نئے انتخابات نہیں، نئے نظام کی ضرورت ہے


 

 ملک کو نئے انتخابات کی نہیں، نئے نظام کی ضرورت ہے۔ سوال صرف ایک ہے: مروجہ نظام میں طاقت کا مرکز کون ہے؟ فیصلہ سازی کا حق کس کو حاصل ہے؟ یہ اختیار کا معرکہ ہے۔ طاقت کے مراکز میں موجود عوام کا نمائندہ اس کوشش میں ہے کہ یہ حق اسے مل جائے۔ ریاستی ادارے سمجھتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی کی بہتر نگہبانی کر سکتے ہیں، اس لیے بنیادی فیصلوں کا حق ان کے پاس ہونا چاہیے۔ اس وقت پلڑا اُن کی طرف جھک رہا ہے۔ اس کشمکش نے ایک کو ہیرو اور دوسرے کو ولن بنا دیا ہے۔ اس مسئلے کا حل نئے انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں؟ نئے انتخابات صرف ایک تبدیلی لا سکتے ہیں۔ طاقت کے مراکز میں بیٹھا عوام کا نمائندہ بدل جائے۔ مسئلہ تو پھر بھی باقی رہے گا۔ اور اگر ن لیگ واپس آجاتی ہے توتصادم بڑھ جا ئے گا۔

نئے انتخابات کی تجویز اس مفروضے پر مبنی ہے کہ عوام نے چونکہ فیصلوں کا اختیار نواز شریف صاحب کو دیا تھا اور وہ اب وزیراعظم نہیں رہے، اس لیے اب دوبارہ عوام سے معلوم کیا جائے کہ وہ یہ حق، ان کے بعد کس کو دینا چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ مفروضہ ہی درست نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ عوام نے جو حق نواز شریف کودیا تھا، ریاست کے دوسرے ادارے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں۔ جب فیصلے کہیں اور ہونے ہیں تو عوام کا نمائندہ بدلنے سے کون سے تبدیلی آ جائے گی؟

برسوں سے بالفعل عوام کا نمائندہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ قومی سلامتی اور مفاد سے متعلق بنیادی فیصلے کر سکے۔ وہ چاہے تو سڑکیں بنائے، میٹرو چلائے یا ایوان صدر میں بیٹھ کر اپنے کاروباری معاملات طے کرے، کسی کا اس کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں۔ جب وہ یہ چاہے گا کہ امریکی امداد اس کی صوابدید کے مطابق خرچ ہو یا خارجہ پالیسی وہ ترتیب دے یا داخلی سطح پر وہ اُن لوگوں کو روکے جو پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں تو اس کا ہاتھ روک دیا جاتا ہے۔ اگر وہ اشارہ سمجھ جائے تو پانچ سال ایوانِ صدر میں بیٹھا رہے۔ اگر نہ سمجھے تو اس کا ہاتھ توڑ دیا جا تا ہے۔ وہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے نااہل ہو جا تا ہے۔

یہ نظام آج بھی قائم دائم ہے۔ ممتاز تجزیہ نگار سلیم صافی نے 23 دسمبر کو اپنے کالم میں لکھا: ”پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے تاریخ میں پہلی بار سٹریٹیجک اور دفاعی تصورات تبدیل کر کے مغرب سے رخ مشرق اور شمال کی طرف موڑنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اور یوں یہ پاکستان کی تاریخ کا نازک ترین موڑ ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت خارجہ اور داخلی پالیسی کے روایتی تصورات کو بدلنے کا آغاز کر چکی ہے اور شاید اسی تسلسل میں پاکستان کے اندر کی جہادی تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے کا حساس ترین عمل شروع ہو چکا ہے‘‘ ۔

یہ جملے کسی وضاحت کے محتاج نہیں۔ یہ بتا رہے ہیں کہ ملک میں بنیادی فیصلے کون کرتا ہے؟ خارجہ امور کون طے کرتا ہے؟ سٹریٹیجک تصورات کا رخ بدلنے کااختیار کس کے پاس ہے؟ فیصلے کا یہ اختیار اگر اسی طرح باقی رہتا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر نوازشریف تشریف فرما ہیں، شاہد خاقان بیٹھے ہیں یا کوئی اور؟ نوازشریف کے اس انجام کے بعد کوئی یہ جرات کر سکے گا کہ فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے؟

جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یا جو سلیم صافی صاحب نے لکھا، یہ کوئی انکشاف نہیں۔ ہر وہ آدمی یہ بات جانتا ہے جو سیاسی حرکیات پر نظر رکھتا ہے۔ اس وقت وفاقی حکومت نمائشی ہے۔ اقتدار اگر قوتِ فیصلہ یا اختیار کا نام ہے تو وہ اس کو حاصل نہیں۔ اگر اقتدار کے مراکز میں عوام کی نمائندگی کرنے والا اس نظام کو قبول کرتا ہے تو وہ باقی رہ سکتا ہے۔ اور اگر انکار کرتا ہے تو نشانِ عبرت بن سکتا ہے۔اس صورت حال کو نئے انتخابات تبدیل نہیں کر سکتے۔

اس ساری بحث کا کوئی تعلق نوازشریف صاحب پر لگے الزامات سے نہیں۔ اگر کسی شبے کے بغیر یہ ثابت ہوجائے کہ وہ بدعنوان ہیں تو بھی یہ مسئلہ باقی رہے گا۔ اگر وہ نیک نام ثابت ہو جائیں تو بھی صورتِ حال میں کوئی جوہری فرق نہیں آئے گا۔ اس بحث کا تعلق افراد سے نہیں، نظام سے ہے۔ نوازشریف صاحب کے خلاف مقدمات کے ذکرسے صرف خلطِ مبحث ہی پیدا کیا جا سکتا ہے اور یہ کامیابی سے پیدا کر دیا گیا ہے۔

مروجہ نظام میں طاقت کے دوسرے مراکز کی قوت دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے عوام کے پاس یہ حق تو تھا کہ وہ طاقت کے ان مراکز میں اپنے نمائندے کو بھیج یا نکال سکتے ہیں۔ اب اس نظام نے نکالنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ یوں ایک حد تک بھیجنے کا حق بھی اسے منتقل ہو گیا ہے۔ بات اسی طرح آگے بڑھتی رہی تویہ حق بھی اس نظام کو مل جائے گا کہ وہ کسی کے لیے صادق اور امین ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ سوال یہ ہے کہ نئے انتخابات اس صورت حال کو کیسے بدل سکتے ہیں؟

اہلِ دانش کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم ازکم بحث کو تو درست خطوط پر اٹھائیں۔ اگر ہم اس سوال کو زیرِ بحث ہی نہیں لائیں گے جو دراصل ہمیں درپیش ہے تو پھر حل تک کیسے پہنچیں گے؟ میرے نزدیک اگر یہ بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو 2018ء کے انتخابات سے بھی ملک میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئے گا۔ سادہ سی بات ہے کہ بنیادی فیصلے جب عوام کے نمائندوں کو نہیں کرنے تو ان کو تبدیل کرنے سے بھی حالات تبدیل نہیں ہو ں گے۔

آج حکومت کے دو ہی ماڈل ممکن ہیں۔ ایک وہ جو آئین دیتا ہے۔ ایک پارلیمانی جمہوری نظام جس میں عوام یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہوگا۔ اقتدار سے مراد قوت ِ فیصلہ ہے۔ دوسرا ماڈل یہ ہے کہ یہ فیصلہ ریاستی ادارے کریں کہ کون صادق اور امین ہے اور کسے وزیرِاعظم یا وزیر ہونا چاہیے۔ اسے ٹیکنوکریٹس کی حکومت کا مہذب نام دیا جاتا ہے۔ آئین اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کا آسان حل مو جود ہے۔ کوئی درخواست لے کر سپریم کورٹ چلا جائے اور اس کے جواز کی سند لے آئے۔ بنگلہ دیش میں اس کی نظیر مو جود ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اعلیٰ ترین عدالت کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں ہو سکتا۔

بحث اب اسی نظام کے دائرے میں ہو نی چاہیے۔ پاکستان کو آج کون سا نظام چاہیے؟ وہ پارلیمانی جمہوری نظام جوآئین دیتا ہے اور جس میں طاقت کا مرکز عوام کے نمائندے ہیں یاوہ جس میں طاقت کا مرکز کہیں اور ہے اور فیصلے کا اختیار کسی اور کے پاس ہے؟ فوری انتخابات ہمارے مسئلے کا حل نہیں۔ اہلِ دانش سے گزارش ہے کہ وہ بحث کو درست دائرے میں آگے بڑھائیں۔ ہمیں آج طے یہ کرنا ہے کہ اس ملک کو کیسا سیاسی بندو بست چاہیے؟ اس سوال کاجواب نئے انتخابات کے پاس نہیں ہے۔ انتخابات جب بھی ہوں طے وہ آئین کے دائرے میں ہوں گے اور اس وقت اس دائرے پر ہی اتفاق نہیں۔

 

اسی بارے میں: ۔  جب مجھے حمزہ شہباز کی گرفتاری کا حکم ملا۔۔۔

معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو ابھی مزید تجربات سے گزرنا ہے۔ اسے ہماری آرزوؤں کے لیے مزید تختہ مشق بننا ہے۔ میں اس وقت سے ڈرتا ہو جب تجربات سے گھبرا کر لوگ یہ کہیں کہ مارشل لا ہی اچھا ہے کہ کم ازکم ایک ‘لا‘ تو ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگ مارشل لا کا ترجمہ ‘لاقانونیت‘ (no law)کرتے ہیں۔ چلیں، ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ مارشل لا میں سب کو یہ معلوم تو ہوتا ہے کہ اختیار کس کے پاس ہے۔ آج تو یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ ملک میں کوئی نظام ہی نہیں۔ حکومت ن لیگ کی ہے اور زیرِعتاب بھی نواز شریف کا خاندان ہے۔ پوری قوم بے یقینی کی کیفیت میں ہے۔ کاش ہم آئین کو مانتے۔ اگر ہم اس پر آمادہ نہیں تو کوئی متبادل تو دیں۔ کم ازکم لوگ اس اضطراب سے تو باہر آئیں۔ نئے انتخابات متبادل نہیں ہو سکتے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔