حکومت وکیل کرنے میں مدد کرے: والد مشال خان


پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی باچہ خان یونیورسٹی میں اہانت کے الزام میں قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کے والد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے بیٹے کے مقدمے میں وکیل کرنے کے لیے ان کی مدد کرے۔

بی بی سی اردو سروس سے گفتگو میں مشال خان کے والد محمد اقبال نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کی مالی مدد سے اپنی مرضی کے جرائم کے شعبے کے دو ماہر وکیل کرنا چاہتے ہیں۔’

محمد اقبال کا کہنا تھا ‘پشاور اور دیگر مقامات سے وکیل اپنے خرچے سے آ تو رہے ہیں لیکن ہم ایسے وکیل چاہتے ہیں جو آخر تک ہمارے ساتھ چلیں، کریمنل مقدمات کے ماہر ہوں، جو آخر تک نہ ڈگمگائیں اور جو ہری پور سے ہوں۔‘

شعبہ صحافت کے طالب علم مشال خان کو اس سال اپریل میں مردان میں قائم باچہ خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں ایک ہجوم نے تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد تحقیقات ہوئیں، گرفتاریاں ہوئیں اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی جس کی رپورٹ کے مطابق مشال پر لگنے والا توہین مذہب کا الزام غلط تھا۔ اب تقریباً پانچ ماہ بعد اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہری پور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں شروع ہوئی ہے اور 57 ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے بعد گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

مشال خان قتل کیس میں 57 ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مشال خان کے والد محمد اقبال اب تک کی عدالتی کارروائی سے بظاہر مطمئن دکھائی دے رہے ہیں اور شاید دو تین ماہ میں مقدمے کی کارروائی مکمل کر لی جائے گی لیکن انہیں لگتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ملزمان کی موجودگی میں شاید ایسا ممکن نہ ہو۔

محمد اقبال نے ماضی میں بھی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی تھی کہ انہیں اسلام آباد منتقل کیا جائے تاکہ ان کی بیٹیاں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس پر بھی ابھی تک کسی جانب سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔

‘ہمیں کسی جانب سے کوئی دھمکی نہیں لیکن خدشات ضرور ہیں جس کی وجہ سے میری دونوں ٹاپ کرنے والی بچیاں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہی ہیں اور گھر پر بیٹھی ہیں۔’

محمد اقبال کا کہنا ہے کہ ان کا مشال اب واپس نہیں آسکتا، اس کا انہیں ادراک ہے لیکن یہ مقدمہ ان کے بقول حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ انھوں نے کہا ’مشال واپس نہیں آسکتا لیکن جو مشال پاکستان کے ہر گھر میں ہے، اس کے تحفظ کی ضمانت حکومت دے۔ اس سے پاکستان کا چہرہ روشن ہو جائے گا۔’

محمد اقبال نے کہا کہ باچا خان یورنیورسٹی نے ان سے اب تک اس واقعے کے بارے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ ‘یونیورسٹی نے تو اب تک اس واقعے کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یونیورسٹی کے اندر بد انتظامی کا اعتراف کیا گیا ہے شاید اس خوف سے اس نے کچھ نہیں کیا۔’

ہری پور میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت اب ہر ہفتے تین روز اس مقدمے کی سماعت کرے گی۔ اس کی وجہ دیگر وکلا کی مصروفیات بتائی گئی ہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت اب 26 ستمبر کو ہوگی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 601 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp