صدارتی تقریر اور چیمبر کی خالی کرسی


mujahid aliصدر باراک اوباما نے متنبہ کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ کا بحران اور پاکستان سمیت متعدد دوسرے ملکوں میں سامنے آنے والا تصادم دنیا کے لئے بڑا خطرہ رہے گا۔ تاہم ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے یک طرفہ کارروائی کرنے کی بجائے دنیا کے مختلف ملکوں کو مل کر اقدام کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اپنی صدارت کے آخری اسٹیٹ آف یونین خطاب میں انہوں نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی اور موثر طاقت قرار دیا اور کہا کہ ہم معاشی مسائل پر قابو پا رہے ہیں۔ انہوں نے دولت اسلامیہ اور القاعدہ کو بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ داعش جیسے انسان دشمن گروہوں کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے ہم ان کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم ان کے نفرت اور تقسیم کے پیغام پر عمل کرنے لگیں تو یہ ہماری نہیں انتہا پسند گروہوں کی کامیابی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم طاقتور اور کامیاب ہونے کے باوجود ایک مختلف دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ان بدلے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی اقدار پر عمل کرنا ہو گا اور نئے خطرات سے نمٹنے کے لئے پرعزم رہنا ہو گا۔

امریکہ میں اس برس کے آخر میں نئے صدارتی انتخابات ہوں گے۔ صدر باراک اوباما اپنی 8 سال کی مدت پوری کرنے کے بعد وہائٹ ہاﺅس چھوڑ دیں گے۔ اس تناظر میں کانگریس اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے ان کے آخری باقاعدہ خطاب سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کی فہرست پیش کریں گے۔ تاہم عام اندازوں کے برعکس انہوں نے خارجہ یا داخلہ پالیسیوں کے حوالے سے اپنی ناکامیوں کا اقرار کرنے کی بجائے یہ بتایا کہ امریکہ عسکری اور معاشی لحاظ سے دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے۔ کوئی دوسرا ملک امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی امریکہ یا اس کے کسی حلیف پر حملہ کرنے کا تصور کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم ساری دنیا کے مسائل تن تنہا حل کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے عالمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ویت نام کی جنگ اور اس کے بعد کے تجربات سے یہ سیکھ لینا چاہئے کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت سے کوئی مفاد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ امریکہ دنیا کے ہر مسئلے کا حل پیش نہیں کرسکتا ہے البتہ اس حوالے سے ہم عالمی کوششوں کی قیادت کر سکتے ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے گزشتہ برس کے آخر میں پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کا ذکر کیا جہاں 200 ملکوں نے مل کر دنیا میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے پر اتفاق رائے کیا تھا۔ انہوں نے کہا اسی طرح ہم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں 60 ملکوں کے اتحاد کا حصہ ہیں۔ اور شام کی خانہ جنگی کو ختم کروانے کے لئے عالمی کوششوں میں شامل ہیں۔

امریکی صدر نے اس تقریر میں کہا کہ ہمیں روشن مستقبل اور پرامن دنیا کے لئے چار اہم سوالوں کا مناسب جواب تلاش کرنا ہو گا۔ اوّل کہ ملک کی معیشت میں سب کو کس طرح مساوی موقع اور تحفظ مل سکتا ہے۔ دوئم ٹیکنالوجی کو کس طرح نئے مسائل حل کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے ماحولیات کے شعبہ میں درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فنی ترقی اس حوالے سے ہمارا اہم ترین سہارا ہے۔ سوئم یہ کہ ہم دنیا کا پولیس مین بنے بغیر کس طرح امریکہ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ چہارم یہ کہ ہمیں اپنی سیاست کی تطہیر کرنا ہو گی تا کہ یہ عوام دوست بن سکے اور لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کی بات سنی نہیں جاتی یا یہ کہ وہ اس نظام کا حصہ نہیں ہیں۔

باراک اوباما کے ناقدین نے اگرچہ ان کی تقریر کو جذباتی نعرے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس اہم موقع پر کوئی ٹھوس بات سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ تاہم نے عالمی تنازعات میں مل جل کر مسائل حل کرنے کی بات کر کے ایک بہتر مستقبل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں یا امریکی جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کا ہر قیمت پر ہر جگہ پیچھا کیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا ہے کہ مختلف ملکوں میں امریکہ کی یک طرفہ مداخلت سے کوئی قومی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر امریکہ اور اس کی آنے والی حکومت اس عہد پر قائم رہ سکے تو یہ ایک پرامن اور خوشگوار دنیا کے لئے اچھی خبر ہے۔ تاہم اس تقریر میں مشرق وسطیٰ ، پاکستان اور افغانستان میں طویل عرصے تک بحران ، چپقلش اور فرقہ وارانہ فساد کے بارے میں باراک اوباما کی باتیں حوصلہ شکن ضرورت ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ صورتحال آئندہ چند دہائیوں تک برقرار رہے گی اور اس بحران کی وجہ سے دہشت گرد گروہ بھی اس قسم کے غیر مستحکم علاقوں میں پاﺅں جمانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر کے پاس معلومات حاصل کرنے کے متعدد ذرائع ہوتے ہیں …. تاہم جن ملکوں میں انہوں نے تصادم اور مشکلات کا ذکر کیا ہے، وہاں پیدا ہونے والے حالات بھی یہ اشارے کر رہے ہیں کہ اگر ان خطوں کے لیڈروں نے مناسب اور ٹھوس اقدام نہ کئے اور تصادم کی بجائے مصالحت کا راستہ اختیار نہ کیا تو ان مشکلات اور تکلیفوں میں کمی نہیں ہو گی۔ خاص طور سے پاکستان کے پاس ضرور یہ موقع ہے کہ وہ قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ خود اپنے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کرے بلکہ خطے کے دوسرے ملکوں کو بھی بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے اختلافات ختم کرنے پر آمادہ کرے۔

صدر باراک اوباما نے امریکی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے باہمی احترام اور جمہوری روایات کے جو بنیادی اصول پیش کئے ہیں، ان سے صرف امریکی سیاستدان اور عوام ہی استفادہ نہیں کر سکتے۔ بلکہ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ملکوں کے قائدین بھی ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے معاشروں اور عوام کے لئے سہولت اور آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ باراک اوباما نے امریکی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا احترام ہماری عسکری قوت یا حجم کی وجہ سے نہیں ہو سکتا بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم تنوع پسند ہیں اور ایک دوسرے کے عقیدہ و نظریہ کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے پوپ فرانسس کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم بھی انتہا پسندوں کی طرح تنگ نظری اور تعصب کو شعار بنا لیں گے تو ہم میں اور ان میں فرق ختم ہو جائے گا۔ اوباما نے کہا کہ جب امریکی سیاستدان مسلمانوں کی توہین کرتے ہیں، جب مساجد پر حملے ہوتے ہیں یا جب اسکول میں بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے …. تو ان رویوں سے ہمارا معاشرہ محفوظ نہیں ہو سکتا۔ ان رویوں سے دنیا کی نظروں میں ہماری قدر و قیمت کم ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ طرز عمل مسترد کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی آئین کا آغاز تین سادہ لفظوں سے ہوتا ہے۔ وی دی پیپل WE  THE  PEOPLE یعنی ہم لوگ۔ اس کا مطلب بعض لوگ یا ایک مخصوص طبقہ نہیں ہے بلکہ اس طرف اشارہ ہے کہ ہمیں مل کر ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔

امریکی صدر کی یہ بات حالیہ انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف سامنے آنے والی نفرت کے تناظر میں کہی گئی ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے مقبول امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ مساجد کو بند کرنے اور امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قرار دینے کی تجاویز دے چکے ہیں۔ اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ مختلف لوگوں اور اختلاف رائے کو قبول کر کے ہی آگے بڑھنے اور باوقار طریقے سے زندہ رہنے کی راہ تلاش کی جا سکتی ہے۔ جمہوریت کے لئے کسی مملکت کے شہریوں میں باہمی اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے خود سے اختلاف کرنے والوں کو مسترد کرنے یا ان کی توہین کرنے سے جمہوری روایت کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اس تناظر میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جب صرف انتہا پسند آوازوں پر توجہ دی جائے گی اور عام آدمی یہ سمجھنے لگے گا کہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یا یہ کہ معاشرہ صرف بااثر ، امیر اور طاقتور لوگوں کی بات سنتا ہے تو یہ جمہوریت کی ناکامی ہے۔ صدر اوباما نے واضح کیا کہ اس وقت بہت سے امریکی شہری اس قسم کے احساسات رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ امریکی لیڈروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو ذاتی عناد نہ بنائیں اور جمہوری عمل میں لوگوں کی آواز اور رائے کو اہمیت دینے کی ضرورت کو محسوس کریں۔ انہوں نے مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان شبہ اور تفادت کی کیفیت کو اپنی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایک صدر یہ مسائل حل نہیں کر سکتا۔ اس مقصد کے لئے ہم سب کو مل کر ان عوامل کے خلاف کام کرنا ہو گا جو ہمارے معاشرے میں جمہوریت کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے امریکی انتخابات میں مالی وسائل کے اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر ختم کرنا ہو گا کہ دولت کے ذریعے جمہوری عہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

باہمی احترام اور جمہوری روایت کے فروغ کے حوالے سے صدر اوباما کی یہ باتیں اگرچہ امریکی سیاست کے تناظر میں کی گئی ہیں لیکن ان کی عالمگیر سچائی سے انکار ممکن نہیں ہے۔ پاکستان جیسی نوخیز جمہوریت میں طاقتور گروہ عام لوگوں کو سیاست سے بدظن کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی طرح شدت پسند نظریات کے فروغ کے ذریعے دوسروں کے عقائد و نظریات کے احترام کا رویہ معدوم ہونے لگا ہے۔ امریکہ کو جس دہشت گردی اور گمراہ کن انتہا پسندی کا سامنا سات سمندر پار سے ہے، پاکستان اور اس کے عوام اپنی سرزمین پر ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس لئے ان باتوں کی حکمت اور ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستانی قیادت اور عوام کو بھی ان اقدار کے فروغ کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ کے سیاستدان اور دنیا بھر کے مبصر باراک اوباما کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے بارے میں کئی سال تک مباحث کرتے رہیں گے۔ تاہم تبدیلی لانے کے دعویدار امریکی صدر اگرچہ مکمل تبدیلی لانے میں تو کامیاب نہیں ہوئے لیکن انہوں نے عالمی اور قومی سطح پر بعض ایسے اقدام ضرور کئے ہیں جن کے اثرات آنے والے ادوار میں بھی محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ ان میں ماحولیاتی آلودگی کے معاہدے میں امریکہ کی شمولیت ، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ اور اس کی سفارتی تنہائی کو ختم کرنے کا فیصلہ ، دو برس قبل کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے بعد شام پر حملہ کرنے سے گریز جیسے عالمی اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ میں ہیلتھ اصلاحات متعارف کروا کے غریب اور محروم آبادی کے لئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اسی طرح اب وہ ملک میں اسلحہ کی خرید و فروخت پر پابندیاں لگانے کے اقدامات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ میں ہر روز 31 افراد اسلحہ کے حصول پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ اس افسوسناک جرم کی نشاندہی کرنے اور اسلحہ پالیسی کا شکار ہونے والوں سے اظہار ہمدردی کے لئے آج صدر کی تقریر کے دوران صدارتی چیمبر میں خاتون اول مشیل اوباما کے ساتھ والی کرسی خالی رکھی گئی تھی۔ صدر اوباما شدید سیاسی مخالفت کے باوجود ان دو اہم معاملات پر پیش رفت دکھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے اقدامات انہیں تاریخ میں ممتاز مقام دلوا سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “صدارتی تقریر اور چیمبر کی خالی کرسی

  • 14-01-2016 at 1:08 am
    Permalink

    aek umda aur jandar article

Comments are closed.