خواتین کو آدھے دماغ والی کہنے والے سعودی مولوی پر پابندی عائد


سعودی مولوی نے عورتوں کی ڈرائیونگ پر پابندی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان میں مردوں کے مقابلے میں ‘ذہانت’ نہیں ہوتی اور اسی لیے انھیں گاڑی نہیں دی جانی چاہیے۔

شیخ سعد الحجری کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان پر بڑی تنقید کی گئی۔ اس تنقید کے بعد سعودی حکومت نے شیخ سعد پر تبلیغ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

شیخ سعد نے کہا تھا کہ عورتوں کے پاس مردوں کے مقابلے میں آدھا دماغ ہوتا ہے اور یہ آدھا دماغ مزید آدھا رہ جاتا ہے جب وہ مارکیٹ جاتی ہیں۔ شیخ شعد کے اس بیان کے بعد ان پر بہت زیادہ تنقید کی گئی۔ لوگوں نے ان کے اس بیان کو سعودی خواتین کی ہتک قرار دیا۔

شیخ سعد سعودی صوبے عسیر کے فتویٰ اتھارٹی کے سربراہ ہیں۔ان پر تبلیغ کرنے کی پابندی صوبے کے گورنر نے عائد کی ہے۔ انھوں نے یہ بات ‘خواتین کی ڈرائیونگ میں برائی’ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہی تھی۔

سعودی اخبار سبق کے مطابق شیخ سعد نے کہا ‘یہ عورتوں کی غلطی نہیں ہے کیونکہ ان میں ذہانت کی کمی ہے۔ کیا آپ آدھے دماغ والے مرد کو ڈرائیونگ لائسنس دیں گے؟ تو آپ کیوں کسی عورت کو ڈرائیونگ لائسنس دیں گے جب اس کے پاس آدھا دماغ ہے؟’

انھوں نے مزید کہا ‘اور جب یہ عورتیں مارکیٹ جاتی ہیں تو ان کا دماغ آدھے کا بھی آدھا رہ جاتا ہے۔ تو مارکیٹ میں ان کے پاس صرف ایک چوتھائی دماغ ہی ہوتا ہے۔’

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4181 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp