دشمن سے بات کیسے کریں!


mujahid ali پاکستان کا دورہ کرنے والے برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمونڈ نے پاکستانی حکومت کو وہی مشورہ دیا ہے جو پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغان حکومت کو دیا ہے۔ مفہوم ان دونوں مشوروں کا یہ ہے کہ افغانستان طالبان سے اور پاکستان بھارت سے کسی شرط کے بغیر مذاکرات کا آغاز کریں۔  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جو کام افغانستان کے لئے ضروری سمجھتا ہے، وہی خود اپنے لئے غیر ضروری اور کسی حد تک اشتعال انگیزی پر مبنی مشورہ سمجھے گا۔ اس لئے امکان تو یہی ہے کہ نہ پاکستان برطانیہ کے جہاندیدہ وزیر خارجہ کی بات کو دھیان سے سنتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا اور نہ ہی افغان حکومت سرتاج عزیز کی بات کو کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار ہوگی۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگر پاکستان کے قوم پرست اور ملکی مفاد کے محافظ دانشوروں اور لکھاریوں کویہ بات سمجھ آگئی کہ سرتاج عزیز خاموشی سے فلپ ہیمونڈ کا یہ مشورہ سنتے رہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے کشمیر تنازعہ پر بات کرنے کی پیشگی شرط عائد نہ کی جائے تو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں سرتاج عزیز کی سفارتی مہارت، سیاسی استعداد اور ذہنی حالت پر گفتگو ہونے لگے۔ پاکستان نے انہی عناصر کی پشت پناہی سے ساٹھ برس سے زائد مدت تک ’’کشمیر پہلے‘‘ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ جنگ کرنا تو قبول کیا ہے لیکن بات کرنا گوارا نہیں کیا۔ اسی لئے وزیر اعظم نواز شریف کو اس بات کا طعنہ سننا پڑتا ہے کہ وہ اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لئے بھارت کی ہٹ دھرمی کے باوجود اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر بنانے اور بات چیت شروع کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔

پاکستان میں بھارت دشمن لابی کے نزدیک اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے بھارت کو کشمیر کے تنازعہ کا کوئی ایسا حل تسلیم کرنے پر آمادہ کرلے جس میں کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہو اور پاکستان اور بھارت کی اعلان شدہ پالیسیوں کا بھی بھرم رہ سکے۔ اگرچہ دنیا کے سارے دانشور اور جنگی اور سفارتی ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور یہ کوشش بھی کرتے رہتے ہیں کہ مذاکرات ہی مسائل حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ سب سے مشکل بات یہ ہوتی ہے کہ کسی تنازعہ کے فریقین کو بات چیت کی میز پر لایا جا سکے۔ جب متحارب فریق ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر ایک دوسرے کو دیکھنے اور معاملہ کو مختلف تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو مسئلہ کا کوئی نہ حل تلاش کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔ اسی لئے بات چیت پر آمادگی کو کسی بھی تنازعہ کے حل کے لئے نصف کامیابی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک دوسرے کو براہ راست بات سمجھا کر ہی معاملہ کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں مناسب طریقے سے سمجھایا جا سکتا ہے جو بصورت دیگر ممکن نہیں ہوتا۔ یوں بھی دنیا نے ماضی قریب میں چھوٹی بڑی جتنی بھی جنگیں دیکھی ہیں، ان میں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی معاملات طے پا سکے ہیں۔ ان میں سب سے اہم افغانستان اور عراق پر مسلط کردہ امریکی جنگیں تھیں۔ ان دونوں جنگوں میں خود کو دنیا کی واحد سپر پاور کہلانے والے ملک کو آخرکار بات چیت کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑا۔ عراق سے امریکی فوجوں کا انخلا مقامی گروہوں کے ساتھ بات چیت اور انہیں اقتدار منتقل کرنے سے ہی ممکن ہوا۔ افغانستان میں بھی امریکہ اور دیگر بڑی طاقتیں ایسا ہی باعزت راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کیوں کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت اور کثیر مالی وسائل کے باوجود عسکری طریقے سے جنگ جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے چند خرد مند یہ دلیل لاتے رہتے ہیں کہ طالبان اور افغان حریت پسندوں نے سوویت یونین کے بعد اب امریکہ کو بھی ناکوں چنے چبوا دئے ہیں (یا شکست دی ہے)، لیکن اس کے باوجود اس بات کی سچائی اور اصابت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ دشمن بڑا ہو یا چھوٹا، معاملہ طاقت اور صلاحیت کا نہیں ہے۔ یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جنگ اور تصادم کسی مسئلہ کا حل نہیں اس لئے جتنی جلد ممکن ہو بات چیت کے ذریعے معاملات طے کئے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں براہ راست تصادم سے گریز کرتی ہیں اور کوئی ایسی صورت پیدا نہیں ہونے دیتیں کہ جنگ کا خطرہ لاحق ہو۔شام کے تنازعہ کی مثال ہم سب کے سامنے ہے۔ روس کی مداخلت کے بعد امریکہ اور اس کے حلیفوں نے پیچھے ہٹنا اور بات چیت کے ذریعے بشار الاسد سے معاملات طے کرنا مناسب سمجھا۔ حالانکہ امریکہ بشار کی حکومت کے خلاف ہے اور اب تک اس بات پر اصرار کررہا ہے کہ شام کے حتمی حل کے لئے شامی صدر کو اقتدار چھوڑنا ہوگا اور وہ کسی نئے سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تاہم یہ مقصد اب جنگ اور تنازعہ کی بجائے جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عقل کی یہی بات سرتاج عزیز کابل حکومت کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ طالبان کو بات چیت پر آمادہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے سامنے غیر ضروری شرائط نہ رکھی جائیں۔ اس طرح فاصلہ اور بداعتمادی میں اضافہ ہوگا اور وہ مزید ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی طرف سے نئی شرائط پیش کریں گے اور یہ خانہ جنگی جاری رہے گی۔ تاہم کابل میں سیاسی اقتدار میں شریک مختلف دھڑے خود اپنی سیاسی اہمیت میں اضافہ کرنے کے لئے اصل مقصد یعنی افغانستان میں پائیدار امن کے لئے کام کرنے کی بجائے، اس بات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر کے خود کو زیادہ بڑا قوم پرست ثابت کرسکیں۔ اس چپقلش کی وجہ سے ہی بھارت کو افغانستان کے راستے پاکستان سے اپنی دشمنی نکالنے کا موقع مل رہا ہے۔ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کا تیر بہدف نسخہ بھی وہی ہے جو سرتاج عزیز افغان حکومت کے لئے تجویز کررہے ہیں ، یعنی پاکستان ، بھارت کو افغانستان یا دوسرے محاذوں پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہونے سے روکنے کے لئے اسے مذاکرات کی میز پر لے آئے۔ اس مقصد کے لئے کوئی پیشگی شرائط نہ رکھی جائیں تاکہ ایک بار بات چیت کا بامقصد سلسلہ شروع ہو سکے۔ مذاکرات کا مقصد ہی ہوتا ہے کہ تمام اختلافی امور پر غور کرکے کوئی قابل عمل حل تلاش کیا جا سکے۔ تاہم بھارت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا سب سے بڑا فائدہ خود پاکستان کو یہ ہوگا کہ بھارت کو افغانستان میں ریشہ دوانیاں ختم کرنا پڑیں گی اور بلوچستان میں قوم پرستوں کی اعانت اور سرپرستی سے دست کش ہونا پڑے گا۔ اسی ممکنہ صورت میں افغانستان میں مستقل امن بھی قائم ہو سکے گا اور پورے خطے میں مسلسل جنگ کی کیفیت بھی ختم ہو جائے گی۔ ان حالات کے پیش نظر ہی برطانوی وزیر خارجہ نے پاکستان کو پیشگی شرائط عائد کرنے اور کشمیر کو ایجنڈے پر سرفہرست رکھنے کے مطالبہ سے دست بردار ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ کیا سرتاج عزیز جو اس اصول کو افغانستان کے معاملہ میں تسلیم کرتے ہیں بلکہ اس کی وکالت کررہے ہیں، پاک بھارت بات چیت کے لئے بھی اسے رہنما اصول منوانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ بظاہر ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن بدقسمتی سے اس صورت حال میں پاکستان ہی سب سے زیادہ خسارے میں رہے گا۔

کشمیر کا معاملہ حساس معاملہ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ بھارت نے زبردستی اس خطے پر قبضہ کیا اور وہاں تحریک آزادی کو دبانے کے لئے طاقت کا بے جا اور جارحانہ استعمال کیا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے استصواب کا اصول ماننے کے بعد بھارت اس سے منحرف ہو گیا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان نے جہادی مہم جوئی کے ذریعے کشمیر میں انقلاب برپا کروانے کی کوشش کرنے کے علاوہ اس ضد پر قائم رہ کر کہ کشمیر پر بات کئے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے، اس معاملہ کو گزشتہ چار دہائیوں سے تعطل میں ڈالا ہؤا ہے۔ اس دوران اس خطہ میں رونما ہونے والے حالات کی وجہ سے پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کا سامنا کرنا پڑا اور دنیا نے اس دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان پر اعتبار کرنا چھوڑ دیا۔ اس صورت کو تبدیل کرنے کے لئے قومی بیانیہ تبدیل کرنے، کشمیر کے تنازعہ کو نئے تناظر میں دیکھنے اور آگے بڑھنے کا راستہ کھوجنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ گزشتہ کچھ عرصہ میں کچھ مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں لیکن مسائل گمبھیر و پیچیدہ اور وقت محدود ہے۔ بھارت ایک بڑا اور طاقتور ملک ہونے کے علاوہ عالمی سطح پر زیادہ قابل قبول ملک ہے۔ دنیا سفارتی سطح پر اس کا بھروسہ کرتی ہے اور نریندر مودی جیسے انتہا پسند ہندو لیڈر کے وزیراعظم بننے کے بعد بھی اس صورت حال میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کے برعکس پاکستان پر اعتبار کی سطح بہت کم ہے۔ عام طور پاکستان سے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بھروسہ کیا جائے تو یہ یا وہ کام کرکے دکھائیں۔ دنیا بھارت سے ایسا مطالبہ نہیں کرتی۔ یہ صورت حال تکلیف دہ ہے ۔ پاکستان میں اسے امریکہ کا ڈو مور Do More کا رویہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس پر احتجاج اپنی جگہ مگر یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ یہ حالات کیوں پیدا ہوئے اور عالمی سطح پر ملک کا اعتبار بحال کروانے کے لئے کیا اقدام کئے جا سکتے ہیں۔ بھارت سے غیر مشروط مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا ایک ایسا متبادل ہو سکتا ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذاکرات سے بھارت بھاگتا ہے لیکن ہمارا چیلنج بھی یہی ہے کہ اسے بھاگنے نہ دیا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم مذاکرات کی بات کریں اور دنیا کو باور کروا سکیں کہ ہم بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ لیکن بات چیت کے لئے شرائط عائد کرکے ایسے مؤقف کی سنجیدگی کو قبول کروانا ممکن نہیں ہوسکتا۔

بلاشبہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بعض گروہوں کی حمایت حاصل ہے لیکن اب یہ بات سمجھنے کی ضرورت بھی ہے یہ گروہ اس وقت نئی دہلی کے مقابلے میں قوت حاصل کرنے کے لئے پاکستان سے تعلق قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر واقعی استصواب کی بات پر اتفاق ہوگیا تو یہی گروہ ضروری نہیں کہ پاکستان کا ساتھ دیں۔ آزاد کشمیر میں خود مختار کشمیر کے لئے کام کرنے والے عناصر اور پاکستان کو بھی کشمیری سرزمین پر بھارت کی طرح کا ہی قابض ملک سمجھنے والے لوگوں کی موجودگی سے مستقبل کی صورت حال کے بارے میں سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ کشمیر اہم معاملہ ہونے کے باوجود اب پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ بھارت کے ساتھ پانی کی منصفانہ تقسیم کا معاہدہ اور جنگی حالات ختم کرنا، موجودہ حالات میں زیادہ اہم ہے۔ اور پاکستان کے وجود اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔ لیکن ہمارے قومی بیانیہ میں اس پہلو سے معاملات کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اسی لئے کشمیر بدستور واحد اور بنیادی مسئلہ کی حیثیت سے پیش ہوتا ہے۔ بدلتے حالات اور ضرورتوں کے ساتھ قدیمی مؤقف پر اصرار قومی مفاد سے گریز کے مترادف ہے۔ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ہوسکتا ہے کسی سطح پر کسی پاکستانی حکومت کو یہ بات سمجھ آ سکے لیکن اس وقت تک حالات زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔ اس لئے فوری طور پر کشمیر پر اپنا مؤقف تبدیل کئے بغیر یہ تو کیا جا سکتا ہے کہ غیر مشروط مذاکرات کی بات مان لی جائے۔ لیکن پاکستان میں ایسے عناصر طاقتور اور مؤثر ہیں جو حکمت عملی کی اس تبدیلی کو قومی غداری قرار دے کر حکومت گرانے کی بات کر سکتے ہیں۔ اس لئے اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے کہ کیا اسلام آباد میں کبھی ایسے حکمران برسر اقتدار آسکیں گے جو عوام کو وسیع قومی مفاد سے آگاہ کرتے ہوئے دشمن سے بات چیت کرنے اور معاملات طے کرنے پر آمادہ کرسکیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali