ہیڈ ماسٹر صاحب کا نسخہ خاص


انیسویں صدی میں فرنگیوں نے سکھوں کو پنجاب کے اقتدار سے بے دخل کیا اور زمام اقتدار سنبھالی، اب نجانے ان کے دماغ میں کہاں سے یہ فتور سمایا کے پنجاب کے لوگوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے۔ انہی مساعی کے نتیجہ میں ہمارے گاؤں کا پہلا پرائمری سکول 1850 عیسوی کے لگ بھگ وجود میں آیا۔

پچھلے پونے دو سو سال سے گاؤں کی متعدد نسلیں اس سکول سے فیضیاب ہو چکی ہیں۔ ہم نے بھی پرائمری تک تعلیم اسی مادر علمی سے حاصل کی۔

سکول کیا تھا دو کمرے اور دو برآمدے تھے دو طرف، درمیان میں صحن تھا جس کے بیچوں بیچ برگد کا ایک بوڑھا درخت تھا۔ شمالی برآمدے کے کونے پہ جو کمرہ تھا وہ دفتر کا کام دیتا۔ ایک عمر رسیدہ میز اور اس کی رفیقِ کار چند ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، یہ تھا دفتر کا کل اثاثہ۔ ایک دیوار پہ ضلع سرگودھا کا نقشہ آویزاں تھا اور ایک دیوار پہ دنیا کے سات براعظم ٹنگے تھے۔

اسی دفتر میں ہیڈماسٹر چراغ دین آتے، کنڈی لگاتے، دھوتی کی آزادی سے با امر مجبوری ہاتھ دھو کر شلوار کی قید میں گھس جاتے کہ سرکار نے سکول میں اساتذہ کے دھوتی پہننے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

برف سفید خشخشی داڑھی بڑھاپے کی دہلیز کہیں قریب تھی پر ارادے جوان تھے۔ کلاس پڑھا کر دفتر میں جاگھستے اور حکیموں کی ضخیم اور نایاب کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے، ان کتابوں میں جذبوں کو جواں رکھنے والے نسخے تلاشتے رہتے۔

کہیں سے ایک نسخہ ان کے ہاتھ لگا۔ انہوں نے ہماری کلاس کے دو شریر ترین لڑکوں فخرو ماچھی اور قاسو میراثی کو دفتر میں طلب کیا اور ان کے حوالے دو تیز دھار کے لمبے پھل والے چاقو کیے۔ ان کی ڈیوٹی یہ تھی کہ انہوں نے پورے گاؤں کی گشت کرنی ہے اور جہاں بھی دو آوارہ کتوں کی جوڑی فریضہ زوجیت ادا کرتی نظر آئے ان کی دمیں کاٹ لیں۔ ماسٹر جی نے وہ دمیں کس کشتہ خاص میں استعمال کرنی تھیں۔

فخرو اور قاسو کو تو دلچسپ مشغلہ ہاتھ آ گیا۔ سارا دن گاؤں میں آوارہ گرد ی کرتے، گلچھرے اڑاتے۔ بابے قادرے سے لے کر پکوڑے کھاتے۔ پانچ روپے سینما پہ فلمیں دیکھتے، خوب عیاشی کرتے اور چھٹی کے وقت ناکام و نامراد لوٹتے۔ ادھر ہماری بھی عیاشی لگی ہوئی تھی سارا دن ماسٹر چراغ دین بے چیینی سے ان کے انتظار میں کاٹ دیتے۔ ہمیں پڑھائی سے فراغت تھی، ہمارا سارا دن کھیل کود میں گزر جاتا۔ ایک دن کسی عاقبت نا اندیش نے فخرو اور قاسو کی شکایت کر دی۔ ماسٹر چراغ دین کو تو جیسے آگ لگ گئی، خوب تلملائے، چراغ پا ہوئے۔ بڑی مشکل سے چھٹی تک ان کا انتظار کیا۔ وہ دونوں لوٹے تو لگے دھاڑنے، جتنی گالیاں ان کے حافظے میں محفوظ تھیں وہ ان دونوں کو بشمول ان کے آباء و اجداد کو بخش دیں۔ منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ چہرہ تیش سے لال بھبوکا ہو گیا۔ ماسٹر جی نے کان پکڑوا کر دونوں کو برگد کے اردگرد ریس لگانے کا حکم دیا جو پیچھے رہ جاتا اس کی تشریف اپنے ملتانی کھسے سے لال کرتے۔ اس دن جب بڑی مشکل سے جان چھوٹی تو فخرو اور قاسو نے پیچھے مڑ کر سکول کے دروازے کی طرف نہیں دیکھا۔ فخرو ماچھی نے فروٹ کی ریڑھی لگا لی اور قاسو میراثی آرے پہ پیٹیاں ٹھونکتا ہے۔

اب اتنے برس بعد مڑ کر دیکھتے ہیں تو ایک سوال اٹھتا ہے کہ فخرو ماچھی اور قاسم میراثی کے لئے محنت کر کے روٹی کھانا اچھا تھا یا ہیڈ ماسٹر کے نسخہ خاص کے لئے آوارہ کتوں کے حساس معاملات میں مداخلت بے جا۔۔۔۔؟ رہی تعلیم تو اس کی اہمیت تو نہ تب معلوم تھی اور نہ آج کسی نے پہچانی۔۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔