سکھ چین اور مولا بخش پکھی واس کی کہانی


adnan Kakar

کہتے ہیں کہ بہت ہی زیادہ پرانے زمانے میں مایا نگر نامی ایک محلے میں سکھ چین نامی ایک شخص رہا کرتا تھا۔ اس کے گھر میں روپے پیسے کی خوب ریل پیل تھی۔ آبا و اجداد بہت پڑھے لکھے تھے۔ شہر بھر میں ان کی امارت اور علم کی دھوم تھی۔ بہت امن پسند لوگ تھے اور اپنے محلے سے باہر جھانک کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ ان کے محلے میں، زور پور نامی کسی دور دیس سے مولا بخش پکھی واس نامی ایک لڑاکا شخص آ کر رہنے لگا۔ اس کے گھرانے کے پاس روپیہ پیسہ یا علم و فضل تو نہیں تھا، لیکن ان کو کہیں سے ایک ڈنڈا مل گیا تھا جسے دکھا کر وہ پکھی واس گھرانہ دوسروں سے قرض حسنہ وصول کیا کرتا تھا۔

ایک دن سکھ چین واپس گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کے گھر کے کچھ برتن ٹوٹے پڑے تھے اور باقی غائب تھے۔ اس نے اپنے لڑکے بھولے سے پوچھا، بھولے، یہ کیا ہوا ہے؟

بھولے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: مولا بخش پکھی واس اور اس کے لڑکے دیوار پھلانگ کر اندر آئے تھے۔ ہمارے سارے برتنوں کو خوب غور سے دیکھا۔ مٹی کے برتنوں پر اعتراض کیا کہ یہ تو نہایت ہی بھدے ہیں اور انہیں اپنا ڈنڈا مار مار کر توڑ دیا۔

سکھ چین: لیکن وہ تو کلاکاری کا نہایت اعلی نمونہ تھے۔ ملتان کے بنے ہوئے تھے۔ ملتان سے بہتر مٹی اور کاریگر تو کہیں نہیں ملتے۔ وہ برتن تو بہت بڑھیا اور مہنگے تھے۔
بھولا: مولا بخش پکھی واس نے انہیں سر پر اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن وزن زیادہ تھا تو زمین پر پھینک دیے اور جو ٹوٹنے سے بچ گئے تھے، انہیں ڈنڈے مار مار کر دکھایا کہ کتنے ناپائیدار ہیں۔
سکھ چین: چلو وہ تو جو نقصان ہوا سو ہوا، اب مجھے پانی کا ایک پیالہ تو دے دو۔ مٹی کے تو سارے برتن توڑ دیے ہیں، چاندی کے پیالے میں پانی دے دو۔
بھولا: سونے چاندی اور پیتل کے سارے برتن تو مولا بخش پکھی واس لے گیا ہے۔
سکھ چین: تم نے انہیں روکا کیوں نہیں؟
بھولا: وہ کہہ رہا تھا کہ گھر لے جا کر ان کی خوب چھان پھٹک کر کے بتائے گا کہ ان میں کچھ دم بھی ہے یا بے کار بنے ہوئے ہیں۔

اگلے دن سکھ چین گھر واپس آیا تو دیکھ کہ اس کے گھر کے صحن میں اس کی ساری کتابیں جل رہی ہیں اور پاس ہی بھولا چارپائی پر بیٹھا ان کو دیکھ رہا ہے۔ دل تھام کر اس نے پوچھا
سکھ چین: بھولے، یہ کتابیں کیوں جلا رہے ہو؟
بھولا: مولا بخش پکھی واس اور اس کے لڑکے دیوار پھلانگ کر آئے تھے۔ گھر کی تلاشی لی اور یہ کتابیں دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ بیکار ردی کیوں گھر میں جمع کی ہوئی ہے۔ اس نے انہیں صحن میں ڈال کر آگ لگا دی تاکہ ہمارا گھر کوڑے سے پاک ہو جائے۔
سکھ چین: لیکن ان میں تو بہت علم تھا۔ ستاروں کی چالیں تھیں۔ پرکھوں کی دانش تھی۔ حساب کتاب جوڑنے کے طریقے تھے جو دنیا میں کسی اور کے پاس نہیں تھے۔
بھولا: مولا بخش پکھی واس نے بتایا تھا کہ ان ستاروں اور حساب کتاب میں کچھ نہیں رکھا ہے۔ اصل شے تو ڈنڈا ہے۔ اس کی پیری کو دیکھ کر سب ہی مرید بن جاتے ہیں۔
سکھ چین: بہت برا کیا تم نے۔ اچھا مجھے دھلے ہوئے کپڑے لا کر دو۔ نہا دھو کر تازہ دم ہوتا ہوں۔
بھولا: سارا کپڑا لتا تو مولا بخش پکھی واس کتابوں کے خالی صندوقوں میں ڈال کر اپنے گھر لے گیا ہے۔ کہتا تھا کہ اتنا سامان ہم لوگوں کے لئے بیکار ہے۔ وہ انہیں اپنے ڈنڈے سے دھو دھو کر خوب نیا کر دے گا اور پہنے گا۔

اگلے دن سکھ چین گھر واپس آیا تو دیکھا کہ بھولا صحن میں جھاڑو دے رہا ہے۔
سکھ چین: کیا ہوا؟ سارے ملازم کہاں گئے ہیں؟ تم خود کیوں جھاڑو دے رہے ہو؟
بھولا: مولا بخش پکھی واس دروازہ توڑ کر اندر آیا تھا۔ کہنے لگا کہ اس کو اپنا گھر بہت تنگ پڑ گیا ہے۔ نہ وہاں برتن رکھنے کی جگہ ہے اور نہ کپڑا لتا رکھنے کی۔ اب وہ ہمارے گھر میں رہا کرے گا۔
سکھ چین: لیکن ہم اب کہاں رہا کریں گے؟ مولا بخش پکھی واس نے تو بہت ظلم کیا ہے۔
بھولا: نہیں نہیں مولا بخش پکھی واس تو بہت اچھا آدمی ہے۔ اس نے پچھواڑے میں نوکر کا گھر خالی کرا کر ہمیں دے دیا ہے۔ اب ہم وہاں رہا کریں گے۔ بدلے میں بس ہمیں اس گھر کی صفائی ستھرائی اور جھاڑ پونچھ کرنی پڑا کرے گی اور مولا بخش پکھی واس جو بھی حکم دے گا وہ ماننا پڑے گا۔ اس کے پاس ڈنڈا ہے جو سب سے بھاری علم ہے۔

اگلے دن سکھ چین گھر واپس آیا، تو دیکھا کہ بھولا برتن دھو رہا ہے۔ کہنے لگا کہ بھولے، تم یہ کیوں کر رہے ہو؟
بھولا: دیکھیں مولا بخش پکھی واس صاحب نے کہا ہے کہ بھولا اچھا نام نہیں ہے۔ اس سے گنوار پنے کی بو آتی ہے۔ آج سے میرا نام احمق ہے۔ اب مجھے یہی کہا کریں۔
سکھ چین: اچھا احمق، یہ بات تو بتاؤ کہ یہ سلسلہ کبھی کہیں رکے گا یا نہیں؟ علم کس چیز میں ہے، تمہیں اس بات کا پتہ ہے؟
احمق: مولا بخش پکھی واس کہتے ہیں کہ ڈنڈا ہی تمام علم کا منبع ہے۔ اس کے آگے سب علم ڈھیر ہو جاتے ہیں۔

سو برس گزر گئے۔ ایک دن بابا احمق بخش کا پڑپوتا نادان بخش چارپائی پر لیٹا حقہ گڑگڑا رہا تھا کہ اس کا بیٹا جاہل بخش اس سے پوچھنے لگا
جاہل: ابا جی، مجھے کبھی آپ نے اپنے آبا و اجداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ وہ کون تھے؟
احمق: بیٹا جاہل، تمہارے لکڑ دادا آرام بخش تھے۔ وہ زور پور کے باسی تھے۔ ان دنوں یہاں ہمارے محلے دولت آباد میں جہالت کا دور دورہ تھا۔ نہ لوگ علم فلکیات سے واقف تھے، اور نہ ہی حساب کتاب جوڑنا جانتے تھے۔ جب سید مولا بخش شاہ صاحب نامی ایک عالم فاضل شخص یہاں ہمارے محلے دولت آباد میں جہالت کے اندھیرے دور کرنے تشریف لائے تو تمہارے لکڑدادا آرام بخش ان کے وطن مالوف سے ان کے ہم رکاب تھے۔ ان دونوں نے مل کر یہ سامنے والی عظیم الشان حویلی تعمیر کی جس کے پچھواڑے میں سید مولا بخش شاہ صاحب کی مہربانی سے ہم لوگوں کو بھی یہ کٹیا مل گئی۔ بہت نیک آدمی تھے سید مولا بخش شاہ صاحب۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

4 thoughts on “سکھ چین اور مولا بخش پکھی واس کی کہانی

  • 10-03-2016 at 11:06 am
    Permalink

    واہ کیا اسم بامسمی کردار ہیں۔ کہانی کا بیانہ بھی بہت خوب ہے۔ آجکل تو مولا بخش کی ہر کوئی سنتا ہے۔ جو نہیں سنتا اس کو یہ نہیں سنتا اس کو ایسی سنا دیتا ہے کہ تا دیر یاد رکھتا ہے۔
    اللہ کرے زور قلم اور ذیادہ ہو…..

  • 10-03-2016 at 1:30 pm
    Permalink

    Bhot khob likhte hain aap

    • 10-03-2016 at 1:31 pm
      Permalink

      بہت شکریہ۔

  • 10-03-2016 at 1:30 pm
    Permalink

Comments are closed.