آج کا کربلا اور ھـــل من ناصـــر ینصـــرنا کی صدا


ایک تصویر ہے جس میں میاں افتخار حسین اپنے اکلوتے بیٹے کی قبر کے سامنے بیٹھے ہیں۔ ایک تصویر ہے جس میں مشال کے والد اپنے جوان بیٹے کی قبر کو سلام کرتے ہیں۔ دونوں تصاویر میں بوڑھے باپ ہمت اور جرات کی تمثیل دکھائی دیتے ہیں مگر کیا ان کے دل کا حال کوئی جان سکتا ہے؟ ایسے کئی باپ ہیں جنہوں نے اپنے جوان بیٹے جنونیت کے ہاتھوں کھو دیئے مگر ہمیں نہیں پتہ کیونکہ ہم نے ان کی تصویر نہیں دیکھی۔ ایسے کئی خاندان ہیں جنہوں نے اپنے مذہب، فرقے، سیاست یا پیشے سے وابستگی کی قیمت اپنے بچے گنوا کر ادا کی مگر کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ چوہدری نثار کہتے ہیں ملک کو سخت خطرہ لاحق ہے مگر کس سے؟ یہ نہیں بتاؤں گا۔ کہتے ہیں اپنا گھر ٹھیک کرنے کا نام بھی مت لو ورنہ جگ ہنسائی کا موقع دو گے۔

جگ ہنسائی کا سبب بن چکے ہیں مگر قبول کرنے میں اب بھی انا حائل ہے۔ شیرون مسیح ایک اسکول کا طالب علم تھا۔ ساتھی طالب علم اسے دھمکاتے ہیں کہ ہمارے گلاس میں تم پانی نہیں پی سکتے۔ استاد اسے ‘چوہڑا’ کہہ کر تمسخر اڑاتا ہے یا شاید اپنا کھوکھلا ایمان تازہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بار بار کی دھونس دھمکی سے گھبرا کر وہ اسکول چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ مگر وہ ایک دن جو اس کا آخری دن تھا قسمت اسے اسکول یا اس کی مقتل گاہ لے جاتی ہے۔ وقفے میں وہ فرار کی کوشش بھی کرتا ہے مگر ساتھی ‘طلبہ’ یا مشتعل قاتل اسے مار ڈالتے ہیں۔ یہ قصہ ہے پنجاب کا جہاں آئے دن اسلام زندہ ہوتا رہتا ہے اور کسی نہ کسی گھر کو کربلا بنا دیا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب واٹس ایپ کی پرائیویٹ گفتگو پر بھی فیصلہ آسکتا ہے۔ جی ہاں! یہ معیار بھی سیٹ کر دیا گیا۔ ایک جانب تو کسی کو واٹس ایپ پیغام کی بنیاد پر زندان کے حوالے کیا جاتا ہے تو دوسری طرف سانحہ بلدیہ پہ جے آئی ٹی نے صفحوں پہ صفحے بھر دیئے مگر 300 خاندانوں پہ قیامت کون لایا آج تک کسی کو سزا نہ دی جا سکی۔ کروڑوں روپے کس نے ہضم کیے، کون ملوث تھا؟ یہ تک تعین نہ ہو سکا۔ وہ 300 غریب تھے۔ پسے ہوئے اور محروم۔ ان کا تعلق کسی شاہی گھر سے نہ تھا اس لئے کوئی سونے کا دل ان کے لیے نہیں دکھتا ہو گا تو یوں یہ مقدمہ بھی چلتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پناہ مانگتا ہوں بلوچ ماں کے سوال سے

شیرون کو اس گلاس میں پانی پینے سے منع کیا گیا تھا جس میں مسلمان طالب علم پانی پیتے تھے۔ ایک اور ایسا ہی واقعہ جس میں عیسائی خاتون کو پانی پینے سے منع کیا گیا تھا، اگر نام لوں تو کیا مجھے بھی سلمان تاثیر کی موت ملے گی؟

آپ سب کو شاید یاد ہو یا نہیں مگر ایک عیسائی جوڑا جسے بھٹی میں ڈال کر جلایا گیا تھا۔ ان دونوں افراد کو بھٹی کی نذر کرنے سے پہلے ان کے ہاتھ پیر توڑے گئے، پھر انہیں روئی میں لپیٹا گیا تا کہ روئی جلدی آگ پکڑے اور جلد سے جلد ایمان کا بول بالا ہو۔ اس بدنصیب خاتون کے رحم میں ایک معصوم بے قصور اور تھا۔ جب میں نے اس پر بلاگ لکھا تو ایک صاحب نے مجھے دنیا کی بدترین فحش گالیاں دے کر لبرل ایجنٹ کا خطاب دیا۔ میں نے حسب روایت انہیں کوئی جواب نہ دیا۔ اس وقت ایسے کیسز پہ بات کرنے کا مطلب تھا خود دوسروں کو دعوت دینا کہ آ جاؤ میری جنت دوزخ کا فیصلہ کر لو۔ مگر آج آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اب اس جنونیت کی خبر بننے لگی ہے۔

جب یوم عاشور آیا۔ امام حسین رضی اللہ عنہہ نے پوچھا، ھـــل من ناصـــر ینصـــرنا ؟ (کون ہے جو میری مدد کرے؟) اور آج کئی سال بعد بھی کئی نسلیں گزر گئیں لیکن سب کا ایک ہی جواب ہے !! “لبیک یا حسینؑ”۔ محرم کے مہینے میں جگہ جگہ امام عالی مقام کی پیاس کی شدت کو یاد کر کے سبیلیں لگائی جاتی ہیں کہ وہ شہدائے کربلا پانی کے قطرے کو ترستے رہے مگر آج ہم نے اپنے سلامتی والے مذہب کو ہی وحشت اور ظلمت سے تعبیر کر دیا۔ اپنی جہالت اور کم علمی اپنی نسلوں کو منتقل کرتے رہے اور آج کبھی اپنا سر پیٹتے ہیں اور کبھی سینہ۔ انسانیت کی تذلیل کی جو بنیاد کسی کو پیاسا مار کر رکھی جائے اس سے کونسا ایمان تازہ ہو گا یا کونسی جنت ملے گی؟ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ مشال فریاد کر رہا تھا کہ اسے کوئی پانی دے۔ شیرون کو کسی نے پانی نہ دیا کہ وہ ‘چوہڑا’ تھا۔ ایسے ہی چوہڑے کا رنگ سفید ہوتا، جیب میں مال بھرا ہوتا اور وہ کسی گاڑی سے اترتا تو سب اسے سر، سر کہتے۔ عبدالستار ایدھی نے کیا خوب سچ کہا تھا کہ اصل فرق امیر اور غریب کا ہے، باقی کوئی فرق نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  فرد کی آزادی، عقیدے کا احترام اور ننھے عزاداران

جب بھی کسی مظلوم کا جسم چاہے اسے بھٹی میں جلایا جائے یا وہ بہہ کر ساحل کو چھو جائے یا اسے جنونیت چاٹ جائے؛ یا وہ کاری کے قبرستان میں ہو، یا وہ زیادتی کے بعد نسیں کاٹ کر پھینک دیا جائے یا اسے جرگہ کے حکم پر کرنٹ لگا کر مارا جائے، یا وہ غیرت کے نام پر کنویں میں ہو یا گستاخی کے الزام میں زمین پہ گھسیٹے جائیں؛ جب ظلم اپنی حدوں کو چھوتا ہے تو کرب و سوز کی فضا میں کہیں دور سے صدا آتی ہے ‘ھـــل من ناصـــر ینصـــرنا ؟’ مگر اس صدا کا جواب دینے کے لئے پہلے اپنی سماعتوں کو اس لائق بنانا ہے کہ ہم یہ صدا سن سکیں۔ آج ہر طرف کربلا بنا کر ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی اور آکر سب ٹھیک کر دے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کو اپنا نصاب، اپنی نیت اور اپنے اعمال آج سے ٹھیک کرنے پڑیں گے ورنہ ہم اپنے اپنے کربلا میں کسی کو مدد کے لئے پکار رہے ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔