معرکۂ لاہور اور جمہوری رویے


ہم لوگ بھی عجیب پارہ صفت واقع ہوئے ہیں کہ بیک وقت شوقِ جمہوریت بھی پال رکھا ہے اور نظریاتی مخالفین کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی نہیں۔ عوام کو اختیارات کا منبع کہتے ہیں مگر ان کا فیصلہ بھی قبول نہیں۔ میڈیا کی آزادی کے قائل ہیں مگر آزادیء اظہار کا سلیقہ بھی نہیں۔ تنقید کو اپنا حق خیال کرتے ہیں مگر تنقید کا قرینہ بھی نہیں۔

 

سادہ سا سوال یہ ہے کہ جب ہم نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے پر مطمئن ہیں، اپنی نااہلی کے خلاف ان کی نظرثانی کی اپیل خارج ہونا بھی مناسب عدالتی حکم ہے، حدیبیہ کیس کھلنے پر بھی خوش ہیں اور احتساب عدالت کی طرف سے شریف فیملی کو طلب کیے جانے کے حکم کی تعمیل بھی ضروری خیال کرتے ہیں تو لاہور کے ضمنی انتخاب میں عوامی عدالت کے فیصلے پر رنجیدہ کیوں ہیں؟ ہمیں حق ہے کہ شریف خاندان کے خلاف تمام عدالتی فیصلوں کو انصاف کی فتح قرار دیں مگر ہمارا فرض ہے کہ عوامی عدالت کے فیصلے پر مہذب دنیا کی طرح سر تسلیم خم کریں۔ اگر شوقِ جمہوریت پال رکھا ہے تو سیاسی مخالفین کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہو گا۔

 

ہم نے اپنے محبوب رہنما عمران خان کا ایک ناقابل رشک بیان پڑھا ہے۔ انہوں نے عوامی عدالت کے ججوں کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ن لیگ کو ووٹ دینے والو! اب تمہارے گھر میں چوری ہوئی تو کہنا ”چور زندہ باد‘‘… کیا اپنی پارٹی کی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کی پاداش میں براہِ راست ووٹروں کو مخاطب کر کے ایسا فرمان جاری کرنا مہذب اور جمہوری رویہ شمار ہو گا؟ جبکہ عدالت عظمیٰ کے ایک فاضل بینچ نے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیلیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ این اے 120 میں عوام نے فیصلہ دے دیا ہے، ان کی رائے کا احترام کیا جائے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکلاء سے کہا کہ آپ پسند کریں یا نہ کریں لیکن فیصلہ ہو چکا ہے۔ ہماری ناقص فہم کے مطابق تو ایسی ہی وسیع النظری اور فراخدلی رہنمائے کرام دکھائیں گے تو ہی ہم عوام میں بھی جمہوری رویے پختہ ہوں گے۔

 

لاہور کا ضمنی انتخاب اپنی نوعیت کا منفرد دنگل تھا۔ ن لیگ کی امیدوار لندن میں زیر علاج تھیں۔ وہ ایک مرتبہ بھی ووٹروں کے سامنے نہ آ سکیں۔ پارٹی لیڈر نواز شریف بھی موجود نہ تھے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی ملک سے باہر تھے۔ ان نامساعد حالات میں انتخابی مہم کا سارا بوجھ مریم نواز کے کندھوں پر تھا۔ رازدار درونِ مے خانہ کہتے ہیں کہ کچھ پیچیدہ خاندانی معاملات تھے، جن کی بنا پر شہباز کیمپ کا کوئی قابلِ ذکر رکن انتخابی مہم یا پولنگ کے وقت متحرک نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کے تمام ووٹرز باہر نہ آئے، ورنہ ن لیگ کی جیت کا مارجن زیادہ ہو سکتا تھا۔ اس کے برعکس دوسرے تمام امیدواروں کے علاوہ انتخابی نتائج میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی امیدوار محترمہ یاسمین راشد نے اپنی بھرپور انتخابی مہم چلائی، جبکہ ان کے پارٹی لیڈر عمران خان بھی میدان میں تھے۔ یاسمین راشد گزشتہ انتخابات میں اس حلقے سے شکست کے بعد مسلسل عوام سے رابطے میں تھیں۔ حلقے میں ان کے ووٹ بینک پر بھی دو آراء نہیں۔ ان کی قابلیت اور محنت میں بھی کوئی شک نہیں۔ ن لیگ کے لیے ایسے مشکل حالات میں بھی اگر وہ عوامی عدالت میں سرخرو ٹھہری ہیں تو فراخدلی سے اس فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔

 

یہ دنگل اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ پہلی دفعہ دیکھا گیا کہ حکمران جماعت اپنے سرگرم کارکنو ں کے اغواء کا الزام لگا رہی ہے۔ اس کے ووٹرز بھی دہائی دے رہے تھے کہ ووٹ دیتے وقت ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ پولنگ سٹیشنز پر پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں، جو ووٹ دینے سے محروم رہے۔ نواز لیگ کا خیال ہے کہ ان میں سے زیادہ ووٹرز ان کے تھے، جنہیں پولنگ کے لیے اضافی وقت نہ دیا جانا قرین انصاف نہیں۔ غیبی طاقتوں نے بھی نواز لیگ کی کامیابی کی راہ میں مقدور بھر روڑے اٹکائے۔ اس کارِ خیر کے لیے فقیدالمثال منصوبہ بندی کی گئی۔ حلقے میں تین درجن سے زائد امیدوار تھے ۔ ن لیگ کے علاوہ باقی تمام جماعتوں اور امیدواروں کا مشترکہ ٹارگٹ کلثوم نواز کی کامیابی کے آگے بند باندھنا تھا۔ اپنے باہمی اختلافات کے باوجود یہ امیدوار ایک مشن پر متفقہ طور پر کمربستہ تھے اور سب نے ن لیگ کو نشانے پر رکھا ہوا تھا۔

 

دوسری طرف پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں پٹیشن جمع کرا دی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ حلقے کے 29 ہزار ووٹوں کی تصدیق ہونے تک انہیں انتخابی نتائج قبول نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حلقے میں ترقیاتی کام، سرکاری وسائل اور وفاقی اور پنجاب حکومت کو استعمال کیا گیا۔ وزراء نے نوکریاں بانٹیں اور غریبوں کو زکوٰۃ دینے کے بدلے ان سے ووٹ مانگے گئے۔ پی ٹی آئی والوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ انہیں ووٹروں کی جو لسٹیں فراہم کی گئیں‘ ان میں ووٹر نمبر اور گھرانہ نمبر درج نہیں تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ان انتخابی بے ضابطگیوں پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسے میں ہر دو جماعتوں کے تحفظات پر تحقیقات کی ضرورت ہے۔ ن لیگ کے الزامات انتہائی سنجیدہ ہیں اور پی ٹی آئی بھی الیکشن کمیشن کے کردار سے مطمئن نہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ فریقین کے تحفظات اور الزامات پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد باضابطہ کارروائی کی جائے اور تحقیقاتی رپورٹ کو عوام کے لیے شائع کیا جائے، تاکہ ووٹرز اپنے نمائندوں کے کردار سے آگاہ ہوں اور آئندہ انتخابات کے لیے مناسب فیصلہ کر سکیں۔

 

لاہور کے اس ضمنی انتخاب کے نتائج سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ میاں نواز شریف کی جماعت پنجاب میں ابھی تک ناقابل شکست ہے۔ عدالت عظمیٰ کی طرف سے ان کی وزارتِ عظمیٰ سے نااہلی اور ریفرنسز سے ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی‘ اور عوامی عدالت سے وہ آج بھی سرخرو ہیں۔ اس معرکے نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ مریم نواز ہی نواز شریف کی جانشین ہوں گی۔ انہوں نے جس طرح اور جن حالات میں والدین، بھائیوں اور چچا کے بغیر بیگم کلثوم نواز کی انتخابی مہم چلا کر اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے، انہیں نہ سراہنا ناانصافی ہو گی۔

 

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہمیں عوامی عدالت کے ہر فیصلے پر سر تسلیم خم کرنے کی خُو اپنانی ہو گی۔ ہمارے برہم مزاجوں میں تبدیلی آئے گی تو ملک میں حقیقی تبدیلی کا آغاز ہو گا۔ جمہوری رویے پختہ ہوں گے تو ملک کی معتبر تصویر ابھرے گی۔ عوام کے فیصلے کھلے دل سے ماننے کا جمہوری کلچر فروغ پائے گا تو جمہوریت کے فیوض و برکات سامنے آئیں گے۔ سیاسی بلوغت کا سفر شروع ہو گا تو ہم مہذب کہلائیں گے۔ لاریب! اگر آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کامیاب ہوتی ہے اور عمران خان کی حکومت بنتی ہے تو عوامی عدالت کا یہ فیصلہ بھی اسی احترام کا مستحق ہو گا، جیسے گزشتہ انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کا تھا۔ اگر اگلے انتخابات میں یہ عدالت دوبارہ ن لیگ کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو پھر ہمیں مخالفت برائے مخالفت اور تنقید برائے تنقید کا چلن ترک کرکے اسے آزادی سے حکومت کرنے کا حق دینا ہو گا۔

 

ہم یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کا تسلسل دشتِ رائیگاں کا سفر نہیں۔ اگر اسے عدم مداخلت کی پالیسی کے تحت مسلسل چلنے دیا جائے تو یہ قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ٹھہرتا ہے۔ آج دنیا کی جن قوموں کو مہذب اور ترقی یافتہ کہا جاتا ہے، ان کے دامن میں اسی مسافت کی برکات ہیں۔ جمہوری رویے صرف اور صرف اسی سفر میں پختہ ہوتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔