اسپین دیکھتے ہوئے نسیم حجازی یاد نہیں آئے


قریب ایک سال پہلے میں‌ اور میری ایک سائکالوجی کی پروفیسر دوست مل کر اسپین گھومنے گئے تھے۔ وہ کافی دلچسپ سفر رہا خاص طور پر ہمارے بیک گراؤنڈز کی وجہ سے۔ اس نے کیتھولک ہسٹری پڑھی ہوئی تھی اور میں‌ نے مسلم تاریخ۔ اسپینش انکؤیزیشن کا ذکر ک رکے اس کو جھرجھریاں‌ آ جاتی تھیں۔ اس طرح‌ ہم مل کر کہانیوں‌ کو جوڑنے میں‌ کامیاب رہے اور تاریخ‌ کی ایک بہتر مکمل سے قریب تصویر واضح ہوئی۔ میڈرڈ میں‌ ہسٹری بس کا ٹور تین مرتبہ لیا کیونکہ نام اور جگہیں بہت مشکل لگ رہے تھے اور ایک مرتبہ میں‌ سمجھ نہیں‌ آ رہے تھے جس کے لئے ان کو بچپن سے سننا ضروری ہوتا ہے۔ کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے پر بھی ایک بڑا سا مجسمہ بنا ہوا تھا جس کو امریکہ سے آکر دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ دنیا کے پیچیدہ پزل کے مختلف ٹکڑے مل کر ایک تصویر بنا رہے ہوں۔

ہسپانیہ ایک الگ سے بہت بڑی دنیا ہے جس کے اپنے کھانے، تاریخ، کلچر، شاعری اور ادب ہے۔ یہ مشاہدہ کیا کہ کس طرح‌ ٹولیڈو کے چرچ کے اندر کچھ حصے پرانی مسجد کے اب بھی باقی ہیں۔ جو بھی پرانی کتابوں میں‌ اسپین کے لئے لکھا ہے وہ بے شک سچ ہے۔ اسپین بہت خوبصورت ہے اور تین بڑے مذاہب کا مرکز بھی۔ صرف ملک ہی نہیں‌، وہاں‌ کے لوگ بھی بہت خوبصورت ہیں اور وہ بہت اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔ اوکلاہوما میں‌ رہتے رہتے مجھے موٹے اونی پاجامے میں‌ وال مارٹ میں‌ شاپنگ کرتے لوگ دیکھنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ شائد یہ چناؤ کے تعصب کی مثال ہے کیونکہ کلینک میں وہی لوگ دکھانے آتے ہیں جن کو مٹاپا اور ذیابیطس یا اور کوئی اینڈوکرائن بیماری ہو۔ لندن بھی گئے تو کہیں‌ موٹے لوگ نہیں‌ تھے، چوتھے دن ایک موٹی خاتون نظر آئیں جو امریکہ سے گھومنے آئی ہوتی تھیں۔ امریکہ میں‌ مٹاپا حد سے بڑھ گیا ہے۔ 35 فیصد آبادی مٹاپے کا شکار ہے جس کی بڑی وجہ سب اربن (مضافاتی) لائف اسٹائل اور زیادہ کارب اور کیلوریوں‌ کی خوراک ہے۔ ذیابیطس دنیا میں بڑھ رہی ہے اور ہماری فیلڈ میں‌ کام کرنے والے سکڑ رہے ہیں۔ یہ مضمون پڑھنے والے افراد سے گذارش ہے کہ ضرور خود کو اور باقی نوجوان لوگوں‌ کو بھی اس فیلڈ میں‌ کام کرنے پر ابھاریں۔

ٹولیڈو سے اپنی فیملی کی ساری لیڈیز کے لئیے چاندی کے نیکلس خریدے، جو ہاتھ سے بنائے ہوئے ہیں۔ اس کی شیپ گول چپٹی ہے جیسے ڈھال ہو۔ وہ اس جگہ کی یاد سے جڑا ہوا ہے۔ الحمرا دیکھنے کی بہت خواہش تھی لیکن وہ بہت پاپولر ہے اور ٹؤر دو مہینے پہلے سے بک کرانا ہوتا ہے اس لئے ہم وقت پر بک نہیں کرا سکے۔ آلی کانتے میں‌ ہماری کولمبین دوست اور اس کے اسکاٹش شوہر کے ساتھ ڈنر کر کے جب اپنے ہوٹل پہنچے تو رات کافی ہوچکی تھی اور باہر کافی گھپ اندھیرا تھا۔ سمندر کی آواز قریب سے آ رہی تھی۔ جب صبح‌ ہوئی تو کھڑکی سے پردہ ہٹایا۔ اتنے قریب سمندر کی لہریں‌ دیکھ کر مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی۔ وہ کتنا خوبصورت دن تھا!

میڈی ٹرینین سمندر (بحیرہ قلزم) کے کنارے ایک ریسٹورینٹ میں‌ گئے جہاں‌ بالکل تازہ مچھلیاں اور جھینگے کھائے جن کو پچھلی رات ہی سمندر سے پکڑا گیا تھا۔ تازہ کالاماری ربڑ جیسی نہیں تھی جیسے اوکلاہوما میں‌ دیگر ریاستوں سے فروزن آئی ہوئی ملتی ہے۔ کبھی کبھار اوٹ پٹانگ قوانین کتابوں‌ کا حصہ ہوتے ہیں اور لوگ نسل در نسل ان کو ٹھیک یا بہتر نہیں‌ بناتے۔ کیا معلوم آپ میں‌ سے کوئی اوکلاہوما گھومنے آئیں، اس لئے یہ احتیاطی تدبیر بتا دوں‌ کہ یہاں‌ میئر کے گھر کے باہر اپنا گھوڑا باندھنا غیر قانونی ہے اور کتے کو دیکھ کر بری شکل بنانا بھی۔ اوکلاہوما کے قانون میں‌ ایسی مزاحیہ شقیں‌ آج بھی موجود ہیں جن میں‌ سے ایک یہ ہے کہ یہاں وہیل مچھلی کا شکار منع ہے۔ جن لوگوں‌ کو جغرافیے کا زیادہ اندازہ نہیں، ان کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اوکلاہوما امریکہ کے مرکزی حصے میں‌ ہے جہاں‌ سے اوپر نیچے، دائیں‌ بائیں سمندر بہت دور ہیں اور دوسری ریاستوں‌ میں ہیں۔ مشرق میں سمندر دیکھنے نیویارک جائیں گے، مغرب میں‌ کیلیفورنیا اور نیچے جنوب میں‌ ٹیکساس اور اوپر نارتھ میں کینیڈا۔ میرے خیال میں‌ یہ قانون کی کتاب ایک مختلف وقت اور جغرافیائی علاقے سے اٹھا کر اوکلاہوما کے سر پر پٹخ‌ دی گئی تھی اور وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتی اگر اس بات کو سمجھا نہ جائے۔ کسی کو اپنی پوری زندگی کو اس ایک مقصد پر کھپانا ہوگا۔ کے جی سے ہائی اسکول مکمل کریں‌ گے، پھر کالج جائیں گے، لا اسکول جائیں گے، خود تاریخ اور حال پر غور کریں گے، یہ بل لکھ کر پیش کریں‌ گے، اس پر ووٹ لئے جائیں گے، پھر جاکر یہ دو لائنیں ٹھیک ہوں گی۔ اس سے پڑھنے والے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دنیا اگر ایک بڑی گھڑی کی مانند ہے تو اس کی ایک سوئی کو بھی ہلانا کتنا مشکل کام ہے۔ یہ سب خود بخود نہیں‌ ہوتا۔

اتنی دور سے ایک کونے میں‌ لوگوں‌ کو رہ کر لگتا ہے کہ پتا نہیں دنیا کتنی خوفناک جگہ ہے اور اس میں‌ کتنے خوفناک لوگ رہتے ہوں‌ گے۔ حالانکہ اصل میں‌ ایسا کچھ بھی نہیں‌ ہے۔ میری دوست ایک شام بہت اداس لگ رہی تھی اور ہم باہرکھانا کھانے جا رہے تھے۔ اسپین میں‌ ایک دیسی صاحب پھول بیچ رہے تھے۔ پرس میں‌ اس وقت چار یورو بچے ہیں، آپ چار یورو میں‌ میری دوست کے لئیے یہ پھول دے دیں۔ انہوں‌ نے ٹوٹی پھوٹی انگلش میں‌ کہا، آپ انڈین؟ جی نہیں‌ پاکستانی! انہوں‌ نے کہا کہ میں‌ بنگلہ دیشی، آپ کو صرف اس لئے کم پیسوں‌ میں‌ دے رہا ہوں‌ کہ آپ پاکستانی ہیں، چار یورو لے کر انہوں نے پھول دے دیے۔ ہمارے امریکی پڑوسی کتنے اچھے ہیں۔ ایک مرتبہ سامنے والا ایک درخت مر گیا تو انہوں نے خود سے ہی اس کو ہمارے لئیے کاٹ دیا اور شاخیں کوڑے کے ساتھ رکھ دیں۔ انڈیا، اسپین اور امریکہ دیکھ کر یہ بتا سکتی ہوں‌ کہ جہاں بھی لوگوں کے معاشی حالات ٹھیک ہوں اور ان کا رہنا سہنا، زبان، کھانا پینا ملتا جلتا ہو، وہاں وہ ایک دوسرے کا سر کم پھاڑتے ہیں اور اچھے طریقے سے مل جل کر رہتے ہیں۔ دوسرے لوگوں سے ہم کتنے مختلف ہیں، اس کے بجائے اس بات پر بھی تو غور کیا جاسکتا ہے کہ ہم میں‌ مشترک باتیں‌ کون سی ہیں۔

اسپین بہت اچھا تھا اور وہاں ہر روز مختلف طرح‌ کا پائلا کھایا جو کہ اس علاقے میں‌ مختلف تہذیبوں‌ کے امتزاج سے بنی ہوئی چاول کی ڈش ہے۔ وہ بھی کھیر کھاتے ہیں اور اس کو “ایروز کان لیچے” جس میں‌ ر کو زبان گھما کر رڑ کی آواز میں‌ کہا جائے، فینسی نام سے پکارتے ہیں اور اس پر دار چینی پیس کر چھڑک دیتے ہیں۔ میڈرڈ یونیورسٹی کے پاس سے گذری جہاں پکاسو پڑھنے گئے تھے۔ پراڈا میوزیم دیکھ کر کسی بھی انسان کا دماغ گھوم جائے گا۔ طاقت ور آرٹ اپنی گرفت میں‌ لے لیتا ہے اور اس کو کبھی جھٹک نہیں پائیں گے۔ اگلی بار بارسلونا جائیں گے۔ وہ تصویروں‌ میں بہت خوبصورت لگتا ہے۔

دنیا ایک حیرت کدہ ہے۔ ہم سب انسان انفرادی طور پر دنیا کو صرف اپنی آنکھوں‌سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان کے احساسات، جذبات اور مسائل کو آسانی سے نہیں ‌سمجھ سکتا ہے۔ پھر اگر یہ انسان کسی اور وقتوں کے ہوں‌ یا ہمارے ماحول سے کہیں‌ دور رہتے ہوں تو پھر ہمیں‌ ان کو سمجھنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ زبان سیکھنے سے، لکھنے اور پڑھنے سے اور کہانیاں‌، موسیقی اور گیتوں سے انسان ایک دوسرے کے حال کو جاننے لگے، پھر آج کے دور کی ایجاد انٹرنیٹ کے زرئعیے دنیا بھر کے انسان ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کے لائق بنے جس کی وجہ سے ایمپتھی یعنی دوسرے انسانوں‌ پر بیتنے والے حالات کو سمجھنے میں‌ مدد ملی۔

جب ہم لوگ ایڈمنڈ میں‌ رہتے تھے اور میرے سسر ابھی زندہ تھے تو دس سالہ نوید نے پوچھا کہ میں‌ دادا کے ساتھ فلاں اسٹور چلا جاؤں؟ اس سے کہا کہ کتنی دھوپ ہے، تم لوگوں‌ کو گاڑی میں‌ لے جاتی ہوں تو اس نے کہا نہیں‌ امی باہر بہت سے شیڈی ٹریز ہیں۔ اس کی بات سن کر میرے ذہن میں‌ اس شعر کا خیال آیا,

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے

شجر سایہ دار راہ میں‌ ہیں

کیا ایسا ممکن ہے کہ سب کچھ سوچا اور سمجھا جا چکا ہے اور ہم انسان ری سائکل ہو رہے ہیں؟

ارے ایک بات بتانا تو بالکل بھول گئی۔ مجھے اسپین دیکھتے ہوئے نسیم حجازی بالکل یاد نہیں آئے۔ ​


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔