پرویز مشرف کے الزامات


سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف نے ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین آصف علی زرداری کو بے نظیر بھٹو کے علاوہ 1996 میں مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا ذمہ دارقرار دیا ہے اور کہا کہ انہوں نے بھٹو خاندان کو تباہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ پرویز مشرف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بلاول، آصفہ اوربختاور بھٹو کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا سب سے زیادہ فائیدہ صرف آصف زرداری کو پہنچا تھا۔ اس لئے ان کے سوا پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن کو اور کون قتل کروا سکتا تھا۔ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ کے بعد گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا اور ایک بم دھماکہ کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ یہ حملہ سو فیصد کارگر ثابت ہو۔ آصف زرداری پر پرویز مشرف کے براہ راست الزامات سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ میں تین پٹیشن داخل کی گئی تھیں جن میں پرویز مشرف کو بے نظیر کے قتل کا قصوروار قرار دیتے ہوئے عدالت سے انہیں سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پرویز مشرف کے الزامات ان درخواستوں کے بعد عائد کئے گئے ہیں۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 31 اگست کو بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اس مقدمہ میں گرفتار تمام ملزموں کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا تھا تاہم بے نظیر پر حملہ کے وقت ڈیوٹی پر موجود پولیس کے دو اعلیٰ افسروں کو غفلت اور شواہد مٹانے کی کوشش کے الزام میں سزائے قید دی تھی۔ اس مقدمہ میں پرویزمشرف کو اشتہاری قرار دینے کے علاوہ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری نے اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے پرویز مشرف کو بے نظیر قتل کیس کا ماسٹر مائنڈ ہونے پر سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلہ پر سخت بیانات دینے کے بعد سوموار کو آصف علی زرادری کی طرف سے سردار لطیف کھوسہ نے لاہور ہائی کورٹ میں تین درخواستیں داخل کی تھیں جن میں پرویز مشرف کو اصل قاتل قرار دیاگیا ہے۔ پرویز مشرف کا بیان ان درخواستوں کے جواب میں دیا گیا ہے۔

دو بار ملک کی وزیر اعظم رہنے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی شریک چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ 9 سال 8 ماہ تک چلا اور اس دوران متعدد جج تبدیل کئے گئے اور ایک پراسیکیوٹر قتل ہؤا۔ پانچ برس تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی اور آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ سے اس قتل کی تفتیش کروانے کا وعدہ بھی پورا کیا لیکن اس کے باوجود اس مقدمہ پر کارروائی تاخیر کا شکار ہوتی رہی اور ملزموں کو سزا نہ دی جاسکی۔ ملک کے ناقص عدالتی نظام کے علاوہ مختلف عناصر کے سیاسی مفادات کو اس صورت حال کی وجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ بالآخر جب اس مقدمہ کا فیصلہ سامنے آیا تو دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے سب معاونین تو بری کردیئے گئے لیکن دو پولیس افسروں کو سزائے قید دینے پر اکتفا کیا گیا۔ اسی لئے متعدد حلقوں کی طرف سے اس فیصلہ پر عدم اطمینان کا اظہار بھی سامنے آیا تھا۔ یہ بات اس ملک کے عام شہریوں کے لئے ناقابل فہم تھی کہ جب ملک کی ایک اہم لیڈر کو تحفظ حاصل نہیں ہو سکا اور ان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث افراد کی گرفت نہیں ہو سکی تو ملک کے عام شہریوں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کیسے پورا کیا جا سکتا ہے۔

اسی پس منظر میں پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری اب یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں لے کر گئے ہیں تاکہ وہ اس فیصلہ پر عدم اطمینان ظاہر کرنے کے علاوہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرسکیں اور واضح کریں کہ ملک کا نظام ان کی لیڈر کے قاتلوں کو پکڑنے اور سزا دینے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی یا آصف علی زرداری جب پرویز مشرف کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تو وہ یہ جواب دینے سے قاصر رہتے ہیں کہ اگر پرویز مشرف ہی بے نظیر کے اصل قاتل ہیں تو پیپلز پارٹی نے 2008 کے انتخاب میں اکثریت حاصل کرنے اور حکومت بنانے کے بعد پرویز مشرف کو بطور صدر کیوں قبول کیا اور کیوں یہ اعلان نہیں کیا کہ جب تک بے نظیر کا قاتل صدارت کے عہدے پر فائز ہے، وہ حکومت نہیں بنائیں گے۔ اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں جمہوریت لانے کے لئے اس وقت کی صورت حال میں یہ ’مفاہمت‘ ضروری تھی لیکن پیپلز پارٹی اپنے دور اقتدار میں پرویز مشرف کے رخصت ہونے کے بعد بھی کوئی کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ عام اور سادہ لوح شہری اور پیپلز پارٹی کا کارکن یہ سوال تو ضرور کرے گا کہ اگر پیپلز پارٹی کے قائدین یہ جانتے تھے کہ اصل قاتل پرویز مشرف ہی ہے تو وہ کسی بھی وجہ سے ان کے ساتھ تعاون پر کس طرح راضی ہو سکتے تھے۔

اب پرویز مشرف یہ دلیل دیتے ہوئے آصف علی زرداری پر الزام تراشی کررہے ہیں کہ بے نظیر کے قتل کا سب سے زیادہ فائیدہ زرداری کو ہی ہؤا تھا۔ وہ خود تو برسر اقتدار تھے اور بے نظیر کے قتل کے سبب انہیں سیاسی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس دلیل سے قطع نظر الزام تراشی کرنے کی بجائے پرویز مشرف کو اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ وہ اگر اس حقیقت سے آگاہ تھے تو انہوں نے اپنے دور صدارت میں زرادری کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لئے کارروائی کیوں نہیں کی۔ اور یہ انکشاف کرنے کے لئے دس برس تک انتظار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اگر وہ بطور صدر یہ کام کرنے سے قاصر رہے تھے تو جب انسداد دہشت گردی عدالت میں انہیں ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا تو وہ بہانے بازی سے ملک سے فرار ہونے کی بجائے عدالت میں جاکر وہ ساری صورت حال بیان کردیتے جو وہ اب ویڈیو پیغام کے ذریعے الزام کی صورت میں سامنے لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس رویہ سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ ملک کا ہر لیڈر اور کردار اپنے سیاسی مفادات کے لئے بڑے سے بڑے جرم کی پردہ پوشی کو برائی نہیں سمجھتا۔

اس پس منظر میں کیا عجب ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قاتل بدستور لاپتہ ہیں اور اس معاملہ کے اہم ترین کردار ایک دوسرے پر الزام عائد کرکے اپنے اپنے طور پر سیاسی فائیدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جب تک یہ مزاج پاکستانی لیڈروں کا معمول رہے گا، اس وقت تک جرائم کی بیخ کنی کیوں کر ممکن ہو سکتی ہے۔ بلکہ بے نظیر کی طرح متعدد دوسرے بے گناہ مقتولوں کے وارث انصاف حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 702 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali