لوگ مختلف کیوں ہوتے ہیں


“بابا! بابا مجھے ہمیشہ زندہ رہنا ہے ” بیٹی نے پر جوش انداز میں اپنے والد سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

والد نے مسکراتے ہوئے کہا : ” بیٹا! اس دنیا میں ہر چیز کو زوال ہے۔ ہر چیز فنا ہو جانے والی ہے۔ نہ دولت رہے گی نہ محلات رہیں گے۔ نہ انسان رہے گا نہ حیوان۔ رہے گی تو صرف علم اور شعور کی روشنی۔ رہے گا تو صرف نام !اس خدمت کا جو انسان اور انسانیت کے لئے کی گئی۔ قائداعظم، علامہ اقبال، ڈاکٹر ر تھ فاؤ، عبداستار ایدھی اور اشفاق احمد اس طرح کی contribution کے چند نام ہیں۔ یہ نام رہتی دنیا تک زندہ رہیں گے”۔

بیٹی: تمام انسان اس طرح کے کیوں نہیں ہو سکتے؟ والد مسکراتے ہوئے! کیونکہ سب ایک جیسا نہیں سوچتے۔

دیکھیئے، ہم سب انسان برابر ہیں۔ ہم سب کے دو ہاتھ، دو پاؤں، ایک ناک اور دو کان ہیں۔ ایک انسان اگر دوسرے انسان سے مختلف ہے تو اپنی سوچ کی بنیاد پر۔ اپنے افکار کی بنیاد پر۔ سوال یہ ہے کہ سب انسان ایک جیسا کیوں نہیں سوچتے؟

سب انسانوں کے ایک جیسا نہ سوچنے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں سوچنا سکھایا نہیں جاتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان جس طرح کے کام اپنے سامنے ہوتے دہکھتا ہے اسی طرح کے سوچنے کا pattern بن جاتا ہے۔ تیسری ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان کو گھر والوں سے جس طرح کی سوچ ملتی ہے وہ اس کو اپنا لیتا ہے۔ چوتھی وجہ انسان کی زندگی میں پیش آنے والے حالات و واقعات ہو سکتے ہیں –

تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ ذہانت کی کئی اقسام ہیں مثلا یادداشت، جذباتی ذہانت اور سماجی ذہانت وغیرہ وغیرہ۔ کافی عرصہ پہلے صرف یادداشت کو ہی ذہانت سمجھا جاتا تھا۔ ذہانت کی مختلف اقسام کے بارے میں دیکھا جائے تو ہمیں مختلف لوگوں میں مختلف قسم کی ذہانت دیکھنے کو ملتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  لینن کی خفیہ محبوبہ انیسا آرمنڈ  کی کہانی(1)

اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو نہ تو یادداشت کے حوالے سے ذہین ہوتے ہیں اور نہ ہی ان میں جذباتی اور سماجی ذہانت پائی جاتی ہے۔ اس طرح کے لوگ زندگی میں بری طرح ناکام ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کا نہ تو کوئی مقصد ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کی رہنمائی لینا پسند کرتے ہیں۔ یہاں جذباتی ذہانت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کو منظم کرنا سیکھ لے۔ ان جذبات میں غصہ، محبت اور نفرت سمیت چوبیس طرح کے دوسرے جذبات شامل ہیں۔ انسان کا اپنے ردعمل پر پوری طرح کنٹرول بھی جذباتی ذہانت کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح سماجی ذہانت میں لوگوں کے ساتھ میل جول، انداز گفتگو، رکھ رکھاو اور تعلقات بنانا جیسے عوامل شامل ہیں۔ یہاں ایک اور اہم بات کی وضاحت کرتی چلوں کہ سماجی ذہانت کی دو اقسام ہیں۔ مثبت سماجی ذہانت اور منفی سماجی ذہانت۔ مثبت سماجی ذہانت کے برعکس منفی سماجی ذہانت میں برا انداز گفتگو اور تعلقات خراب کرنا جیسے عوامل شامل ہیں۔

دنیا میں دوسری قسم کے وہ لوگ شامل ہیں جوصرف بہت اچھی یادداشت کے مالک ہیں۔ اس طرح کے لوگ اپنے پیشہ میں ماہر ہوتے ہیں۔ مگر جذبات کے منظم نہ ہونے اور سماجی ذہانت کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں کی یہ قسم زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ مثلا اگر آپ کسی نا پسندیدہ بات پر بہت زیادہ غصہ کرنے کے عادی ہیں تو اس سے آپ کے آفس کا ماحول ناخوشگوار ہو سکتا ہے۔ دنیا میں تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو اپنے جذبات کو منظم کرنا جانتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ بآسانی رہ سکتے ہیں اور انہیں برداشت بھی کر سکتے ہیں۔ جبکہ جذباتی طور پر منظم لوگوں کو برداشت کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف اپنے پیشہ میں excel کر جاتے ہیں بلکہ اپنے حلقہ احباب میں بھی آہستہ آہستہ مقبول ہو جاتے ہیں۔ صرف پیشہ ور زندگی میں ہی نہیں گھریلو زندگی میں بھی جذباتی طور پر منظم لوگ زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  اصل قصور بھٹو کا ہے

چوتھی قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن میں صرف سماجی ذہانت پائی جاتی ہے۔ یہ سماجی ذہانت مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی۔ مثبت سماجی ذہانت کے حامل لوگ ہر دلعزیز اور لوگوں میں مقبول ہوتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ تعلقات اور میل جول رکھنے کے expert ہوتے ہیں۔ ان لوگوں میں اگر جذباتی ذہانت نہ پائی جائے تو ان کی عادات کے برے پہلو لوگوں کے سامنے کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ منفی سماجی ذہانت کے حامل لوگ ہر طرح کی دوسری ذہانت رکھنے والے لوگوں کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

چنانچہ مختلف قسم کے لوگوں میں مختلف قسم کی ذہانت پائی جاتی ہے اس لئے لوگ ایک دوسرے سے مختلف رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر لوگ یہ جاننا شروع کردیں کہ ان کے ملنے جلنے والوں میں کونسی ذہانت پائی جاتی ہے اور کونسی ذہانت نہیں پائی جاتی تو لوگوں کو سمجھنا آسان ہو جائے۔ اس کے علاوہ چونکہ سب لوگ ذہانت کی تمام اقسام سے بھی واقف نہیں ہوتے اس لئے بھی لوگوں کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ مختلف قسم کے لوگوں میں مختلف قسم کی ذہانت پائے جانے کی مختلف وجوہات ہیں۔ یادداشت کی ذہانت قدرتی طور پر لوگوں مییں پائی جاتی ہے جبکہ جذبات کو منظم کرنا اور سماجی ذہانت سیکھی اور سکھائی جا سکتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مدثرہ رحمان کی دیگر تحریریں
مدثرہ رحمان کی دیگر تحریریں