوتی پر فلم اور بھارت میں ریپ کے واقعات

یہ واقعہ سناتے ہوئے مجھے اسرائیلی وزیرِ اعظم گولڈا میر کا واقعہ یاد آ گیا۔ ایک دفعہ اسرائیل کی کابینہ میں یہ بل پیش کیا گیا کہ عورتوں کو شام کے بعد گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ ان پر مرد حملہ آور ہوتے ہیں۔ گولڈا میر یہ بل سن کر مسکرائیں اور کہنے لگیں ’پابندی عورتوں پر نہیں مردوں پر ہونی چاہیے کہ وہ شام کے بعد گھروں سے نہ نکلیں کیونکہ وہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ عورتیں تو معصوم ہیں‘۔

جہاں تک ادب‘ فنونِ لطیفہ اور فحاشی کا تعلق ہے ایک دفعہ بدنامِ زمانہ سعادت حسن منٹو سے جب کسی نے کہا

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس

آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

تو وہ کہنے لگے کہ جب کبوتری کو دیکھ کر کبوتر گٹکتا ہے اور گھوڑی کو دیکھ کر گھوڑا ہنہناتا ہے تو اگر ایک خوبصورت عورت کو دیکھ کر شاعر غزل لکھتا ہے اور افسانہ نگار افسانہ تخلیق کرتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے۔

مشرقی اور مذہبی معاشروں کے بہت سے مرد اور عورتیں ہر چیز کو مذہب اور اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ جس طرح ہر مذہب کی اپنی جداگانہ اخلاقی اقدار ہوتی ہیں اسی طرح ہر فن کی اپنی مخصوص فنی اقدار ہوتی ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ غالب عظیم شاعر تھے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ شاعری میں اخلاقی قدریں پیش کرتے تھے اور نیک بننے کا درس دیتے تھے۔ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ فنِ شاعری کے اسرارو رموز سے بخوبی واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ردیف کیاہے‘ قافیہ کیا ہے‘ بحر کیا ہے‘ عروض کیا ہے‘ تشبیہ کیا ہے استعارہ کیا ہے اسی لیے وہ زبان کا تخلیقی استعمال جانتے تھے اور ایسا شعر کہہ سکتے تھے

اسی بارے میں: ۔  چلغوزوں کا بیوپار بند کرو

شوق ہر رنگ رقیبِ سرو ساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

جب غالبؔ کو قیس تصویر کے پردے میں عریاں دکھائی دیتا ہے تو وہ اخلاقی گراوٹ نہیں فن کا کمال ہے۔ لیکن یہ صرف دیدہِ بینا کو ہی دکھائی دیتا ہے۔ ایک شخص کی فحاشی دوسرے کا فن ہو سکتی ہے۔ عام انسانوں کی نگاہ کی بدصورتی اور بدذوقی پکاسو کی تجریدی پینٹنگ ہے اور فن کا کمال ہے۔ ہم زندگی اور فن کو اپنے اپنے ذوق اور تعصب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

میرا ایک مصرعہ ہے

کسی کے سچ کسی کو جھوٹ لگتے ہیں

بعض لوگوں کو منٹو کے افسانے ’ٹھندا گوشت‘ میں انسانیت کی داخلی بدصورتی کی بجائے فحاشی نظر آئی اور ان پر مقدمہ چلا دیا۔ وہ مقدمہ منٹو سے زیادہ اس عہد کی ذہنی کجی کا آئینہ دار تھا۔

ہر قوم کے انسانوں کا حسن اور اخلاقیات کا اپنا معیار ہے۔ عظیم شاعر‘ فنکار اور دانشور اپنی قوم کے ذوق کی تربیت کرتے ہیں۔ غالب نے شاعری میں‘ منٹو نے افسانے میں‘ عبداللہ حسین نے ناول میں‘ چغتائی نے پینٹنگ میں اور یوسفی نے مزاح میں ہمارے ذوق کی تربیت کی۔

اپنے عہد کے ادیبوں‘ شاعروں اور فنکاروں کی طرح ’ہم سب‘ جیسے اخبار اور رسالے بھی عوام کی فنی‘ نظریاتی اور سیاسی تربیت کرتے ہیں اور جرنلزم کے اعلیٰ ذوق کو نکھارتے ہیں۔

نفسیات کے طالب علم ہونے کے حوالے سے میں جانتا ہوں کہ جہاں تک فحاشی اور گناہ کی بات ہے اس کا تعلق معاشرے کی روایت کے ساتھ بھی ہے اور ہمارے اپنے ذہن اور شخصیت کے ساتھ بھی ۔رخصت ہونے سے پہلے میں آپ کو اپنے پیشے کا ایک لطیفہ سنانا چاہتا ہوں۔

ایک ماہرِ نفسیات نے مریض سے کہا ’میں تصویر بنائوں گا تمہارے ذہن میں جو خیال آئے بتانا‘

ڈاکٹر نے دائرہ بنایا مریض نے کہا ’جنس‘

ڈاکٹر نے تکون بنائی مریض نے کہا ’جنس‘

ڈاکٹر نے چوکور بنائی مریض نے کہا ’جنس‘

ڈاکٹر نے کہا’ لگتا ہے تمہارے اعصاب پر جنس سوار ہے‘

مریض نے کہا ’آپ عجیب ڈاکٹر ہیں آپ خود فحش تصویریں بنا رہے ہیں اور مجھے کہتے ہیں میرے اعصاب پر جنس سوار ہے۔‘

فکرِ ہر کس بقدرِ ہمتِ اوست


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔