قانون پوچھے تو دشمنی کا سبب۔۔۔


wisi 2 babaفرنود عالم اور سبوخ سید دونوں سے وسی بابا باقاعدہ جیلس ہے۔ دونوں ہی اچھے نہیں لگتے۔ وجہ صاف اور سیدھی ہے کہ ان جیسا لکھا نہیں جاتا۔ دلی مسرت ہو گی اگر کبھی کارٹون کی طرح دونوں پر ہلکے پھلکے رنگ دار نشانات پڑے ہوں۔ دل چاہتا ہے کہ حسن والوں کے ساتھ ان کی کوئ چیٹ سامنے آ جائے۔

فرنود کے حوالے سے تو ویسے بھی فاروقی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہوں۔ رعایت اللہ فاروقی صاحب پسند ہیں لکھنے کے لئے دھکا بھی انہوں نے دیا تھا، اور بھی بہت دوست تھے جنہوں نے اکسایا ورغلایا لیکن فیصلہ کن دھکا فاروقی صاحب ہی کا تھا۔ خدا کی قدرت سے نا امید نہیں ہوں کسی بھی دن فاروقی صاحب فرنود عالم کو لمبا لٹا کر اس کی تحریر سیدھی کریں گے۔

دلی خباثتوں کے اس اظہار کے بعد عرض یہ ہے کہ آج سبوخ سید کی ایک فریاد نما تحریر دیکھی۔ ایک بہت پاپولر گروپ میں ایک تھکڑ سی فوٹو شاپ کر کے مختلف لوگوں کا ذکر کیا گیا۔ انہیں پرویزی قادیانی کہا گیا۔ پرویزی قادیانی کا فرق جانے بغیر کسی کم علم نے پوری طرح اشتعال انگیزی اور فتنہ پردازی کی۔ قاری حنیف ڈار، سبوخ سید، فرنود عالم، جاوید غامدی صاحب اور بہت سے دوسرے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔

صاحب موصوف نے ایک گھٹیا سی فوٹو شاپ کر کے اپنی جہالت کا ملغوبہ تیار کیا اور بیٹھے بٹھائے کئی لوگوں کو غیرمحفوظ کر دیا۔ ہم بطور قوم ابھی ایک المیہ گزار کر آئے ہیں۔ ممتاز قادری اور سلمان تاثیر کی بحث ابھی گرم ہے۔ جذبات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں، ہم نے عملی طور پر مشاہدہ کیا ہے۔ چار دن نہیں گزرے۔ پھر اتنی غیر ذمہ داری ، انسان کی ذرا کوئی اہمیت ہمارے دل میں نہیں۔

بنیادی سوال ایک ہی ہے کہ ہمارا مقدمہ ہے کیا؟ ہم خود کو حق پر سمجھتے ہیں تو کیا اس سے دوسرے سب گردن زدنی قرار پاتے ہیں۔ سچ کیا ہوتا ہے؟ سچ  کیا اب صرف کتابوں ہی کے لئے رہ گیا ہے؟ اب جھوٹ ہی کا چلن ہو گا؟ سچ کیا صرف ایک ہی ہوتا ہے؟ آمنے سامنے بیٹھے دو لوگوں کا سچ کیا مختلف نہیں ہوتا ؟ کیا دونوں ایک ہی جگہ اکٹھے بٹیھے ایک ہی وقت میں مختلف نظارہ نہیں کر رہے ہوتے۔ کیا ان کے حقائق مختلف نہیں ہوتے۔ آمنے سامنے بیٹھے دونوں لوگ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں جو ان کے مدمقابل کی پشت پر ہوتا ہے اور جسے دیکھنے سے وہ قاصر ہوتا ہے۔

اگر سچ اپنا اپنا ہے تو ہم اسے سننے سے کیوں انکاری ہیں، ایک سادہ سی بات ہم ماننے سے رہ گئے ہیں کہ ہر کوئ اپنا سچ بیان کر رہا ہوتا ہے۔ وہ جب کچھ کہتا ہے تو اپنا علم ماحول اپنے استاد اپنے بزرگ اپنے محلے اپنے علاقے اپنی زبان سب کی نمائندگی کرتا ہے، اپنی ثقافت کی بھی اور اپنے عقائد کی بھی۔

کیا ہم جانتے ہیں کہ ہم ان عربوں سے بھی گئے گزرے ہیں جہاں رسول پاک مبعوث ہوئے تھے جنہوں نے سارے بت توڑ دئیے تھے مٹی کے بت نہیں وہ بت جو دلوں میں تھے۔ ان بدو عربوں نے، جنہوں نے اپنی روایت اور اپنی جہالت اپنی آنکھوں کے سامنے پیغمبر کے اعلان سے مسمار ہوتی دیکھی تھی وہ رسول پاک کو کس نام سے پکارتے تھے۔ وہ جاہل عرب انہیں صادق اور امین کہتے تھے ان جاہلوں میں بھی اتنا ظرف تھا کہ وہ خوبی کا اقرار کرتے تھے۔ ہم شاید اس ظرف کا اندازہ لگانے میں ناکام رہ گئے شاید یہی وہ خوبی تھی یہی وہ دل تھے ان جاہل عربوں کے جس کی وجہ سے ان کی سچائی دیکھتے ہوئے ان پر نبوت رحمت کی گئ۔

ہم ناکام ہیں کہ سچ کا اقرار تو چھوڑیں، ہم دوسروں پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ ظلم کرتے ہیں لوگوں کو وہ بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں جو وہ نہیں ہوتے۔ فرنود عالم، سبوخ سید، قاری حنیف ڈار، جاوید غامدی اور ان سب سے جن پر نازیبا الزام تراشی کی گئی ہے، میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔

پوچھنا بس اب اتنا رہ گیا ہے کہ قانون کدھر ہے؟ وہ قانون جو اندھا بتایا جاتا ہے وہ اندھا کدھر ہے۔ قانون اس الزام کی تحقیق کیوں نہین کرتا؟ ہم کسی سےزیادتی کا مطالبہ نہیں کرتے، لیکن کیا ایک چھوٹا سا جرمانہ بھی نہیں ہو سکتا۔

ہمیں یہ اختلافی آوازیں شاید پسند نہ ہوں لیکن ہمیں انہیں سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ ہم ان سب کو خوش، محفوظ اور آباد دیکھنا چاہتے ہیں، ہر دھمکی اور خوف سے آزاد۔


Comments

FB Login Required - comments