خدا عارف وقار کو زندگی دے!


اگر یہ خبر سچ نکلتی تو ریڈیو ٹی وی پروڈیوسر اور دانشور عارف وقار کے ختمِ قل کو آج چوتھا دن ہوتا۔ ایسی انہونی اطلاع انسان کو کہاں لے جاتی ہے، اُس کا ٹریلر منگل کی صبح ایک دوست کا یہ ٹیکسٹ میسج پڑھ کر دکھائی دیا کہ ’’عارف وقار بھی چلے گئے‘‘۔ دوست بھی وہ جو سرکاری میڈیا سے وابستہ رہا اور کبھی غیر ذمہ دارانہ بات نہیں کرتا۔

حیرت اِس لئے بھی ہوئی کہ پچھلے پانچ برسوں میں یارِ عزیز عارف وقار کو جب کبھی کُتے نے کاٹا، آئی انفیکشن ہوئی یا جسم کے کسی ناقابلِ بیان عضو سے خون رِسنے لگا تو انہوں نے میڈیکل ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے سب سے پہلے مجھ ہی کو یاد کیا۔ بیٹھے بٹھائے یہ کیا ہو گیا ہے؟ پیغام بھیجنے والے دوست کو فون کیا تو اُن کی آواز کسی وجہ سے صاف سنائی نہیں دے رہی تھی۔ صرف اتنا سمجھ میں آیا کہ خبر چل رہی ہے۔ میری بے بسی پہ مہرِ تصدیق ثبت ہو گئی۔

اُس وقت صبح کے ساڑھے سات بجے تھے اور مَیں اپنے بھتیجے کو اسکول اتار کر گھر پہنچا تھا۔ منگل کو میری تدریسی مصروفیت نہیں ہوتی، اِس لئے سوچا کہ ایک کپ چائے اور پیوں اور اخبارات پہ نظر ڈالنے کا عمل شروع ہو۔

اِس بیچ یہ روح فرسا خبر موصول ہو گئی۔ روح فرسا چھوٹا لفظ ہے۔ بس ایک بھونچال سا تھا۔ زمین کی حرکت یک لخت رکنے لگی، چھت گڑگڑاہٹ کے ساتھ گِر رہی تھی، سورج مغرب سے طلوع ہونا چاہتا تھا۔ معلوم نہیں سمجھدار لوگ اِن موقعوں پہ کیا کرتے ہیں؟ برسوں پہلے فرنٹئیر پوسٹ کے اولین ایڈیٹر عزیز صدیقی کے اچانک انتقال پر ہم اُن کے سامنے والے گھر میں آئی اے رحمان کے پاس پہنچے تو رحمان صاحب کے منہ سے نکلا ’’برباد ہوگئے‘ ‘۔ پھر انہوں نے ہماری خاطر پنکھا چلا دیا۔ عارف کا سُن کر گلا خشک ہوتے ہی مَیں رک گیا کہ پانی کیا پینا جب عارف وقار ہی نہیں رہے۔

صدمے کی حالت میں انسان عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے۔ جیسے اگر آپ کرسی پہ بیٹھے ہیں تو کھڑے ہو جائیں گے، یا پہلے سے کھڑے ہیں تو ہو سکتا ہے یکدم بیٹھ جائیں۔ میری سمجھ میں کچھ نہ آیا تو دیکھا کہ اضطراری طور پہ بیڈ روم سے لاؤنج میں آ گیا ہوں، جہاں کتابوں کے بے ترتیب شیلف ہیں اور فائلوں کے انبار۔ شائد یہ اِسی دفتری فضا کا اثر تھا کہ مزاج پہ صحافیانہ جبلت غالب آنے لگی۔ بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں کا اصول ہے کہ خبر کم از کم دو ذرائع سے چیک کی جائے۔ اب میسج بھیجنے والے کے علاوہ کِس سے رابطہ کروں؟ بی بی سی لاہور میں فون کیا تو کوئی تھا ہی نہیں۔ اگلی کال پروفیسر طاہر بخاری کو تھی کہ جن کے بڑے بھائی کی ہم مکتبی کئی دوستوں سے عارف وقار کی ابتدائی شناسائی کا حوالہ بنی۔ بخاری بھی تازہ خبر سُن کر دنگ رہ گئے مگر تسلی دینے کے انداز میں کہنے لگے کہ پتا کرتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  جو فیصلہ ہونا ہے، وہ ہم سب جانتے ہیں

دنیا بھر میں کوئی بھی اہم ذاتی واقعہ رونما ہونے پر عام طور پہ متعلقہ شخص کے نزدیک ترین قرابت دار یا ’نیکسٹ آف کِن‘ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ جیسے کمسن بچوں کا مسئلہ ہو تو والدین سے، شادی شدہ لوگوں کی بابت بیوی یا شوہر، عمر رسیدہ بزرگوں کے معاملے میں بیٹے بیٹیاں، بصورتِ دیگر بہن بھائی یا کوئی اور قریبی عزیز۔ عارف وقار کے اہل و عیال ملک سے باہر رہتے ہیں اور اُن سے وابستگی کی نوعیت پاکستانی معیار کے مطابق، معمول سے ہٹ کر ہے۔

ہاں، دونوں چھوٹی بہنوں اور اُن کے بال بچوں سے عارف کے فطری اُنس اور گہری ذہنی قربت کا مَیں چشم دید گواہ ہوں۔ عارف کے والد اور اپنے وقت کے جید صحافی وقار انبالوی کے دو بیٹے اور بھی ہیں، جن میں سے بڑے ائر فورس میں ایک ستارے والے جرنیل رہے اور چھوٹے پولیس میں اچھے عہدے پہ فائز ہیں۔ ’تو پھر شاہد صاحب، اِس خبر کی تصدیق یا تردید حاصل کرنے میں رکاوٹ کیا تھی؟‘

رکاوٹ کے بارے میں بتانا تو پڑے گا، لیکن خود عارف وقار کو میری داستان گوئی پر یہ اعتراض ہے کہ تم ’پنچ لائن‘ پہلے سنا کر کہانی کا بیڑا غرق کر دیتے ہو۔ اُس وقت میری کیفیت مکمل انجماد کی تھی۔ بی بی سی سے جواب نہ ملنے اور طاہر بخاری کو تفتیشی ذمہ داری سونپ دینے پر اب ایک ہی معقول راستہ رہ گیا تھا کہ عارف کا اپنا موبائل نمبر گھمایا جاتا۔ وہ دفتر کے قریب ایک کوٹھی کے پورشن میں اکیلے رہتے ہیں، جہاں فون اٹھانے والا کوئی اور ہے ہی نہیں۔ مَیں نے سوچا کہ اگر واحد بولنے والا خاموش ملا تو اِس کا مطلب کیا ہوگا؟ میرے خدا، ہم تو کام سے گئے۔

فون کرنے میں مزید تاخیر اِسی لئے ہوئی کہ مَیں انتظار کا دورانیہ لمبا کر کے آس کی ڈوری کو مزید چند منٹ تک ٹوٹا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ پر میرے کنفیوژن کا سبب ایک اضافی پیچیدگی بھی تھی، اور وہ ہے جناب عارف وقار کی وصیت جس پہ اُن کی انفرادیت کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔

جی ہاں، وصیت کا سُن کر آپ کے کان ضرور کھڑے ہوئے ہوں گے۔ اِس سے فائدہ اٹھا کر یہ انکشاف کر ہی دوں کہ بی بی سی کے کاغذات میں، جس سے عارف صاحب آج بھی باضابطہ منسلک ہیں، اِس دنیائے فانی کی دو برگزیدہ ہستیوں کو اُن کی طرف سے ’نیکسٹ آف کِن‘ کے طور پہ نامزد کیا گیا ہے۔ ایک ہیں ’ہم سب‘ کے مدیر اعلی اور میانہ رو نظریات کے سخت گیر پرچارک جناب وجاہت مسعود اور دوسرے آپ کا یہ کالم نویس جسے ’خوش کلامی‘ کا دعوی ہے۔ یہ مت سمجھیں کہ اِس وصیت کی رو سے عارف صاحب کے کوچ کی خبر درست ہونے کی صورت میں، اُن کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد، فیملی پنشن، سٹاک ایکسچینج کے شئیرز اور پرائز بانڈز وجاہت مسعود اور شاہد ملک میں تقسیم ہو جاتے۔ نہیں، حضور‘ مذکورہ دستاویز میں کسی حقیقی یا خیالی جائیداد کا کوئی اشارہ نہیں۔ بس ہم دونوں پہ ایک بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  My son you can,t handle the truth

یہ کیا ذمہ داری ہے؟ سوال کے جواب سے آپ کا ’تراہ‘ نکل سکتا ہے۔ سو، آج میرا دل چاہتا ہے کہ ذمہ داری کی وضاحت غلام فرید صابری کے رنگ میں کی جائے جنہوں نے داتا گنج بخش کے عرس کی ایک محفل کا قصہ یوں بیان کیا تھا : ’’’ مَیں قوالی شروع کرنے لگا تو ایک آواز آئی ( جس کا سورس غالباً قوال کو بھی معلوم نہیں ) کہ غلام فرید، تاجدارِ حرم سناؤ۔۔۔ اللہ۔۔۔ مَیں نے طرز کو بدلا اور ’تاجدارِ حرم‘ کا ماحول بنایا۔۔۔ اللہ ‘ ‘۔۔۔ مَیں غلام فرید نہیں، اِس لئے تاجدارِ حرم کا ماحول کیسے بناؤں؟ بس ذرا یہ پس منظر جان لیجئے کہ ایک دفعہ راولپنڈی آئی ڈونرز آرگنائزیشن کی تقریب میں لیفٹننٹ جنرل طلعت مسعود اور چند دیگر معززین کے دیکھا دیکھی ‘ مَیں نے آنکھوں کے بعد از مرگ عطیہ کے فارم پر دستخط کئے تھے۔ ویسے آج تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ مقررہ وقت پہ تنظیم کو میرے بارے میں کون آگاہ کرے گا اور میری یا جنرل صاحب کی نصیحت پر عملدرآمد کیسے ہو سکے گا۔

تو قوالی کی فضا بن جانے پر اب سنئیے کہ بی بی سی کی دستاویز میں عارف وقار نے کیا وصیت کر رکھی ہے۔ فرماتے ہیں کہ آخری وقت آنے پر اُن کا جسِد خاکی شاہد ملک اور وجاہت مسعود کو دے دیا جائے جو اِسے تعلیم اور ریسرچ کے لئے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کے حوالے کر دیں گے۔ چونکہ حوالگی کا پروسیجر واضح نہیں تھا، مَیں نے صلاح مشورے کے لئے وجاہت کو فون کیا تو سوئے ہوئے پائے گئے۔

بالآخر ہمت جمع کر کے خود عارف کو کال کر دی مگر پہلا نمبر بند ملا اور دوسرا مسلسل مصروف۔ سمجھ گیا کہ اِدھر اُدھر اطلاعات دی جا رہی ہیں۔ اچانک میرے فون کی گھنٹی بجی اور ساتھ ہی طاہر بخاری کی چہک گونجی ’’ ملک صاحب، خبر غلط ہے۔ کسی نے پی ٹی وی مرحومین کی لِسٹ میں عارف صاحب کو بھی شامل کر دیا تھا ‘‘۔ سننے کی دیر تھی کہ طبیعت ہری ہو گئی۔ ایک تو دوست کے زندہ ہوجانے کی خوشی، دوسرے مردانہ جسم خواتین کے کالج کو عطیہ کرنے پہ مفتی پوپلزئی جو فساد برپا کر سکتے تھے، اُس سے بھی جان چھوٹ گئی۔

بشکریہ روز نامہ پاکستان


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔