بے نظیر کو پارٹی سے نکال دیا گیا


بے نظیر کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔۔۔کس جرم میں؟ صرف اس جرم میں کہ اس نے فیس بک پر ا یک پوسٹ لگائی تھی،جس میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے ایک دعائیہ تقریب کا اعلان تھا۔

اکتیس سالہ بینظیر پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہے،اس کا تعلق آسام سے ہے،سیاست میں آئی تو بھائی جنتا پارٹی(بی جے پی)کا انتخاب کیا،2016میں پارٹی نے اسے ٹکٹ دیا مگر اس کے مقابلے میں کانگریس کا امیدوار عبدالخالق جیت گیا۔اب وہ بی جے پی کے مزدور ونگ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن تھی۔کوئی شوکاز ملا نہ وارننگ،بس وٹس ایپ پر اطلاع دی گئی کہ بی بی تم پارٹی سے فارغ ہو،اس لیے کہ پارٹی کا روہنگیا مسلمانوں سے کیا لینا دینا۔

ایک خاص زاویے سے دیکھیے تو یہ کوئی بڑی خبر نہیں،بھارت رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ہے،پارٹیوں میں مسلمان بھی ہیں اور سکھ بھی،عیسائی بھی۔جن مسلمانوں عیسائیوں سکھوں نے سیاست کرنی ہے تو  وہ انہی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کریں گے جو پیش منظر پر چھائی ہوئی ہیں،ایک رکن کو پارٹی سے نکال دیا گیا،بات ختم ہوگئی۔

ایک زاویہ اس خبر کا اور بھی ہے،جو پاکستان اور اہل پاکستان کے لیے ہے،بینظیر عرفان بی جے پی میں تو تھی مگر تھی تو مسلمان۔۔۔پھر روہنگیا کے جن مہاجرین کے لیے کے لیے اس نے پوسٹ لگائی۔اتفاق سے وہ مہاجر بھی مسلمان ہیں،بینظیر نے ایک دعائیہ تقریب کے لیے پوسٹ ہی لگائی،کوئی عملی اقدام نہ کیا۔چندہ جمع کیا نہ مہاجرین کے کیمپ میں گئی،مگر پوسٹ لگانا بھی ناقابلِ معافی جرم بن گیا

پاکستان ایک ایسا طبقہ ہے جو بھارت کی جمہوریت اور سیکولرازم کے گن گاتے نہیں تھکتا۔صاف لفظوں میں نہیں مگر زبانِ حال سے یہ طبقہ اس لکیر کو ناپسند کرتا ہے جو تقسیم کے وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کھینچی گئی تھی۔حالات کی ستم ظریفی کہ یہ طبقہ اب عملی سیاست میں بھی دخیل ہے،مراد صرف غیر مذہبی قوتوں سے نہیں  جنھیں لبرل کہا جاتا ہے،اس میں ایک مذہبی طبقہ بھی شامل ہے۔یہ وہ مذہبی طبقہ ہے جو قائداعظم کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتا،اور کرلے تو جناح صاحب کہتا ہے۔

چند دن پہلے جناب فتح محد ملک نے ایک کالم اس حوالے سے لکھا مگر اس مذہبی طبقے کا ذکر نہ کیا۔شاید ان کا موضوع ذرا مختلف تھا،حقیقت یہ ہے کہ ایک خاص مسلک نے قائداعظم کو اپنے آپ سے الگ تھلگ رکھا،ہم کہتے تو ہیں کہ مولانا اشرف علی تھانوی،مولانا ظفر احمد عثمانی،اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے مسلم لیگ کی تحریک میں پاکستان کی حمایت کہ مگر آج اس مسلک کے نام لیواؤں کی اکثریت ان حضرات کے ساتھ ہے جو شریکِ سفر نہ تھے۔
یوں بھی ہوتا ہے کہ آزادی چرا لیتے ہیں لوگ
قیس کے محل سے لیلیٰ کو اٹھا لیتے ہیں لوگ!

ہاں!مفتی محمد شفیع کے عالم و فاضل فرزندان مفتی محمد رفیع عثمانی اور جسٹس مولانا تقی عثمانی نے تحریک پاکستان کے حوالے سے چراغ اب بھی جلا رکھا ہے۔س ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو سیاسی طور پر عثمان برادران ہی اس جمعیت کے وارث بنتے ہیں،جس نے قائداعظم کے شانہ بشانہ تحریک پاکستان کے لیے کام کیا۔مفتی محمد شفیع مرحوم نے تحریک پاکستان میں عملی طور پر حصہ لیا،اب بھی تحریک پاکستان کی حمایت  ہو یا جمہوریت کے حق میں مذہبی دلائل کی جنگ،عثمانی برادران ہی میدان میں نکلتے ہیں،مگر پیش منظر پر وہ طبقہ چھا گیا جو تحریک پاکستان کے دوران دوسری طرف خیمہ زن تھا،یہ ہائی جیکنگ کیسے ہوئی،اس پر تفصیل سے یا تو ڈاکٹر صفدر محمود قریشی روشنی ڈالیں گے یا  جناب منیر احمد منیر اور ہم طالب علموں کی رہنمائی کریں۔

اسی بارے میں: ۔  فیض صاحب کا ”لوٹس“

ستر سال  میں بھارتی مسلمانوں  کیساتھ جو کچھ ہوا،آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا مگر آنکھیں کھولنے کا ارادہ ہی نہ ہو تو کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
گر نہ ہیند بروز شپرہ چشم
چشمہء آفتاب را چہ گناہ!
چمگادڑ کی آنکھ دن کی روشنی نہ دیکھے تو سورج کا کیا قصور۔۔

بھارت کی سول سروسز میں مسلمانوں کی تعداد اتنی بھی نہیں جتنی کہ آٹے میں نمک کی ہوتی ہے۔بھارتی یونیورسٹیوں میں ریسرچ کرنے والے کچھ سکالرز نے اس کی ذمہ داری مسلمانوں ہی پر ڈالی ہے،کہ یہ لوگ آگے بڑھ کر تعلیم حاصل نہیں کرتے اور مقابلے کے امتحان میں حصہ نہیں لیتے،مگر اس سوال کا جواب یہ ریسرچ کرنے والے نہیں دیتے کہ ایسا کیوں ہے؟۔۔ آخر اس کا سبب کچھ نہ کچھ توہوگا۔مسلمانوں کی اکثریت اس وقت پست طبقات میں شامل ہے۔رکشہ چلاتے ہیں،چھوٹی چھوٹی دکانیں کھولی ہوئی ہیں۔خوشحالی تجارتی گروہ میں ان کی تعداد بہت کم ہے۔رہی صنعت تو وہ ساری کی ساری ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ہاں ان کارخانوں فیکٹریوں میں مزدوری کا کچھ حصہ ضرور مسلمانوں کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے،

پاکستان میں اگر مذہبی انتہا پسندی بڑھی تو بھارت میں بھی بڑھی،فرق یہ ہے کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا شکار خود پاکستانی ہوئے،تاہم بھارت میں مذہبی انتہا پسندی کی تلوار سیدھی مسلمان کی گردنوں پر پڑی،بی جے پی کی حکومت آئی تو بھارتی انتہاپسندی کو اقتدار کی طاقت بھی مل گئی۔ بی جے پی انتہا پسند تحریک آرایس ایس کا سیاسی فرنٹ ہے، یہ موضوع تفصیل کا متقاضی ہے مگر پھر کبھی سہی۔گائے ذبح کرنے پر پابندی لگی اور یہ پابندی مسلمانوں کے لیے مصیبت بن گئی۔کوئی مسلمان زندہ گائے بھی  کہیں لے جا رہا ہو یا بیچ رہا ہو تو قتل کردیا جاتا ہے۔مسلمانوں کے گھروں میں ریفریجریٹر میں بکرے یا بھینس کا گوشت پڑا ہو،تب بھی پوری پوری آبادی نہتے خاندان پر ٹوٹ پڑتی ہے،سینکڑوں واقعات اسی دہشتگردی کے رونما ہوچکے ہیں،تقریباً ہر ریاست نے باری باری گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی،ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں پاکستان میں غیر مذہبی بھارت نواز طبقے  تو ا س ظلم کیخلاف مہر بہ لب ہیں،مذۃبی طبقات نے بھی کوئی احتجاج کیا نہ مذمت!

اسی بارے میں: ۔  جزیرہ

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ آصف علی زرداری  نے بلوچستان کے باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی اہمیت کا بتایا اور یاد دلایا کہ بھارت میں تو گائے کاٹنے پر قتل کردیا جاتا ہے۔بھارت میں واقع مسلمانوں کے مدارس اپنی جان بچانے کے لیے یوم جمہوریہ پر سب سے علی الصبح چھتوں پر ترنگالہراتے ہیں،کاش یہاں مدارس کی اکثریت اس سے سبق سیکھے اور عبرت پکڑے۔ان لاکھوں مدارس میں تحریک پاکستان کے باب میں کچھ پڑھایا جاتا ہے نہ قائداعظم کے بارے میں نصاب میں کوئی ایک آدھ مضمون ہی شامل ہے۔صرف عثمانی برادران کے مدرسہ “دارالعلوم “میں یومِ پاکستان پر تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔کچھ اور مدارس میں بھی ہوتی ہوں گی،مجموعی طور پر ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

بھارت میں تعصب اور تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان لڑکیوں کو ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے اپنے نام بدلنے پڑتے ہیں۔بھارت جو چند مسلمان بھارتی سیکولر ازم کے گیت گاتے ہین،وہ ان حقائق کو جھٹلا تے ہیں مگر یہ ایک چھوٹی سی اقلیت ہے جس کا مسلمان عوام سے کوئی رابطہ نہیں یہ کانگریس اور بی جے پی کے رہنماؤں کیساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور پاکستان میں بھی ایسا ہے جو پاکستان میں مسلمانوں کی حالتِ زار پر پردہ ڈالے رکھنے کا حامی ہے،اس گروہ کو سرحد پار سب ہرا نظر آتا ہے،پاکستان میں اقلیت کیساتھ زیادتی کے اکا دکا واقعات ضرور رونما ہوتے ہیں مگر گجرات سے لے کر ایودھیا تک وہاں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے یہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔

جو کچھ گوہاٹی میں بینظیر عرفان کیساتھ ہوا ہم اہل پاکستان کو ا س سے عبرت پکڑنی چاہیے،کوئی مانے یا نہ مانے،مگر پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت نعمتِ خاص سے کم نہیں۔یہ اور بات کہ اس نعمت کے حوالے سے ہم ناشکرے ثابت ہوئے۔ستر سال سے اس نعمت کو گدھ نوچ رہے ہیں،اس ملک کی لوٹی ہوئی دولت سے بیرون ملک جائیدادوں کے انبار لگا دیے اور بینک بیلنس  کے پہاڑ اکٹھے کرلیے۔مگر اب بھی یہ ملک انہیں کھلا رہا ہے،چاہیے تو یہ تھا کہ ہم اس ملک کی قدر کرتے مگر اسے ایک مثالی ریاست بناتے،یہاں کے حکمران سادگی اور مالی دیانت میں مغربی حکمرانوں سے بھی آگے بڑھتے،میرٹ کا بول بالا ہوتا،قانون کی حکمرانی ہوتی،زرعی اصلاحات کا نفاذ ہوتا۔سرداروں اور جاگیر داروں کی بیخ کنی کردی جاتی،مگر ہم ناخلف ثابت ہوئے،لٹیروں کو حکمران بنا دیا،اور عوام پر پندرہ بیس خاندان مسلط کردیے۔
بینظیر عرفان!ہم اہلِ پاکستان کو تم سے ہمدردی ہے۔

( بشکریہ روزنامہ 92)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔