اسقاط حمل جرم نہیں ہونا چاہیے


برطانیہ میں زچگی کے معروف ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کو ایک جرم کے بجائے طبی معاملے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

فی الحال انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں دو ڈاکٹروں کی منظوری کے بغیر اسقاط حمل کرنا غیر قانونی ہے اور اس میں معاملے میں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

رائل کالج آف آبسٹریٹیشنز اینڈ گائنوکالوجسٹس کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کو دیگر آپریشنوں کی طرح بغیر مجرمانہ دفعات کے ضابطہ کار میں لایا جانا چاہیے لیکن اِس میں 24 ہفتوں کے حمل کی مدت میں تبدیلی نہیں کی جانی چاہیے۔

ڈاکٹروں کی تنظیم برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے جون میں منعقد ہونے والی سالانہ کانفرنس میں اسقاط حمل کو غیر مجرمانہ عمل قرار دینے کی حمایت کی ہے۔

شمالی آئرلینڈ میں اسقاط حمل صرف اس صورت میں کرایا جا سکتا ہے کہ اگر عورت کی زندگی خطرے میں ہو یا پھر اس کی جسمانی یا ذہنی صحت کو مستقل بنیادوں پرخطرہ لاحق ہو۔

رواں سال کے دوران برطانیہ کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو انگلینڈ میں مفت اسقاط حمل کی سہولت فراہم کرے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4924 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp