کراچی اور ایمبولنس 


کراچی میں دو سمندر ہے ایک کھارے پانی کا دوسرا انسانوں کا۔ انہی انسانوں کے بیچ ہم لوگ رہتے ہیں۔ یہ دنیا انسانوں کے سمندر سے بھری پڑی ہیں ۔اور ان  انسانوں کو بیماری اور موت میں اٹھانے والے ایمبولینس پل پل کراچی کی سڑکوں پہ گزرتے رہتے ہیں ۔کس ٹائم کس کو یہ ایمبولنس لے جارہا ہیں یہ کوئی نہیں جانتا ہے۔ اب تو ہر گھڑی ہر پل ہر وقت سانس روک کے رکھنا پڑتا ہے کون جانے کب  کہاں سے موت کی  کالی آندھی آئے گی اور کب خود کش دھماکہ ہوگا اور کب ریموٹ کنٹرول بم کی شکل میں موت کتنے لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائے گا اور کب ٹارگیٹ کلنگ میں گولیوں کی بوچھاڑ کسی ٹریفک حادثے کی صورت اختیار کر لے گا ابھی سانس لے رہے ہیں  اس  کا مطلب ہماری باری نہیں آئی ہیں کون جانے اگلا نشانہ کون بن جائیں .

کسی کی جان بچانے اور معذوری سے بچانے کے لیے پہلا ایک گھنٹہ نہایت اہم ہوتا ہے ہنگامی حالات میں بیمار اور زخمی کو طبعی امداد بروقت ہسپتال پہنچانے میں ایمبولنس انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔کراچی کے علاقوں میں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے نہ کار سوار ایمبولینس کو رستہ دیتے ہیں نہ بائیک سوار حتاکہ ایک تحقیق  کے مطابق ایک تہائی کار ایمبولینس کو راستہ نہیں دیتے ہیں جسکی وجہ سے کئی لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اگر انہی  ایمبولینس کے راستے میں رکاوٹ بننے کیلئے  ایک بائیک ہی کافی ہے اگر ایمبولینس وقت پہ ہسپتال پہنچ جائیں تو کسی کی جان بچ سکے گی اور اس کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  سلمان حیدر کے نام ایک خط

کراچی کی لمبی لمبی سڑکیں جہاں ہر وقت ایمبولنس کی آواز دن رات لوگوں کا جینا حرام کر دیں تو اس شہر کے ایمبولینس والوں سے کچھ نہ کچھ بدلہ لینا چاہیے تاکہ یہ ٹوں ٹا ٹی کرتی ہوئی ایمبولنس خام خواہ ہارن بجانا چھوڑ دیں۔پاکستان میں سب سے زیادہ ایمبولینس کراچی کی سڑکوں میں دوڑتی اور رینگتی ہے خام خواہ بغیر مریض کے ہارن بجاتے ہوئے پورے شہر میں ڈھنڈھورا پیٹتے پھرتے رہتے ہے کہ ہیں کوئی مریض جسے ہم اٹھا کے ہسپتال لے جائیں اسی وجہ سے ان ایمبولنس سے نفرت کرنے والے  سیکڑوں لوگ ہونگے ۔حتاکہ کئی نوجوان  ان ایمبولنس کا راستہ روکتے ہیں اور  دیوار چین بن جاتے ہیں ۔کئی مرتبہ ٹریفک سگنل پہ ان کے سامنے دیوار چین کی طرح نوجوان  سامنے آ جاتے ہیں  اور تو اور ان کے سفر میں بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں ایمبولنس کو رستہ دیں، اس میں آپ کا کوئی پیارا بھی ہوسکتا ہے ٹریفک میں ایمبولنس کے ساتھ تعاون کے لیے ہم سب کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایمرجنسی میں ایمبولنس کے سامنے دیوار چین نہ بنے بلکہ ان کو راستہ دیں  تاکہ کسی انسان کی جان بچ سکیں۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم ایمبولنس کو رستہ دیں اس میں ہم سب کا کوئی پیارا بھی ہوسکتا ہے۔ جبکہ ٹریفک جام میں  ہم سب کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ ہم ایمبولینس کو راستہ دیں تاکہ کسی انسان کی جان بچ سکیں ۔آئیں ہم سب ایک مشن بنائیں  کہ پورے کراچی  میں ایمبولنس کو رستہ دیں، اس میں آپ کا کوئی پیارا بھی ہوسکتا ہے

اسی بارے میں: ۔  ایدھی – یاد آئے گی تجھے میری وفا میرے بعد

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔